سول سوسائٹی کی تنظیموں کا میانمار کے مسلمانوں پر مظالم کیخلاف پریس کلب کے باہر مظاہرہ

سول سوسائٹی کی تنظیموں کا میانمار کے مسلمانوں پر مظالم کیخلاف پریس کلب کے باہر مظاہرہ

لاہور(خبر نگار+ لیڈی رپورٹر) سول سوسائٹی نیٹ ورک، بی جی فائونڈیشن اور دیگر تنظیموں نے روہنگیا (برما) کے شہریوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف لاہور پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرہ کا مقصد معصوم بے گناہ شہریوں کے قتل عام کی مذمت کرنا اور ان پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھانا تھا ہم یہ سمجھتے ہیں کہ سب سے پہلے روہنگیا کے شہری انسان ہیں اور بعد میں ان کا کسی مذہب سے تعلق ہے لہذا انسانیت کی بنیاد پر ان کے حقوق کی بات کرنا ہی اولین ترجیح ہے۔ اس موقع پر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے سول سوسائٹی نیٹ ورک کے صدر عبداللہ ملک نے کہا کہ ہم حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں وہ اپنے سفارتی ذرائع استعمال کرتے ہوئے انڈونیشیا، ملائیشیا اور تھائی لینڈ کی حکومتوں سے اپیل کرے کہ وہ کھلے سمندر میں کشتیوں میں سوار میانمار کے شہریوں کو لنگر انداز ہونے کی نہ صرف اجازت دیں بلکہ انہیں زندہ رہنے کے لیے خوراک کا بندوبست بھی کریں۔ میانمار کی حکومت کو باور کرایا جائے کہ روہنگیا کے مسلمان انتہائی تشویش کے عالم میں مبتلا ہیں۔ اور ان پر ہونے والے انسانیت سوز سلوک کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ میانمار کی حکومت ان کا دیرینہ مطالبہ پورا کرتے ہوئے انہیں اس ملک کا شہری قرار دے۔ اس موقع پر سماجی کارکن بی جی نے کہا کہ ہم نہتے اور معصوم شہریوں کے بیہمانہ قتل پر میانمار کی حکومت کی مذمت کرتے ہیں اور مشکل کی اس گھڑی میں ہم ان دردمندوں کے ساتھ ہیں۔ مظاہرہ میں سول سوسائٹی کے نمائندوں اور شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی جن میں آمنہ الفت، جہاں آرا وٹو، ڈاکٹر زرقا، تنزیلہ عمران، آمنہ ملک، افتخار بٹ، ساجدہ میر، سینئر صحافی تاثیر مصطفٰی و دیگر شخصیات شامل تھیں۔