بھارت کو دریائے نیلم کا رخ تبدیل کرنیکا اختیار نہیں : ظہور الحسن ڈاہر

ملتان (لیڈی رپورٹر) سندھ طاس واٹر کونسل پاکستان کے چیئرمین ورلڈ واٹر اسمبلی کے چیف کوارڈی نیٹر حافظ ظہور الحسن ڈاہر نے کہا ہے کہ کشن گنگا پراجیکٹ کے نئے ڈیزائن میں بھارت نے دریائے نیلم کا رخ موڑ دیا ہے جو کہ سندھ طاس معاہدہ کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نوائے وقت سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سندھ طاس معاہدہ میں یہ واضح ہے کہ بھارت مغربی دریا¶ں اور ان کے معاون ندی نالوں کا نہ کیچ منٹ ایریا تبدیل کر سکتا ہے اور نہ ان کا رخ موڑ سکتا ہے جیسا کہ کشن کنگا پراجیکٹ کے تحت 27 کلومیٹر طویل ایک ٹنل کے ذریعے دریائے نیلم کا رخ موڑ کر دریائے جہلم میں ڈال رہا ہے اگرچہ گیٹ بھی لگائے جائیں تو پھر بھی دریائے نیلم کا سارا پانی زیر زمین ٹنل کے ذریعے دریائے جہلم میں جائے گا چونکہ یہ ٹنل سطح زمین سے کہیں نیچا رکھا گیا ہے جو سندھ طاس معاہدہ کی صریحاً خلاف ورزی ہے بھارت ایشیاءکا سب سے بڑا بیراج جسے وولر بیراج کہا جاتا ہے چوتھی بار تعمیر کرتے ہوئے وولر بیراج سے دو بڑی نہریں نکال کر دریائے چناب سے گزار کر دریائے راوی اور ستلج میں ڈال رہا ہے تاکہ راجستھان کا وسیع بنجر علاقہ سیراب کر سکے۔ حافظ ظہور الحسن ڈاہر نے کہا کہ اب پاکستانی عوام کو اپنے حق کے لئے اٹھ کھڑے ہونا چاہئے تاکہ بھارت کی آبی ڈاکہ زنی کو روکنے میں کامیاب ہو سکیں اور عالمی ثالثی عدالت کے ذریعے بھارت کے سندھ پاس معاہدہ کی کھلی خلاف ورزی کرنے پر سائٹ معائنہ کی اپیل کی جا سکے۔