بچو یہ ہے چولستان

تھر میں بلک رہے ہیں بچے
ٹوٹے پھوٹے گھر بھی کچے
فاقے بیماری کے مارے
تڑپیں بھوک سے یہ بیچارے
تپتی ریت میں جل گئے سارے
ماں اور باپ کی آنکھ کے تارے
ہر سو موت کے گہرے سائے
ہرذی روح ہے اشک بہائے
تھر میں لاکھوں بسنے والے
سب کو پڑ گئے جان کے لالے
تڑپ رہا ہے تھر کا آدم
کہاں گئے سب قوم کے خادم
کوئی نہ ان تک پہچا قائد
یہ کوئی انساں نہیں ہیں شائد
دھرتی بھی یہ دیکھ کے رودی
کانپ اُٹھے صحراوفلک بھی
تھر میں ہے اِک ہو کا عالم
حاکم ہو گئے بے حِس ظالم
بچو یہ ہے چولستان
شرمندہ ہے پاکستان
فاروق اے حارث