ایک کہانی بڑی پُرانی

نعمان لیاقت
جنگل میں ایک آدمی اپنے تین شاگردوں کے ساتھ رہتا تھا۔ استاد ان کو پڑھاتا تھا۔ ان تینوں میں سے ایک شاگرد بہت بہادر تھا اور استاد یہ بات جانتا تھاکہ پرنس بہت بہادر ہے باقی دو شاگردوں کا نام چینگو اور مینگو تھا۔ یہ دونوں بھائی تھے لیکن یہ تینوں بھائی بھائی کہلاتے تھے۔ چینگو،مینگو اتنے بہادر نہ تھے۔ مگر پرنس کو دیکھ کر ان کا دل بھی بہادر بننے کو کرتا۔ استاد ان سے بہت پیار کرتا تھا ۔ایک دن استاد بیمار پڑ گیا۔ استاد نے کہا پرنس اور چینگو مینگو میری بات غور سے سنو۔جنگل کے تھوڑے فاصلے پر ایک گا¶ںمیں ایک بلا اور اس کے دو بھائیوں کی حکومت ہے۔ وہ لوگوں کو پریشان کرتے ہیں۔تم تینوں بلا اور بھائیوں کو ختم کرنے کے لئے اس گا¶ں میں جا¶ گے۔ اس سے گا¶ں والوں کا ڈر دور ہو جائے گا۔ تینوں پریشان ہو گئے۔ استاد نے جواب دیا کہ میں تم تینوں کے ساتھ نہیں جا سکتا۔ میرے پاس وقت کم ہے۔ چینگو اور مینگو نے جانے سے انکار کر دیا لیکن پرنس اس گا¶ں میں جانے کے لئے تیار تھا۔ استاد پرنس سے بہت خوش ہوا اور کہا کہ چینگو مینگو کے ساتھ چلے جانا، چینگو مینگو مان گئے۔ استاد نے انہیں کچھ پڑھایا خود کچھ پڑھ کران تینوں پر پھونک دیا اور خوداللہ کو پیاراہوگیا۔تینوںگا¶ں میں جانے کے لئے تیار ہو گئے اورگا¶ں پہنچ گئے لوگوں سے اس بارے پوچھا۔ لوگوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص اس جاتا ہے توواپس آتے وقت بلا اور اس کے بھائی اس شخص کو کھا جاتے ہیں۔ چینگو مینگو یہ بات سن کر ڈر گئے پرنس چونکہ بہادرتھا۔ اس لئے وہ بالکل نہیں ڈرا ۔ پرنس نے لوگوں سے کہا کہ میں بلا اور اس کے بھائیوں کو مارنے کے لئے جا¶ں گا۔ لوگ ڈر گئے اور پرنس کو جانے سے روکا مگر پرنس جانے کے لئے تیار تھا۔
گا¶ں والے ان تینوں کی ہمت دیکھ کر خوش ہوئے اور ان کا ساتھ دینے کے لئے تیار ہو گئے۔گاو¿ں والوں نے کہا وہاں ایک کنواں ہے اس میں لکڑی کی ایک چڑیا ہے۔ جس میں بلا اور اس کے بھائیوں کی جان ہے۔ اگر ہم سب مل کر اس کو آگ لگا دیں تو بلا اور اس کے بھائی مر جائیں گے۔گا¶ں کے لوگوں کی بات کو غور سے سنا اور اللہ کا نام لے کر وہاں پہنچ گئے۔ تینوں نے آگ کی ایک ایک مشعل پکڑ لی۔اب تینوں کنواں کے قریب تھے جب کنویں میں داخل ہونے لگے تو بلا نے اپنے بھائیوں سے کہا کہ ان پر حملہ کرو۔ بلا کے دونوں بھائی سانپ کی شکل میں ان پر حملہ آورہوئے یہ منظردیکھ کر پرنس اور چینگو مینگو پریشان نہ ہوئے اورآگ لگا دی دونوں بھائی آگ سے ڈر گئے اور پیچھے چلے گئے۔ بلا نے یہ سب دیکھ کر ان پر پیچھے سے حملہ کیا اور ان کو زخمی کر دیا تینوں ڈر گئے کہ اب کیا ہو گا مگر جب ان تینوں نے پتھر پر پڑی ہوئی لکڑی کی چڑیا کو دیکھا تو ان میں سے پرنس نے بلا پر حملہ کیا اور چینگو نے دونوں بھائیوں پر حملہ کیا جو سانپ کی شکل میں تھے ، مینگو نے آگ کی مشعل سے لکڑی کی چڑیا کو آگ لگا دی۔گا¶ں کے لوگ دوڑ کر کنویں کے پاس آئے اور دیکھا کہ تینوں دوست زندہ ہیں۔ بلا اور اس کے دونوں بھائی آگ میں جل رہے ہیں۔ اب گا¶ں میں ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں نظر آرہی تھیں۔ اب پرنس کے ساتھ مینگو مینگو بھی بہادر اور ہمت والے ہو گئے۔