فیصل آباد: سسرالیوں کے مبینہ تشدد سے خاتون ہلاک ‘ ورثا کا نعش رکھ کر مظاہرہ

فیصل آباد (نمائندہ خصوصی) سسرالیوں کی طرف سے مبینہ تشدد سے جاں بحق ہونے والی خاتون کے ورثاء نے ملزمان کی عدم گرفتاری کے خلاف سلیمی چوک میں نعش رکھ کر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ تفصیلات کے مطابق غازی آباد کی رہائشی 28 سالہ صائمہ بی بی کی چار سال قبل راشد کے ساتھ پسند کی شادی ہوئی تھی، جسکی اپنے سسرالیوں سے اکثر گھریلو معاملات پر تلخ کلامی رہتی تھی، اسکے سسرالیوں نے تین روز قبل مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے شدید زخمی کر دیا تھا جسے سول ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں صائمہ بی بی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے زندگی کی بازی ہار گئی جسکی نعش کو ورثاء نے سلیمی چوک میں رکھ کر پولیس اور ایس ایچ او تھانہ ڈی ٹائپ عثمان وڑائچ کے خلاف شدید نعرے بازی کی، مظاہرین نے ٹائروں کو آگ لگا کر جھال چوک کی طرف آنے جانے والی ٹریفک کو بلاک کر دیا، پولیس نے ملزم راشد اور ملزم عبدالرشید کو حراست میں لیتے ہوئے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا، مظاہرین کے مطابق گرفتار ملزمان کے ورثاء انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں، ورثاء نے مطالبہ کیا کہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔ بعد ازاں سی پی او کی ہدایت پر پولیس نے بیوی کو تشدد کر کے قتل کرنے والے شوہر اور سسر کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا گیا۔ صائمہ کی شادی 2010ء میں ایم بلاک علامہ اقبال کالونی تھانہ ڈی ٹائپ کے راشد سے ہوئی تھی دو لڑکے پیدا ہوئے تھے مگر جہیز کم لانے اور دیگر معاملات پر صائمہ کو مار پیٹ کی جاتی تھی، مبینہ طور پر صائمہ کے خاوند راشد، سسر عبدالرشید، دیور محمد افضل اور نندوں شازیہ، رفعت نے مل کر صائمہ پر تشدد کیا، گزشتہ روز زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔