بینظیر بھٹو قتل کیس میں دارالعلوم حقانیہ پر الزامات عائد کرنا عالمی منفی پروپیگنڈے کا حصہ ہے : مولانا انوارالحق

اکوڑہ خٹک (آئی این پی ) دارالعلوم حقانیہ کے نائب مہتمم اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سینئر نائب صدر شیخ الحدیث مولانا انوار الحق نے بے نظیر بھٹو قتل کیس میں بار بار دارالعلوم حقانیہ پر عائد کردہ بے سروپا الزامات کی سختی سے تردید کرتے کہا ہے کہ بے نظیر بھٹو پاکستان کی ایک مقتدر بڑی سیاسی لیڈر اور عالمی سطح کی دانشور رہنما تھیں‘ ان کے قتل میں پہلے ہی دن سے دارالعلوم حقانیہ جیسے خالص تعلیمی ادارے کی طرف اشارے کنائے کرنا اصل قاتلوں کو چھپانے کی ایک بھونڈی سازش ہے‘ دارالعلوم اِس منفی پروپیگنڈے کو عالمی سطح پر دینی مدارس کے خلاف جاری پروپیگنڈہ کا اہم حصہ سمجھتا ہے۔ بے نظیر بھٹو سے دینی مدارس اور علماء کو کوئی خطرہ نہیں تھا‘ اصل خطرہ سیاسی اور دیگر مقتدر قوتوں کو تھا۔ سابق وزیرداخلہ کی رپورٹ بھی تضادات کا مجموعہ تھی۔ ایک ہی سانس میں سابق وزیرداخلہ نے واضح کہہ دیا سازش فاٹا میں تیار ہوئی اور فنڈنگ بھی وہیں ہوئی۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا اس میں پرویز مشرف ‘ بریگیڈیئر اعجاز شاہ‘ القاعدہ‘ طالبان اورپیپلز پارٹی کی مخالف سیاسی دو جماعتیں بھی ملوث ہیں۔ نیز اس سے پہلے سکارٹ لینڈ یارڈ ‘ اقوام متحدہ کی رپورٹوں میں بھی دارالعلوم کا نام نہیں لیا گیا۔