شمالی وزیرستان: فورسز کی بمباری‘ مزید 33 دہشت گرد ہلاک

شمالی وزیرستان: فورسز کی بمباری‘ مزید 33 دہشت گرد ہلاک

شمالی وزیرستان+خیبر ایجنسی + بنوں (نوائے وقت نیوز+ نیوز ایجنسیاں) شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کیخلاف آپریشن ضرب عضب کامیابی سے جاری ہے، سکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر بمباری سے مزید 33دہشت گرد ہلاک جبکہ 9ٹھکانے تباہ ہو گئے، 10دہشت گرد زخمی بھی ہوئے۔ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں 2ازبک باشندے بھی شامل ہیں جبکہ بنوں میں آئی ڈی پیز قبائل کا مشترکہ جرگہ ہوا جس سے آئی ڈی پیز مشران نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو وزیرستان سے متعلق چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کر دیا ہے وہ باعزت طریقے سے واپسی چاہتے ہیں شمالی وزیر ستان آپریشن کا ہمیں ٹائم فریم دیا جائے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کیخلاف آپریشن ضرب عضب اپنے پلان کے مطابق کامیابی سے جاری ہے۔ سکیورٹی فورسز کے گن شپ ہیلی کاپٹروں نے شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی جس کے نتیجے میں 18 دہشت گرد مارے گئے جبکہ گرلامائی میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر بمباری کے نتیجے میں 15 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ سیکیورٹی فورسز کی فضائی کارروائی میں دہشت گردوں کے 9 ٹھکانے بھی تباہ کئے گئے۔ ادھر باجوڑ ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی گاڑی کے قریب دھماکہ ہوا جس کے نتیجہ میں 9 سکیورٹی اہلکار زخمی ہو گئے۔ واقعہ چہارمنہ کے علاقہ میں پیش آیا زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے پانچ اہلکاروں کو  خار کے ہسپتال میں منتقل کیا گیا ہے جن میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں خیبرایجنسی  کی تحصیل باڑہ کے علاقہ  اکاخیل میں عسکریت پسندوں نے سرکاری  پرائمری سکول کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ  کر دیا سکول بند ہونے کی وجہ سے  کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم سکول کی عمارت  مکمل طور پر تباہ ہو گئی ۔ محکمہ تعلیم  کے مطابق گزشتہ  پانچ سال  میں عسکریت پسندوں نے خیبرایجنسی  میں 72 سکولوں کو تباہ کر دیا ہے۔ علاوہ ازیں باڑہ میں آپریشن ’’خیبرون‘‘ کی وجہ سے بڑے پیمانے پر لوگوں کی نقل مکانی جاری ہے۔ لوگوں کو ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ متاثرین کئی کلو میٹر پیدل سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ علاوہ ازیں آئی ڈی پیز قبائل کے مشترکہ گرینڈ جرگہ میں کہا گیا کہ وہ 18 کروڑ عوام کے لئے اپنے گھر بار چھوڑ کر آج آئی ڈی پیز کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔آئی ڈی پیز  قبائل کا مشترکہ گرینڈ جرگہ بنوں ٹاون شپ میں منعقد ہوا۔ جس میں کثیر تعداد میں آئی ڈی پیز مشران نے شرکت کی مشران نے کہا کہ وزیرستان کیلئے ہم نے چارٹر آف ڈیمانڈ حکومت کو پیش کردیا ہے۔ ہم با عزت طریقے سے واپسی مانگتے ہیں آج تک تمام قبائل متحد ہیں ہمارے قبائل کی تعداد ایک کروڑ 20 لاکھ ہے جنہوں نے 18 کروڑ عوام کیلئے قربانی دی ہے۔ ہمارے مسائل بہت زیادہ ہیں ہمیں جو راشن دیا جا رہا ہے وہ جانوروں کے کھانے کا بھی نہیں۔ ہمیں ایف ڈی ایم اے جیسے کرپٹ محکمے کے حوالے کردیا گیا۔ موسم کی تبدیلی کی وجہ سے ہمیں کوئی پیکیج نہیں دیا گیا۔ شمالی وزیرستان آپریشن کا ہمیں ٹائم فریم دیا جائے کیونکہ اس جنگ کی وجہ سے ہمارے  10 لاکھ سے زائد لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔ ہمارے بچوں کی تعلیم ضائع ہورہی ہے۔ ایسا ہی آپریشن جنوبی وزیرستان میں بھی شروع کیا گیا تھا آج 7 سال ہوگئے مگر وہ آئی ڈی پیز بھی ابھی تک واپس نہ جاسکے۔ ہماری واپسی پر پہلے مشران کو وہاں کا وزٹ کرایا جائے تاکہ نقصان کا تخمینہ لگایا جاسکے۔ اگر ہمارے مطالبات پر عمل نہ کیا گیا تو محرم کے بعد متحدہ قبائل کا لاکھوں افراد کا دھرنا پشاور اور اسلام آباد میں ہوگا۔