مصوری ............دنیا کا قدیم ترین فن ہے :معروف مصور محمد جاوید

سیف اللہ سپرا
تاریخ کے اعتبار سے مصوری نہایت ہی اعلیٰ مقام رکھتی ہے۔ یہ نہ صرف ثقافتی، سماجی اور مذہبی حالات کی عکاسی کرتی ہے بلکہ اس سے معاشی اتار چڑھا¶ کے اثرات کا بھی بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اقوام کی تہذیب و تمدن پرکھنے میں بھی مصوری اہم کردار ادا کرتی ہے۔ بڑے وثوق کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ مصوری ایک تصویری زبان بھی ہے جو ہر دور میں بولی جاتی رہی ہے۔ زمانہ قدیم سے اب تک تھوڑے بہت فرق کے ساتھ اس کے مقاصد میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔ جیسے غاروں کے دور میں مصور جنگل میں جانوروں وغیرہ کی تصاویر کے ذریعہ اپنا مدعا بیان کرتا رہا ویسے آج کے دور میں بھی تخت الشعور کے خیالات کو فن پاروں میں عیاں کرنے کی کوشش کی جاتی ہے مگر وقت کے ساتھ ساتھ سوچ اور ٹیکنیک میں جو تبدیلی آئی ہے اسے جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ مصور بھی زمانہ کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ نئی راہیں تلاش کرنے میں مصروف رہتا ہے۔ ہمارے مذہبی عقائد کی مضبوطی مصوروں کو اپنی طرف کھینچے رکھتی ہے۔ شاید اسی لیے مسلمانوں نے خطاطی نقاشی اور آرائش میں تجریدیت کا پہلو ایجاد کیا۔ مختلف تاریخی کتابوں میں لکھا ہے کہ اسلام سے قبل تجریدی فن نہ ہونے کے برابر تھا۔ اس فن میں تخیل آرائی، تجریدی فکر اور تخلیقی پہلو کا ہونا مسلمانوں کے حصے میں آتا نظر آتا ہے۔ مسلمانوں نے جیومیٹری کی اشکال کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے تجریدی آرٹ کو بڑھانے میں مدد کی اور یہ آرٹ زمانہ حال میں بڑی مقبولیت کا حامل ہے۔ مصور محمد جاوید نے مصوری کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کچھ اس قسم کے تاثرات کا اظہار کیا۔
 محمد جاوید نیشنل کالج آف آرٹس سے فارغ التحصیل ہیں ان کا تعلق کالج کے فائن آرٹ کی پہلی کھیپ سے ہے جس میں سے صرف چار طالب علم کامیاب ہوئے تھے کالج سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے مختلف محکموں میں سروس بھی کی اور اپنی آرٹ کی پیاس بھی بجھاتے رہے ان کا کہنا ہے کہ فن مصوری سروس میں بھی بڑی مدد گار ثابت ہوئی چونکہ حساس ہونے کی وجہ سے اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقہ سے نبھاتے رہے۔ تخلیقی قوت نے فیصلوں میں بڑی مدد کی۔ انہوں نے امریکہ میں پڑھائی کے دوران ایم آئی ٹی جیسے اہم تعلیمی ادارے سے مصوری میں ایوارڈ بھی حاصل کیا ان کو ملک اور بیرون ملک نمائش کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ پچھلے سولہ سالوں سے اپنے کام کے ساتھ ساتھ وہ آرٹ کی ترقی و ترویج کے لئے بھی کام کر رہے ہیں۔ ”کواپرا آرٹ گیلری میں کوئی 100 سے زیادہ نمائشیں کیوریٹ کر چکے ہیں۔ اسی طرح کتابوں کی اشاعت میں بحیثیت سیکرٹری جنرل، پاکستان رائٹرز کوآپریٹو سوسائٹی بھی کام کرتے ہیں۔
 ایک سوال کے جواب میں مصور محمد جاوید نے کہا کہ آج کل کے حالات آرٹ پر بڑے ہی اثرانداز ہوئے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے لوگ اس شعبہ سے بہت دور چلے گئے ہیں پینٹنگز بناتے وقت بھی دماغ غیریقینی سیاسی حالات کی طرف چلا جاتا ہے۔ میڈیا پل پل کی خبر دینے میں مصروف ہے مگر حساس لوگوں کا کیا بنے گا اگر اس قسم کا کوئی موضوع پینٹنگ کرنے کیلئے چنا بھی جاتا ہے تو دوسرے لمحے اس سے کہیں زیادہ گھمبیر موضوع سامنے آجاتا ہے۔امن وامان اور سیاسی استحکام نہ صرف مصور کی ضرورت ہے بلکہ دیگر شعبہ جات کیلئے بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ فن مصوری کا رخ بدلتا نظر آتا ہے۔ وقت تنگ ہوتا چلا جارہا ہے۔ شاید اسی لیے آج کل شارٹ کٹس تلاش کیے جاتے ہیں مگر مصوری وقت مانگتی ہے تاکہ دیرپا اثر چھوڑے اور تاریخ کا حصہ بن جائے۔ تخلیقی کام کی ضرورت ہمیشہ محسوس کی جاتی ہے مگر بدلتے ہوئے حالات رکاوٹ بن رہے ہیں۔ آج کل جب میں کام کرتا ہوں۔ میری پینٹنگ میں پولیس داخل ہو جاتی ہے یا پھر بڑے بڑے بینرز اور گھیراﺅ جلاﺅ، دیکھئے نامصور نے تو ماحول میں رہ کر ہی کام کرنا ہوتا ہے جو وہ دیکھے گا اسی کو اپنی کینوس کا حصہ بنائے گا۔ مصوری کے ساتھ دوسرے ایسے شعبے جن میں تخلیق کی ضرورت ہے وہ بھی موجودہ حالات کا ضرور شکار ہوں گے۔ قدرتی آفتوں نے بھی ہمیں آگھیرا ہے۔ جب اعمال میں فرق آجائے تو پھر ایسا ہی ہوتا ہے۔ خدا سے دعا ہے کہ وہ اپنا کرم کرے۔ میں بات کررہا تھا مصوری میں عدم دلچسپی کی۔سمیرے ایک دوست جو یورپ میں رہتے ہیں کہنے لگے کہ میں اپنی تمام پینٹنگز کی نمائش ”کواپرا آرٹ گیلری“ میں کرنا چاہتا ہوں تاکہ ان سے وصول شدہ رقم سیلاب زدگان کے لئے استعمال کی جاسکے۔ میں نے ان کی توجہ موجودہ حالات کی طرف دلائی اور کہا کہ آج کل پیٹنگ کا سیل ہونا بہت مشکل ہے چونکہ لوگ اس وقت دوسرے بڑے مسائل میں گھرے ہوئے ہیں۔ آپ اپنی پینٹنگز کو یورپ میں بیچنے کا اہتمام کریں مگر شاید وہاں بھی مشکل ہے۔ بہرحال آپ ان کا جذبہ دیکھئے یعنی ہمارے لوگ بنیادی طور پر دکھی انسانیت کی خدمت کرنے والے ہیں۔
 بات کو آگے بڑھاتے ہوئے مصور محمد جاوید نے کہا کہ آرٹ کا رخ بدلنا ایک فطری عمل ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلی آتی ہے انسان ترقی پسند ہے اور کچھ نہ کچھ کرتا ہے۔ آج کل کا مشینی دور، کمپیوٹر کا ہر کام میں داخل ہونا، ڈیجیٹل عمدہ کیمروں کا آنا اور بڑے سے بڑے پرنٹ کی سہولت میسر ہونا اور وقت کی کمی کا احساس ہونا، یہ سب مل کر مصوری مبں تبدیلی لا رہے ہیں۔ کلاسیکل حقیقت پسند، امپریشنزم، ایکسپریشنزم، تجریدی اور تجریدی کے بعد کئی ایک مصوری میں اصطلاحات آئیں جو کہ مصوروں کے شعوری غور و فکرکا نتیجہ ہیں۔ اسی طرح ٹیکنیک میں بھی تبدیلی آئی ہے جیسے کولاج اور انسٹالیشن وغیرہ، لکڑی، لوہے، پیتل، کاغذ، پتھر اور شیشہ وغیرہ سبھی رنگوں کے ساتھ استعمال ہو رہے ہیں اور مصوری اپنی عقل طبعی کے مطابق اپنے مزاج اور جذبات کا اظہار کر رہے ہیں جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے مصور اپنے ماحول سے متاثر ہوتا ہے اور وہ اس ماحول کی خوشیوں، کامرانیوں، کشمکش، پریشانیوں اور حسرتوں کو اپنے کینونس میں سمونے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر اب کوشش اس بات کی کی جا رہی ہے کہ کس قسم کی پینٹنگ بکتی ہے جو کہ فن مصوری کی ترقی کی منزلوں میں بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے۔ کیونکہ اس قسم کے کام میں تخلیق کا پہلو نظر انداز ہو جاتا ہے اور فن پارہ ایک ڈیکوریشن پیس بن کر رہ جاتا ہے۔ اگر یہی کام کرنا ہے تو پھر اچھے سے اچھا کیمرہ موجود ہے جو اچھے سے اچھا ٹیکسچر تیار کرسکتا ہے۔
 جب مصور محمد جاوید سے ان کی اپنی پینٹنگ کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ بڑی تگ و دو کے بعد انہوں نے اپنا منفرد سٹائل ایجاد کیا ہے یعنی حقیقت پسندی سے لے کر ماڈرن مصوری کو اس انداز سے ملایا کہ موضوع کا قدرے آسانی سے پتہ چل جائے اور خوبصورتی کا عنصر بھی برقرار رہے۔ دلچسپ ٹیکسچر اور تہدار رنگوں کے استعمال سے اپنے احساسات کو بیان کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ زیادہ نہیں کہنا چاہتا فن پارے کو دیکھنے والے یہی بیان کیا کرتے ہیں بس میرا جو جی چاہتا ہے وہ پینٹ کرتا ہوں۔ حکومت کی طرف سے اس شعبہ کی سرپرستی ہونی چاہیے۔ غیر جانبدار صوبائی آرٹس کونسلیں موجود نہیں اور وفاق میں بھی پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس کام کر رہی ہے۔ یہ کیا کام کر رہی ہیں اس کا پتہ نہیں چلتا، شاید کسی خاص گروپ کے لئے کام کرتی ہوں۔ الحمرا لاہور کے متعلق مصور بتاتے ہیں کہ نمائش کے لئے اگر وقت مل بھی جائے تو پھر اہتمام اور اخراجات مصور کے ہی ذمے ہوتے ہیں۔ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ان کے پاس مصوروں کے متعلق پوری انفارمیشن نہیں ہوتی۔ اگر کوئی خاص پروگرام ہوتا ہے تو اس کے لئے ہر مصور کو خاص نہیں سمجھا جاتا۔ نیشنل کالج آف آرٹس اور یونیورسٹی آف دی پنجاب دو بڑے ادارے ہیں۔ ان سے فارغ التحصیل لوگوں کے ایڈریس وغیرہ تو مصور کے سرپرست اداروں کے پاس ہونے چاہئیں اور ان کی کارکردگی پر نظر بھی رکھنی چاہئے میرٹ کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے جو کہ بہت مشکل کام ہے۔
 محمد جاوید نے گفتگو کوسمیٹتے ہوئے کہا کہ مصوری دنیا کا قدیم ترین فن ہے اس کے آثار غاروں میں ملتے ہیں جنہیں دیکھ کر قدیم اقوام عالم کے تہذیب و تمدن کے بارے میں آگاہی ہوئی ہے انہوں نے بتایا کہ پاکستان چونکہ ایک اسلامی ملک ہے اس لئے یہاں پر اسلامی خطاطی سے لوگوں کی دلچسپی ہمیشہ سے رہی ہے آج کل مصورانہ خطاطی کا رجحان فروغ پا رہا ہے میں نے بھی اس حوالے سے کچھ کوشش کی ہے۔ انہوں نے امن و امان کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مصور بھی معاشرے میں رہتا ہے اور وہ معاشرے میں ہونے والے واقعات سے ضرور متاثر ہوتا ہے۔ بم دھماکوں، دہشت گردی کے واقعات اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال نے پاکستان کے مصوروں کی تخلیقی صلاحیتوں کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو کچھ معاشرے میں ہو رہا ہے اُسے وہ کینوس پر نہیں لا سکتا۔