جوڈیشل کمپلیکس منصوبہ سفید ہاتھی ہے‘ ہائیکورٹ بار بھی مسئلہ اٹھائے: شیخ فہیم

جوڈیشل کمپلیکس منصوبہ سفید ہاتھی ہے‘ ہائیکورٹ بار بھی مسئلہ اٹھائے: شیخ فہیم

ملتان (سپیشل رپورٹر) کچہری بچا¶ تحریک کے کنوینئر شیخ محمد فہیم نے کہا ہے کہ ڈسٹرکٹ بارنے جوڈیشل کمپلیکس منصوبہ کو مسترد کرکے ہزاروں وکلاءکے موقف کو عدالتی ایوانوں تک پہنچا دیا ہے اب ہائیکورٹ بار بھی وکلاءکے اس اہم مسئلہ کو اپنی سطح پر اٹھائے جوڈیشل کمپلیکس منصوبہ سفید ہاتھی ہے جس سے ایک جانب وکلاءاور عوام تکلیف کا شکار ہونگے تو دوسری جانب حکومت کے بھی کروڑوں روپے کا ضیاع ہے اگر موجودہ عدالتی جگہ کا بہتر استعمال کرکے پولیس لائن کی جگہ پر نئے کمپلیکس بنائے جائیں تو حکومت کے کروڑوں روپے بھی بچ سکتے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر انہوں نے مزید کہا کہ بحیثیت کنوینر کچہری بچا¶ تحریک میں ڈسٹرکٹ بار ملتان کا مشکور ہوں کہ انہوں نے اس تحریک کو اب بار کی سطح سے بھی بلند کر دیا ہے یہ صرف میرا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ اس بار کے ہزاروں وکلاءاورلاکھوں عوام کا سنگین مسئلہ ہے جس جنگل میں وکلاءکو دھکیل کر پھینکا جا رہا ہے وہاں نہ تو چیمبرز ہیں اور نہ ہی تمام بکھری عدالتیں جمع ہیں یوں یہ پورا خطہ ہمیشہ کے لئے ایک عذاب کا شکار ہو جائے گا ہم اس خطہ کے عوام کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں اگر موجودہ کچہری کی جگہ پر عدالتی کمپلیکس اور پولیس لائن کی خالی جگہ کو قبضہ میں لیا جائے تو جدید جوڈیشل کمپلیکس بن سکتا ہے جہاں سے اگلے دو سوسال تک تک کے مسائل کا حل ہو سکے گا اس بابت میرے پاس مکمل پروگرام اور ڈیزائن بھی موجود ہے انہوں نے کہا کہ ہماری آواز کو بار نے چیف جسٹس آف پاکستان تک پہنچا کر دراصل اس خطہ کے عوام پر احسان کر دیا ہے جوڈیشل کمپلیکس کا منصوبہ دراصل وکلاءکو تقسیم کرنے کی بھی ایک سازش ہے جس پر ہم کسی صورت بھی عمل نہیں ہونے دینگے اگر بار اس بات میری خدمات حاصل کرے گی تو میں بار کے ساتھ ایک ادنی کارکن کے طور پر کام کرتا رہوں گا اس موقع پر ان کے ہمراہ ایڈووکیٹ حماد افضل باجوہ ضیاءمحی الدین شیخ جمیل بھی موجود تھے۔