شمالی وزیرستان: قافلے پر حملہ‘ 2 اہلکار شہید‘ جوابی کارروائی میں 5 دہشت گرد ہلاک

شمالی وزیرستان+ پشاور+ کوئٹہ  (نیوز ایجنسیاں+ بیورو رپورٹ+ نوائے وقت رپورٹ) شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے سکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملے میں 2 اہلکار شہید ہو گئے جبکہ سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں 5 دہشت گرد ہلاک ہوگئے جبکہ پشاور اور کوئٹہ میں سرچ آپریشن کے دوران گزشتہ روز 185مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔  تفصیلات کے مطابق جمعہ کے روز شمالی وزیرستان کی تحصیل غلام خان میں سکیورٹی فورسز کاقافلہ معمول کی گشت پر تھا کہ اس دوران درجن سے زائد دہشت گردوں نے فورسز کی گاڑی پر حملہ کردیا اور اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں 2 اہلکار موقع پر ہی شہید ہوگئے جبکہ سکیورٹی فورسز کی بروقت جوابی فائرنگ سے 5 دہشت گرد مارے گئے جبکہ دیگر دہشت گرد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے، واقعہ کے بعد سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور دہشت گردوں کی تلاش کے لئے پورے علاقے کو گھیرے میں لیکر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ علاوہ ازیں پولیس کے مطابق پشاور کے علاقے یکہ توت اور وزیر باغ سمیت مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں میں 82 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ اس سے قبل پشاور کے علاقے تہکال، یونیورسٹی ٹاؤن اورگلبرگ میں بھی پولیس کی جانب سے سرچ آپریشن کیا گیا جس کے دوران 4 افغان باشندوں سمیت 28 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا جنہیں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ۔ دریں اثناء کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز نے سرچ آپریشن کرتے ہوئے 75 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا۔ایف سی پولیس اور لیویز نے شالدرہ ، مدرسہ روڈ اور سریاب کے مختلف علاقوں میں مشترکہ سرچ آپریشن کیا۔ علاوہ ازیں ایف آئی اے نے لورالائی میں سرچ آپریشن کرکے 2دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا۔ علاوہ ازیں لورالائی کے علاقے کنگری میں نامعلوم مسلح افراد نے مسافر کوچ پر فائرنگ کر دی جس کے باعث ایک سکیورٹی اہلکار جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ جمعہ کو لورالائی سے ملتان جانے والی مسافر کوچ پر نامعلوم مسلح افراد نے کنگری کے علاقے میں اندھادھند فائرنگ کی اہلکار محمد رفیق موقع پر ہی دم توڑ گیا جبکہ 2مسافر زخمی ہو گئے۔