سچی خوشی

حُریزہ طاہر
حِرا ایک امیر ماں باپ کی تابعدار اور کیوٹ بیٹی ذہین ہونے کے ساتھ ساتھ بہت سی خوبیوں کی مالکہ ہے۔ سب سے اہم بات یہ کہ غریبوں سے بہت محبت کرتی ہے۔
اس کے گھر میں ایک غریب لڑکی آمنہ کام کرتی تھی۔آمنہ کے والد کا انتقال ہو گیا اور ماں بیمار رہنے لگی وہ لوگوں کے گھروں میں کام کر کے گھر کا خرچہ پوراکرتی تھی۔ صرف دس بارہ سال کی کم عمری میں ہی آمنہ بیچاری پر بہت سی ذمہ داریوں کا بوجھ آن پڑا وہ اپنی چھوٹی سی جان سے بڑھ کر محنت مزدوری کرتی اور کام کرتے کرتے تھک جاتی اس جی چاہتاکہ صاف ستھرے کپڑے پہن کر سکول جائے لیکن سکول کی بھاری فیسیں ادا کرنا اس کے بس میں نہ تھا۔
آمنہ کی ماں کو دوائیوں کی بہت ضرورت رہتی آمنہ بیچاری جو کچھ کماتی تھی گھر کے خرچ اور ماں کی دوائیوں پر پورا ہو جاتا تھا۔ آمنہ اس لئے بھی پریشان تھی کہ عید آنے والی ہے اور اس کے پاس نئے کپڑوں اور عید کی دوسری چیزوں کے لئے پیسے وغیرہ نہیں ۔ ایک دن وہ صفائی کر کے آ رہی تھی کہ حِرا نے اس سے پوچھا کیا تم نے عید کے کپڑے بنا لئے ہیں۔ آمنہ کے پاس کوئی جواب نہ تھابلکہ اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور اس نے اپنے حالات سے حرا کو آگاہ کیا۔ آمنہ نے مزید کہا کہ ان حالات میں نئے کپڑے تو دور وہ تو مہندی اور چوڑیاں تک نہیں خرید سکتی ۔ یہ سن کر حرا کا دل بھی اداس ہو گیا۔اس نے سوچا کہ شام کو جب اس کے پاپا آئیں گے تو وہ ان سے درخواست کرے گی کہ حرا کو عید کے کپڑے اور چوڑیاں وغیرہ دلوا دیں۔ شام کو جب حرا کے پاپا گھر آ ئے وہ حرا کو پریشان دیکھ کر کہنے لگے کہ میری چاند سی بیٹی کیوں پریشان ہے تو حرا نے سارا واقعہ اپنے پاپا کو سنایا۔
اس کے پاپا نے فوراً کہا آﺅ میرے ساتھ گاڑی میں بیٹھ جاﺅ اور اپنے اور آمنہ کے لئے عید کی چیزیں لینے بازار چلتے ہیں حرا کے پاپا نے دونوں کے لئے عید کے کپڑے چوڑیاں اور مہندی وغیرہ لے دی۔ عید کے دن جب آمنہ نئے کپڑے پہن کر آئی تو حرا بہت خوش ہوئی۔ اتنی خوشی تو اس کو اپنے نئے کپڑوں کی بھی نہ تھی۔
نتیجہ:۔ ساتھیو! سچ ہے کہ کسی مستحق کی مدد کرنے سے ہی سچی خوشی ملتی ہے۔
(حزیرہ طاہر لاہور)