ہوٹلوں میں افطاری کیلئے فیملیز کا رش

عنبرین فاطمہ ۔۔۔ 
گھروں میں افطاری کرنا تو رمضان میں معمول کی بات ہے لیکن ہوٹلوں اورریسٹورنٹس میں افطاری کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل افطاری کے وقت ہر دوسرے ریسٹورنٹ میں فیملیز کا ایک بڑا ہجوم دیکھنے کو ملتا ہے۔ریسٹورنٹ مالکان کی جانب سے دی جانے والی پر کشش افطاری آفرز بلاشبہ روزہ داروں کی توجہ اپنی طرف کھینچتی ہے ۔افطاری کے لئے باقاعدہ طور پر دو سے تین دن قبل بکنگ کروانی پڑتی ہے۔افطار کے ساتھ ساتھ ریسٹورنٹس میں ”سحری“ کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے سحری کے وقت بھی ریسٹورانٹس میں فیملیز کا خاصا رش پایا جاتاہے۔ایسا ہی رش ہم نے عین افطاری کے وقت ”فضل حق ڈیرہ“ پر دیکھا۔ہم نے وہاں افطاری کےلئے موجودفیملیز سے بات چیت کی جونذر قارئین ہے۔ناہید خان (گھریلو خاتون) نے کہا کہ مجھے گھر میں مہمانوں اور رشتہ داروں کو بلا کر افطاری کروانا بہت اچھا لگتا ہے لیکن چونکہ اس مرتبہ مہمان زیادہ تھے اور میں اکیلی تمام افطاری تیار نہیں کر سکتی تھی اس لئے نہ چاہتے ہوئے بھی سب کو ریسٹورنٹ میں مدعو کرنا پڑا۔جہاں تک گھر سے باہر افطاری کرنے کی بات ہے تو باہر رشتہ داروں اور دوستوں کے ساتھ افطاری کرنے کا الگ ہی مزہ ہے پیسے زرا زیادہ لگ جاتے ہیں لیکن اچھا لگتا ہے کیونکہ آج کل کی تیز رفتار زندگی میںمل کر بیٹھنے کا موقع کم کم میسر آتا ہے ۔مریم شہوار (ورکنگ لیڈی) نے کہا کہ گھر میں افطاری کرنا تو ایک روٹین ہے لیکن کبھی کبھار فیملی کے ساتھ اس طرح باہر نکل کر افطاری بھی ضرور کرنی چاہیے۔نعمان سعید(طالب علم) نے کہا کہ باہر افطاری کرنا اچھا لگتا ہے اور ہر روز تو باہر افطاری کی نہیں جا سکتی لیکن رمضان کے مہینے ایک آدھی بار ضرور باہر افطاری کی جانی چاہیے۔نازش سلیم (گھریلو خاتون) نے کہا کہ رمضان کے بابرکت مہینے کی رونقیں اپنے عروج ہیں ایسے میں جہاں تمام دنیا کے مسلمان جوش و خروش سے عبادت میں مشغول ہیں وہاں سحروافطار کے پر اہتمام دسترخوان کا اہتمام بھی کیا جارہا ہے کچھ سال پہلے جہاں فیملیز میںخاص افطار پارٹیوں کا اہتمام کیا جاتا تھا آج گھر میں افطار کی بجائے ہوٹلز میں مدعو کرنے کو ترجیح دی جاتی ہے گھر میں دسترخوان سجانے کی ایک الگ رونق اور مزہ ہوتا ہے ۔ لیکن وقت کی تیز رفتاری کے ساتھ جہاں بہت سی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں وہاں گھر کی دعوتوں کا متبادل ہوٹلز کی افطار پارٹیوں کی صورت میں چل نکلا ہے ہر وقت کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں جن کو بعض دفعہ نہ چاہتے ہوئے بھی پورا کرنا پڑتا ہے۔ثمن اکبر (گھریلو خاتون) نے کہا کہ بڑھتے ہوئے ہوٹلنگ کے ٹرینڈ کے ساتھ ہوٹلزبھی بے شمار افطار ڈیلز کی آفر کرتے ہیں جو شام افطار کے وقت سے لے کر رات گئے تک جاری رہتی ہیں ۔رمضان کے آغاز سے ہی لاہور میں ہوٹلنگ کی مشہور جگہوں پر رش دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔گھر میں دعوت دینے کی بجائے مہمانوں کو بھی ریسٹورنٹ میں ہی مدعو کر لیا جاتا ہے یوں وقت کی بچت ہوجاتی ہے اور ایک سے ذائد ڈشیں ایک ہی جگہ مل جاتی ہیں۔ نوشین عماد(گھریلو خاتون) نے کہا کہ ریسٹورنٹ میں افطاری کرنے کا رجحان تیزی سے زور پکڑ رہا ہے ہر دوسرے ریسٹورنٹ میںاس قدر زیادہ رش ہوتا ہے کہ تل دھرنے کی جگہ نہیں ملتی۔اس کے لئے دو سے تین دن پہلے بکنگ کروانی لازم ہوتی ہے تاکہ مطلوبہ ہوٹل میں اپنی سیٹیں پہلے سے ریزرو کروائی جا سکیں ورنہ عین وقت پر کسی بھی ریستوران میں جگہ ملنا تقریباً نا ممکن ہوتا ہے۔ان ہوٹلز یا ریسٹورنٹس میں روایتی افطار سے ہٹ کرکھانے کی خاص ڈشیں پیش کی جاتی ہیں۔افطار کے آغاز میں تو مشروب اور کھجور دی جاتی ہے لیکن اس کے بعد فارمل ڈنر کا آغاز کر دیا جاتا ہے جس میں چائینز،پاکستانی ،عربین سمیت کئی ممالک کے کھانے مینیو میں شامل ہوتے ہیں۔ہوٹلز کے علاوہ فاسٹ فوڈ ریستوران اور کیفے کا رش بھی دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔جہاں معمول سے ہٹ کر ڈسکاﺅنٹ میں مختلف ورائٹیز کے کھانے فراہم کئے جاتے ہیں اور ان آفرز کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عوام کا رش ان جگہوں پر حد سے زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ریسٹورنٹ کے مالک ”جاوید اقبال“ نے کہا کہ رمضان میں سحری و افطاری میں لوگوں کا بہت زیادہ رش ہوتا ہے ان کا رجحان دیکھتے ہوئے ہی ہم ہوٹل مالکان کو سستی ڈیلز دینی پڑتی ہیں تاکہ لوگ سحر و افطار کا مزہ اٹھا سکیں۔دوسرے ہوٹلوں کے مقابلے میں ہم روزہ داروںکو سحر و افطار کی بہترین ڈیلز آفرز کر رہے ہیں۔ریستوران کے بڑھتے ہوئے ٹرینڈ باوجود گھر کے کھانے اور دسترخوان کی اپنی شان اور اہمیت ہے جس سے انکار نہیںکیا جاسکتا۔