کوئٹہ: مسجد کے باہر فائرنگ ‘ 2 افراد قتل‘ وزیراعلیٰ ہائوس کے باہر دھرنا‘ رکن اسمبلی کی شرکت

کوئٹہ (بیورو رپورٹ + نوائے وقت رپورٹ) کوئٹہ کے بارونق اور کاروباری علاقے مسجد روڈ پر نامعلوم مسلح موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے بارکھان سے تعلق رکھنے والے دو افراد جاںبحق ہوگئے۔ جمعہ کی شام کو کوئٹہ کے بارونق اور کاروباری علاقے مسجد روڈ پر نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے امیر رسول بخش اور احمد خان جاں بحق ہو گئے۔ موٹر سائیکل سوار فائرنگ کے بعد فرار ہو گئے واقعہ کے بعد فوراً بعد پولیس اور ایف سی موقع پر پہنچ گئی اور جاںبحق ہونیوالوں کی نعشیں قبضے میں لیکر سول ہسپتال پہنچا دی گئی۔ پولیس نے نامعلوم افراد کیخلاف مقدمہ درج کر لیا۔ دریں اثنا مسجد کے باہر فائرنگ میں جاںبحق افراد کے لواحقین نے وزیر اعلیٰ ہاؤس کے باہر نعشوں کے ہمراہ دھرنا دیا۔ دھرنے میں رکن اسمبلی عبدالرحمن کھیتران بھی شریک ہوئے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ فائرنگ میں ملوث ملزمان کو گرفتار کیا جائے۔ دریں اثنا کوئٹہ میں نامعلوم سمت سے فائر کیا گیا۔ راکٹ ٹی بی سینی ٹوریم کے گودام پر گر کر زوردار دھماکے سے پھٹ گیا جس سے عمارت کی دیواروں کو نقصان پہنچا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اے این این کے مطابق پنجگور اور حب سے 3 نامعلوم افراد کی نعشیں ملی ہیں جنہیں شناخت کیلئے سول ہسپتال میں رکھ دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں بلیلی کسٹم میں ایف سی نے کارروائی کرتے ہوئے 10 تاجک سمیت 50 افغان مہاجرین کو غیر قانونی طور پر کوئٹہ شہر میں داخل ہونے کے الزام میں گرفتار کرلیا۔ ادھر ممتاز ماہر قلب ڈاکٹر عبدالمناف ترین کی بازیابی کا معمہ 5 ہفتہ گزر جانے کے باوجود حل نہ ہوسکا۔ ڈاکٹر کے جانب سے سرکاری ہسپتالوں میں او پی ڈیز کے دن 12 بجے تک بائیکاٹ اور علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ کا سلسلہ بدستور جاری رہا جس کے وجہ سے ہسپتال آئے ہوئے غریب مریضوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔دریں اثناء ایک ماہ قبل اغواء کئے گئے مقامی ٹھیکیدار منان ترین کو فائرنگ کے تبادلے کے بعد بازیاب کرا لیا گیا۔ لیویز ذرائع کے مطابق ملزمان مغوی کو گاڑی میں کسی دوسری جگہ منتقل کر رہے تھے۔