ورکنگ بائونڈری پر بھارتی فائرنگ، 50 پاکستانی دیہات ویران ہو گئے

ورکنگ بائونڈری پر بھارتی فائرنگ، 50 پاکستانی دیہات ویران ہو گئے

 سیالکوٹ+ چک امرو (نامہ نگاران+ بی بی سی اردو) ورکنگ بائونڈری پر بھارتی فائرنگ وگولہ باری کی وجہ سے بجوات سیکٹر کے پچاس سے زائد دیہات کے ہزاروں مکین خواتین اور بچوں سمیت محفوظ مقامات پر نقل مکانی کرگئے ہیں جبکہ 12 سرکاری سکول بھی بند ہوجانے سے ہزاروں طلبہ وطالبات تعلیم کی سہولت سے محروم ہوگئے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر سے ملحقہ بجوات سیکٹر پر ورکنگ بائونڈری لائن کے قریب واقع لونی، جھنگ، بھولی سمبلی، خیری، چک پرانا، ریال، پونڑے چک، چک پونڈرا سمیت پچاس پاکستانی دیہات کے ہزاروں مکین گولہ باری سے بجوات سیکٹر کے گائوں چک پونڈرا کی مسجد میں بھی مارٹر گولے گرنے سے مسجد کو نقصان پہنچا ہے۔گائوں کے مکین عامر نے بتایا کہ روزانہ رات کو بھارتی گولہ باری اور فائرنگ شروع ہوجاتی ہے جس سے خوف زدہ ہوکر ورکنگ بائونڈری پر موجود تمام پاکستانی دیہات کے مکین فیملیوں اور مویشیوں کو لیکر محفوظ مقامات پر چلے گئے ہیں۔ بی بی سی کے مطابق پاکستانی علاقے شیلنگ سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں ان میں چاروا اور جوئیاں نامی دیہات شامل ہیں۔ ان دیہات میں لگ بھگ ہر گھر پر بموں کے ٹکڑوں کے نشان موجود تھے اور علاقے کی گلیوں میں گلیوں، خول اور بموں کے ٹکڑے پڑے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ چک امرو سے نامہ نگار کے مطابق گذشتہ روز ایال ڈوگر، ڈیرہ کھینگر، مسرور کے سکولوں میں حاضری نہ ہونے کے برابر رہی۔ بھارتی فائرنگ نے دیہاتیوں کی زندگی اجیرن کر دی، کسان ہزاروں ایکڑ اراضی پر مونجی کی تیار فصل کاٹنے سے قاصر ہیں جس سے کروڑوں روپے کی فصل تباہ ہونے کا اندیہش ہے۔ ونگ کمانڈر کرنل جواد حامد کے مطابق بھارت نے گذشتہ ہفتے اپنے درانداز پاکستان میں داخل کرنے کی متعدد کوشش کیں جنیں چناب رینجرز نے بروقت کارروائی کرکے ناکام بنا دیا۔