کوئٹہ: جاں بحق افراد سپردخاک، جے یو آئی ف کا ملک گیر احتجاج

کوئٹہ+ اسلام آباد+ لاہور (بیورو رپورٹ+ خصوصی نامہ نگار+ نامہ نگاران) کوئٹہ میں گزشتہ روز مولانا فضل الرحمن کے جلسے  پر خودکش حملے،  بم دھماکے اور بس پر فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے افراد کو سپردخاک کر دیا گیا۔ ہزارہ  ڈیموکریٹک  پارٹی  کی اپیل پر شہر  میں مکمل ہڑتال  کی گئی جبکہ مولانا فضل الرحمن پر خودکش حملے کیخلاف جے یو آئی (ف) کے زیراہتمام ملک گیر احتجاج کیا گیا اور ریلیاں  نکالی گئیں جبکہ وکلاء نے بھی عدالتی  بائیکاٹ کیا اور حملے کے ملزمان کی گرفتاری  کا مطالبہ کیا گیا۔ پولیس اور رینجرز نے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کرکے 35  مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا۔ دوسری جانب ہزارہ کمیونٹی کی بس پر فائرنگ کا مقدمہ شالکوٹ تھانے، جب کہ قمبرانی روڈ پر دھماکے کا مقدمہ کیچی بیگ تھانے میں درج کرلیا گیا۔ پولیس کے مطابق ہزارگنجی میں سبزی فروشوں کی بس پر فائرنگ واقعہ کا مقدمہ شالکوٹ تھانے میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا۔ جمعیت علماء   اسلام ف کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمن پر حملے کے خلاف نماز جمعہ کے بعد احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ خودکش حملہ آور کے جسمانی اعضا کے نمونے ڈی این اے  کیلئے بھجوائے گئے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ہزاروں کارکنوں نے ضلعی امیر مولانا زکریا کی سربراہی میں کوئٹہ میں مولانا فضل الرحمن پر حملے کیخلاف ایک احتجاجی ریلی نکالی۔ علماء کونسل نے ملک بھر میں ’’یوم احتجاج‘‘ منایا۔ لاہور، اسلام آباد، فیصل آباد، گوجرانوالہ، اوکاڑہ، شیخوپورہ، سیالکوٹ سمیت ملک بھر میں احتجاج کیا گیا۔ مقررین نے کہا محرم سے قبل ایسے واقعات ملک کا امن تباہ کرنے کی سازش ہے۔ بلوچستان حکومت امن و امان کے قیام میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ بورے والا سے نامہ نگار کے مطابق کوئٹہ میں دہشت گرد حملے کے خلا ف پریس کلب کے باہر احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ نارنگ منڈی سے نامہ نگار کے مطابق پاکستان علماء کونسل تحصیل مریدکے کے صدر حافظ محمد مدثر قاری محمد الیاس اور شیرافگن بٹر کی قیادت میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مساجد میں مولانا پر قاتلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمتی قراردادیں منظور کی گئیں۔ لاہور میں بڑا مظاہرہ لاہور ہوٹل چوک میں ہوا۔ مولانا محمد امجد خان نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن دینی اسلام اور وطن کے خلاف سازشوں کو بے نقاب کرتے ہیں اس لئے ان کو تیسری بار نشانہ بنایا گیا۔ دریں اثناء جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ملکی مفاد کے تحت پالیسیاں بنانا چاہئیں۔ بلوچستان میں کافی عرصہ سے فرقہ وارانہ ماحول پروان چڑھا ہے۔ بین الاقوامی ایجنڈے کے تحت پاکستان اور ایران میں تعلقات خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ملکی ادارے اگر مجھے پاکستانی سمجھتے ہیں تو حملے کی تحقیقات کریں۔ مولانا فضل الرحمن نے ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز سابق وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک سے ملاقات کے بعد اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ فضل الرحمن نے کہا کہ عرب دنیا میں جنگ فرقہ واریت پر ہو رہی ہے۔ جو جو چیزیں بھی ہو رہی ہیں عالمی ایجنڈے کے تحت ہیں۔ ایک طرف کہا جاتا ہے کہ طالبان کے خلاف آپریشن ہو رہا ہے، ایران نے یہ کیوں کہا کہ اب پاکستان کے اندر تعاقب کر کے حملہ کریں گے۔ ہم ہر طرف پنگے کیوں لے رہے ہیں؟ خارجہ پالیسی کے تحت پڑوسی ممالک سے اچھے تعلقات ہونے چاہئیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک  بھی مولانا فضل الرحمان  سے ملے۔ دریں اثناء خیبر  پی کے  اسمبلی  نے متفقہ طور پر کوئٹہ میں  فضل الرحمن پر خودکش حملے کی پرزور مذمت کرتے ہوئے حکومت سے ملوث  ملزموں کو گرفتار کرنے اور  کیفرکردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے ۔  متفقہ قرارداد جماعت اسلامی، تحر یک انصاف، قومی وطن پارٹی،  پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، قومی جمہوری اتحاد اور جے یو آئی (ف) کے پارلیمانی لیڈروں کی جانب سے متفقہ قرارداد صوبائی وزیر مشتاق غنی اور مفتی سید جنان نے پیش کی۔ دریں اثناء متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے جمعیت علمائے اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمن سے ٹیلیفون پر گفتگو کی اور کوئٹہ میں ہونے والی دہشت گردی حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔