کم عمری کی شادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے‘ چائلڈ میرج ایکٹ کو موثر بنایا جائے

لاہور (لیڈی رپورٹر) پاکستان میں13 فیصد لڑکیاں 15سے 19 سال کی عمر میں شادی شدہ زندگی کی ذمہ داریوںکا بوجھ اٹھانے پر مجبور کر دی جاتی ہیں جبکہ دنیا بھر میں روزانہ 25ہزار بچیوں کو دلہنیں بنا دیا جاتا ہے اور روزانہ 6کروڑ لڑکیاں 18ویںسالگرہ کی عمر کو پہنچنے سے قبل شادی کے بندھن میں بندھنے کی وجہ سے ذہنی وجسمانی صحت کے پیچیدہ مسائل کا شکار ہو جاتی ہیں۔ کم عمری کی شادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، چائلڈ میرج ایکٹ1929 پر نظر ثانی کرکے اسے مو¿ثر بنایا جائے اور اس پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے، چائلڈ میرج کے خاتمے کیلئے تمام طبقات کو متحد ہوکر کردار ادا کرنا ہوگا۔ مقررین نے ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز فیملی پلاننگ ایسوسی ایشن پاکستان کے زیر اہتمام میڈیا ورکشاپ سے خطاب میں کیا۔ مقررین میں رہنما فیملی پلاننگ ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسرسید کمال شاہ ، ڈائریکٹرز آمنہ اکشید اور نبیلہ زار مالک، پروگرام کوآرڈینیٹر عائشہ صادق ودیگر شامل تھے۔ مقررین نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں کم عمری کی شادی بطور رسم چلی آرہی ہے جوکہ انسانی حقوق کے ان تمام عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی ہے جن پر پاکستان دستخط کرچکا ہے۔ نبیلہ زار مالک نے کہا کہ کم عمری کی شادیاں دوران زچگی ماو¿ں اور شیر خوار بچوں کی شرح اموات میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔ اس موقع پر ایک ڈرامہ بھی دکھایا گیا جس میں بچپن کی شادی کے نتیجے میں پیش آنے والے مسائل کا احاطہ کیا گیا تھا۔