بھارت سے مذاکرات میں مسئلہ کشمیر کو سائیڈ لائن نہیں کر سکتے: وزیر خارجہ

ملتان (سپیشل رپورٹر) وزیر خارجہ پاکستان شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ شاندار اور تاریخی ہے۔ اس فیصلہ سے ملک میں جمہوریت مضبوط اور مستحکم ہو گی۔ مسئلہ کشمیر کو حل کئے بنا مذاکرات کا عمل انڈیا سے آگے نہیں بڑھایا جا سکتا تاہم تواتر سے ملاقاتیں تعلقات کو معمول پر لا سکتی ہیں۔ امریکہ اور انڈیا کے درمیان اسلحہ کے معاہدہ سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات متاثر نہیں ہوں گے۔ پاکستان اسلحہ کی دوڑ کو خطہ کے لئے خطرہ سمجھتا ہے تاہم پاکستان اپنے دفاع سے غافل نہیں۔ پاکستان آسیان ممالک اور وسط ایشیائی ریاستوں کے درمیان تجارتی تعلقات قائم کرائے گا جبکہ روس‘ افغانستان اور تاجکستان سے ریل اور سڑک کے ذریعے نئے راستوں سے نئی تجارتی منڈیاں قائم کرے گا۔ تاجکستان سے آئندہ چند برسوں تک ایک ہزار میگاواٹ تک بجلی بھی حاصل کی جائے گی۔ ملتان ایئرپورٹ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا ابھی مختصر آرڈر سامنے آیا ہے۔ یہ آرڈر تاریخی اور انتہائی بہترین فیصلہ ہے۔ اس فیصلہ سے ملک میں جمہوریت کو استحکام ملے گا۔ اور ملکی معیشت پر بھی دوررس نتائج مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا ہم سمجھتے ہیں کہ مسائل کا حل جنگ میں نہیں مذاکرات میں پنہاں ہے۔ ہماری ترجیح مسلسل ڈائیلاگ ہے۔ ہم نے تو مذاکرات کے لئے کسی تھرڈ پارٹی پر بھی اعتراض نہیں کیا تھا۔ خطہ کی ترقی کے لئے امن ضروری ہے۔ تاہم مذاکرات میں مسئلہ کشمیر کو سائیڈ لائن نہیں کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسیان ممالک کو وسط ایشیائی ریاستوں کی منڈیوں تک رسائی میں پاکستان پل کا کردار ادا کرے گا جبکہ تاجکستان سے توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لئے بھی مدد حاصل ہو گی۔