گوجرانوالہ، آئرن سٹیل فرنس انڈسٹریز کے نام پر کمپریسر سکریپ کی درآمد، خزانے کو اربوں کا نقصان

گوجرانوالہ (فرحان میر سے )آئرن سٹیل فرنس انڈسٹریز کے نام سے کمپریسر سکریپ درآمد کرنے کی آڑ میں قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ اس سکینڈل میں مبینہ طور پر پنجاب حکومت کے نمائندے بھی شامل ہیں۔ باوثوق زرائع کے مطابق حکو مت نے آئرن اینڈ سٹیل انڈسٹری کو صرف وہ مٹیریل امپورٹ کرنے کی اجازت دی ہو ئی ہے جو براہ راست فرنس میں استعمال ہوتا ہے لیکن کمپریسر سکریپ کو آئرن اینڈ سٹیل فرنس انڈسٹریز کے نام پر امپورٹ کر کے بااثر افراد بہت بڑا فراڈ کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق کسٹم ڈیوٹی ایک فیصد کے حساب سے 642 روپے فی ٹن، ریگولیٹری ڈیوٹی پانچ فیصد 3210روپے فی ٹن، سیلز ٹیکس 56سو روپے فی ٹن ، ایڈیشنل سیلز ٹیکس تین فیصد 2071 روپے فی ٹن اور انکم ٹیکس چھ فیصد 4541روپے فی ٹن ہے مگر آئرن اینڈ سٹیل فرنس انڈسٹریز کے نام پر امپورٹ ہونے والے مال پر کسٹم ڈیوٹی ایک فیصد 642روپے فی ٹن ، ریگو لیٹری پانچ فیصد 3210روپے فی ٹن ، سیلز ٹیکس 5600روپے فی ٹن، ایڈیشنل سیلز ٹیکس زیرو ہے اور انکم ٹیکس 5.5فیصد 4051روپے فی ٹن کے حساب سے وصول کیا گیا ہے حالانکہ ایک ٹن پر انڈسٹریز کے نام پر امپورٹ کیا گیا مال کمرشل امپورٹر سے 2531روپے سستا پڑتا ہے اور 100ٹن کی مد میں یہ فراڈ 253100روپے بنتا ہے۔ آئرن اینڈ سٹیل فرنس انڈسٹری کے نام پر اب تک لاکھوں ٹن کمپریسرز کی امپورٹ کی گئی اور اربوں روپے کی ٹیکس کی چوری کی گئی، کمرشل امپورٹرز کو برباد کردیاگیا جس کے باعث انہیں مجبوراً اپنی امپورٹ روکنی پڑی، جس کی وجہ سے مزید ریونیو کا نقصان ہوا،جبکہ کمرشل امپورٹرز کو سیلز ٹیکس ڈیپارٹمنٹ میں انپٹ ایڈجسٹمنٹ کی اجازت نہیں دوسری طرف فرنس انڈسٹری والی کمپریسر کی امپورٹ وغیرہ 620 ڈالر پر ڈیوٹی ٹیکس دینے کے بعد ان کو یہ مال 76433 روپے فی ٹن میں پڑتا ہے جبکہ یہ خالص تیار مال 57000 روپے فی ٹن کے حساب سے بیچ رہے ہیں اور یہ انڈسٹری والے جو امپورٹ کے وقت سیلز ٹیکس کی مد میں 5600 روپے ادا کرتے ہیں۔ پورٹ پر بعد میں یہ سیلز ٹیکس ڈیپارٹمنٹ سے 5600 روپے کی ایڈجسٹمنٹ بھی لے رہے ہیں اس طرح ایک ٹن کے پیچھے ٹوٹل 8131 روپے فی ٹن کا فراڈ ہو رہا ہے، اب تک یہ لاکھو ں ٹن کے حساب سے امپورٹ ہو چکا ہے۔ یاد رہے کہ گذشتہ سال کسٹم اینٹلی جنس نے آئرن اینڈ سٹیل کے نام پر امپورٹ کئے گئے مال مختلف لوگوں کے گوداموں سے برآمد کرکے گودام سیل کر دئیے تھے۔ تفتیش پر معلوم ہوا کہ یہ سب مال سٹیل اینڈ فرنس انڈسٹری کے نام پر امپورٹ کیاگیا ہے جو منڈی میں کھلے عام فروخت ہو رہے تھے ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ میں اس کے خلاف رٹ کردی گئی ہے اور کمرشل امپورٹرز اس کے خلاف وزیراعظم سے ملنے کی کوشش کررہے ہیں اور ملک کی اعلی عدالت سے بھی رجوع کررہے ہیں ۔