رمضان بازار

آمنہ صفدر ۔۔۔
رمضان کی آمد کے ساتھ ہی حکومت پنجاب کی جانب سے مختلف رمضان بازاروں کا اعلان کر دیا گیا۔ لاہور میں یہ رمضان بازار تقریباً 20 مختلف مقامات پر قائم کئے گئے ہیں۔ ان میں سے مکہ کالونی، مین فیروزپور روڈ، چوک بیگم کوٹ، ماڈل بازار سبزہ زار، مین جی ٹی روڈ، جلو موڑ، انور بازار غازی آباد، تاج پورہ، ہربنس پورہ، پارکنگ گراﺅنڈ چوک شالیمار اور گول گراﺅنڈ شادباغ و دیگر جگہیں شاملہیں۔ ان رمضان بازاروں میں آٹے اور چینی کے علاوہ دیگر اشیاءخور و نوش مہیا ہوں گی۔ ان رمضان بازاروں کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہاں پر بہترین کوالٹی کی اشیاءسستے داموں میں مہیا ہوں گی۔ پھل سبزیاں، دالیں، آٹا گوشت اور انڈے بالکل تازہ ان بازاروں میں دستیاب ہوں گے۔ رمضان بازاروں کی کوالٹی کو برقرار رکھنے کے لئے کمپلینٹ آفس قائم کئے گئے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ گورنمنٹ آفیسرز اور ڈسٹرکٹ آفیسرز کا بھی ان رمضان بازاروں کا دورہ یقینی ہے تاکہ اشیاءکی قیمت فروخت پر نظر رکھی جا سکے۔ لیکن ان تمام اقدامات کے باوجود کم کوالٹی کی اشیاءزیادہ مہنگی اشیاءکی کیٹیگری میں رکھ کے فروخت کی جاتی ہیں۔ کئی رمضان بازاروں میں تو چیزیں مناسب ریٹ پر دستیاب ہیں لیکن بہت سے بازاروں میں اشیاءکی قیمتیں مارکیٹ ریٹ پر مہنگے داموں فروخت کی جا رہی ہیں۔ رمضان بازاروں میں عوام کی سہولت کے لئے خاص رمضان پیکجز تیار کئے گئے ہیں۔ ہر پیکج آٹا، چینی، دال، بیسن، چاول اور گھی پر مشتمل ہے۔ ان پیکجز کے علاوہ ٹھیلوں پر فروخت کرنے والے اپنی من پسند قیمت وصول کرتے ہیں۔ فروخت کار نہایت ہوشیاری سے گورنمنٹ آفیسرز اور خریداروں کو دھوکہ دینے میں کامیاب رہتے ہیں کیونکہ اچھی کوالٹی کی اشیا اوپر سجا کر رکھ دی جاتی ہیں اور نیچے رکھا ہوا مال انتہائی ناقص کوالٹی کا ہوتا ہے اور بعد میں کم کوالٹی کی اشیاءبھی اسی قیمت میں فروخت کر دی جاتی ہیں۔ کمیٹی آفیسرز کی چیکنگ کے باوجود مسئلہ جوں کا توں ہے اور عوام تک سہولت اصل صورت میں نہیں پہنچ پا رہی۔ ایک سروے میں یہ دیکھا گیا ہے کہ آٹے کی قیمت ان بازاروں میں عام دنوں کے ریٹ پر ہی دستیاب ہے۔ رمضان کا مہینہ جہاں صبر و قناعت کی تربیت دیتا ہے وہاں دیانت اور ایمانداری بھی اہم جزو ہے لیکن رمضان بازاروں کے مالکان اس بابرکت مہینے کے تقدس سے لاپرواہی برتتے ہوئے اندھا دھند کمائی میں مصروف ہیں۔ پیسوں کے عوض ایمان کو سستا کرنے کا رواج یہاں عام ہے۔ ان رمضان بازاروں کے مقاصد کا صحیح معنوں میں فائدہ حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ بے ایمانی میں ملوث دکانداروں کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے اور جرمانہ عائد کیا جائے۔رمضان بازاروں میں اگر ہم جا کر خواتین و مرد و حضرات جو وہاں خریداری کرنے آتے ہیں ان سے بات کی جائے تو سب ایک ہی بات کہتے نظر آتے ہیں کہ چند ایک چیزیں سستی ہیں لیکن زیادہ تر کا ریٹ بازاروں میں ملنے والی چیزوں جتنا ہی ہے۔