بلوچستان اسمبلی میں تھرمل پاور سٹیشن کے بند یونٹ بحال کرانے کیلئے قرارداد پیش

بلوچستان اسمبلی میں تھرمل پاور سٹیشن کے بند یونٹ بحال کرانے کیلئے قرارداد پیش

کوئٹہ (آئی این پی) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے آغا لیاقت، سردار غلام مصطفی ترین، عبید اللہ، رحمت بلوچ، منظور کاکڑ اور ہینڈری بلوچ نے کہا کہ کوئٹہ تھرمل پاور سٹیشن کو سابق دور حکومت میں بعض بیوروکریٹس کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے 94.5 میگاواٹ کو واپڈا اتھارٹی نے بلاجواز طور پر بند کر دیا ہے۔ اس طرح تھرمل پاور سٹیشن کے 465 میں سے 300 ملازمین کو سرپلس کردیا گیا اور صوبہ بلوچستان کو ایک فعال تھرمل پاور سٹیشن سے محروم کردیا گیا جس سے بلوچستان کے عوام، زمینداروں کے ساتھ واپڈا کو بھی اربوں روپے کا نقصان پہنچا۔ کوئٹہ تھرمل کی دو مشینیں جو گیس اور کوئلے سے چلتی تھیں اور جس کی وجہ سے تھرمل سٹیشن میں ماہانہ ساڑھے چار سے چھ ہزار ٹن کوئلے کی کھپت تھی۔ تھرمل سٹیشن کی بندش سے بلوچستان کے کوئلے کی صنعت بھی تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی اور ہزاروں کان کن بیروزگار ہوگئے لٰہذا یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ وفاقی حکومت سے رجوع کرے کہ جس طرح سندھ میں لاکھڑا کے مقام پر تھرمل پاور سٹیشن کو سٹاف کے ہمراہ بحال کیا گیا اس طرح بلوچستان میں بھی کوئٹہ تھرمل کے بند یونٹوں کو بمعہ سٹاف بحال کیا جائے اور کوئٹہ تھرمل میں مزید 200 سے 300 میگاواٹ کے نئے یونٹس لگائے جائیں۔ انہوںنے کہا کہ تھرمل سٹیشن 1960ء کی دہائی میں قائم کیا گیا تھا اور آہستہ آہستہ اسکی کپیسٹی میں اضافہ کیا گیا مگر پھر آہستہ آہستہ اسکے یونٹ بند کردیئے گئے صوبے کو دانستہ طور پر نقصان پہنچایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ اور پنجاب میں آج بھی کئی تھرمل پاور سٹیشن کام کررہے ہیں، اگر وہاں پر یہ چل سکتے ہیں تو بلوچستان میں بھی چلائے جائیں اور اس سلسلے میں وزیراعلیٰ ایک کمیٹی بنائیں جو اس حوالے سے معاملات طے کرے۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ ابھی انہوں نے کیسکو حکام کو بلایا ہے۔ انکا موقف ہے کہ 3 میں سے 2 انجن ناکارہ ہوچکے ہیں اور ایک سے 25 میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔