ماہ محرم الحرام میں ریڈیو کے خصوصی پروگرام

 اصغر ملک
ریڈیو پاکستان نے حسبِ سابق اس سال بھی ماہ محرم الحرام میں یکم سے دس محرم الحرام تک خصوصی پروگرام ترتیب دے کر نشر کئے۔ اس ماہ مکرم میں امام عالی مقام نواسہ رسول حضرت حسینؓ نے اپنی شہادت سے اسلام کی عظمت کو سربلند کر کے اپنے نانا کے دین کو پامال ہونے سے بچایا تھا۔ یکم محرم الحرام سے اسلامی سال کا آغاز بھی ہو جاتا ہے۔ریڈیو پاکستان کے پروگراموں میں یکم تا 10 محرم تک احتراماً ساز اور دیگر گانے بند کر دیئے جاتے ہیں یہاں تک کہ پروگراموں کی سگنیچر ٹیونیں بھی نہیں بجائی جاتیں۔ حمدیں، نعتیں، عارفانہ کلام ، مرثیے، نوحے، سوزوسلام اور تقریریں بھی شامل ہوتی ہیں اور زیادہ تر پروگرام ریکاڈیڈ ہی نشر کئے جاتے ہیں۔ جن کی تیاری کچھ عرصہ پہلے سے شروع کر دی جاتی ہے۔ محفل مسالمہ اور مجلس شام غریباں بھی محرم الحرام کی 9,10 تاریخوں کو نشر کی گئیں۔ اس سال بھی ملک کے جید علماءکرام، مشائخ عظام اور نامور شخصیات نے اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد کے سلسلے میں واقع کربلا ماہ محرم کے دیگر واقعات اور حضرت امام حسینؓ کے حوالے سے مختلف موضوعات اور پہلوو¿ں پر روشنی ڈالی۔ ان میں سے کچھ خاص اور اہم پروگرام قومی نشریاتی رابطے پر اور کچھ صوبائی اور علاقائی زبانوں میں نشر ہوتے رہے۔ کراچی ریڈیو سے دوپہر 2-30 منٹ پر اردو مرثیہ تاریخ و ادب کے آئینے میں فیچر پروگرام سہ  پہر 4-20 منٹ پر کربلا کردار کے آئینے میں تقاریر، معلم انسانیت تقاریر مینار نور فیچر پروگرام رات 9 بج کر پندرہ منٹ پر ہوائی لہروں کے سپرد کیا گیا۔ اسلام و علیک یا ابا عبداللہ الحسین( ریکارڈنگ سی پی یو) ‘مقرر تھے سید محسن نقوی۔ انہوں نے داستان کربلا کے موضوع پر فرمایا کہ حضرت امام حسینؓ کے کردار کی عظمت پر اب تک دنیا بھر میں سب سے زیادہ مضامین لکھے گئے ہیں۔ سب سے زیادہ مرثیے تحریر کئے گئے سب سے زیادہ حضرت امام حسینؓ پر تذکرے ہوئے سب سے زیادہ انسانوں نے تاریخ اور انسانیت کے اس ہمہ جہت ہیرو کے ذکر کو باقی رکھنے کے لئے قربانیاں دیں۔ سب سے زیادہ ماتم امام حسینؓ کے لئے ہوا۔ سب سے زیادہ عزاداری اور پُرسہ داری حضرت امام حسینؓ کے لئے ہوئی اور یہ سلسلہ تقریباً محشر تک جاری و ساری رہے گا۔ جسموں کو غلام بنانے والے بادشاہ خود ختم ہو گئے ان کے لشکر، فوج، عسکری طاقیں، دربار، جاہ و جلال تخت وتاج سب کچھ فنا کی آندھی میں خاک ہو کر رہ گئے لیکن حضرت امام حسینؓ کا نام زندہ و جاوید رہے گا۔ اسلام آباد ریڈیو سے قومی نشریاتی رابطے پر آٹھ محرم دوپہر دو بجے تیس منٹ پر علامہ رشید ترابی (مرحوم) کی تقریر پانی کے موضوع پر نشر کی گئی جب انہوں نے کہا حضرت امام حسینؓ کتنے انوکھے پیاسے تھے کہ خود .... دریا تشنہ گام رہے اور اسکے معصوم بچوں کو بوند بھر پانی نصیب نہ ہو سکا مگر آج اس عظیم پیاسے کے نام پر ان گنت سبلیں لگائی جاتی ہیں اور سبیلوں کا پانی اور دودھ شیر و شربت اتنا لذیذ اور ٹھنڈا میٹھا ہوتا ہے کہ کوثر کی روانی کو بھی حضرت حسینؓ کے نام جاری سبیل کی روانی اور سخاوت پر رشک آتاہوگا۔ پھر حضرت امام عالی مقام خود بے وطن اور بے گوروکفن توحید کی عظمت پر قربان ہو گئے مگر آج ساری کائنات حضرت حسینؓ کا اپنا وطن، سارا عالم امام حسینؓ کی جاگیر ہے ہر دل حسینؓ کا اپنا گھر ہے یزیدیت تو حسینؓ کو بے گھر اور بے وطن کر کے مطمئن ہو گئی تھی مگر اسے کیا معلوم تھا کہ ایک دن حضرت حسینؓ کائنات کے عناصر اربعہ پر حکومت کر کے سارے عالم پر چھا جائیں گے۔ عناصر کائنات تو مٹی ، پانی ہوا اور آگ ہی ہیں اور آج مٹی پر حضرت حسینؓ مجلسیں برپا ہیں، ہوا میں امام حسینؓ کے نوحے گونج رہے ہیں، پانی کی سبلیں امام عالی مقام کی قدم بوسی کو بے قرار ہیں اور آگ پر حسینؓ کے ماتم کی گلکاری ہو رہی ہے۔ حضرت حسینؓ کا پرچم کائنات کے ہر ملک میں لہرا کر ملوکیت کا منہ چڑھا رہا ہے۔ پشاور ریڈیو سے سہ پہر رسم شبیری حضرت امام حسینؓ کے حواسے سے مختلف موضوعات پر تقریریں، شام ساڑھے پانچ بجے گل سانگہ(خواتین کے پشتو پروگرام) جنتِ سردارہ، حضرت فاطمة الزہراؓ تقریر محترمہ ثروت جہاں ریڈیو پاکستان لاہور سے سہ پہر تین بج کر اٹھارہ منٹ پر نہج البلاغہ سے اقتبات سید رضی ترمذی، کلام اقبال بابائے نشریات سید ذوالفقار علی بخاری، کوئٹہ ریڈیو سے بھی سی پی یو کی سابقہ ریکارڈنگ سے استفادہ کیاگیا جس میں فلسفہ شہادت، تقاریر، محرم کے واقعات پر تسلیم و رضا پر خصوصی فیچر پروگرام، شہادت امام عالی مقام پر بلوچی میں تقریر، مقرر پروفیسر غلام حسین شتیاری، ملتان ریڈیو سے دوپہر نواسہ رسول اور خوشنودی الٰہی سیمینار سلام بحضور حضرت حسینؓ ، مرثیہ انیس تحت (لفظ آواز محمد علی) مرثیہ دبیر سے اقتباس زیڈ اے بخاری، ریڈیو پاکستان اسکردو سے یکم تا دس محرم الحرام تک نہج البلاغہ سے اقتباس روزانہ بلتی زبان میں نشر ہوتی رہی۔ ریڈیو پاکستان کے علاوہ پرائیویٹ الیکٹرونک میڈیا خاص طور پر قریباً ہر ٹی وی چینلش پر بھی محرم الحرام کے سلسلے میں شب و روز ملک میں ہونے والی مجالس، مرثیہ، خوانی اور علماءکرام کی تقریریں بڑی عقیدت و محبت سے ٹیلی کاسٹ ہوتی رہیں۔