نصاب میں ختم نبوت کے مضامین شامل کئے جائیں، ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہو گا: ختم نبوت کانفرنس

چنیوٹ+فیصل آباد (نامہ نگار+ نمائندہ خصوصی) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مرکز ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں منعقد آل پاکستان ’’سالانہ ختم نبوت کانفرنس‘‘ مشن ختم نبوت کے ساتھ عہد وفاء عالم اسلام کی سلامتی اور تحفظ حرمین شریفین کی رقت آمیز دعا کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔ کانفرنس کی مختلف نشستوں سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک بھر میں امتناع قادیانیت آرڈیننس پر عمل درآمد کرایا جائے قادیانی اوقاف سرکاری تحویل میں لیا جائے سکولز اور کالجز کے داخلہ فارموں میں عقیدہ ختم نبوت کے حلف نامہ اور نصاب تعلیم میں مضامین ختم نبوت شامل کئے جائیں۔ قادیانی عسکریت پسند تنظیموں پر مکمل پابندی عائد کی جائے اور انبیاء علیہم السلام کے کردار پر بننے والی فلموں کی نمائش پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔ مقررین نے کہاکہ قادیانی گروہ نے من گھڑت مظلومیت کا سہارا لے کر ہمیشہ عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کیا۔ قادیانی گروہ اسلام اور پاکستان کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ عوام کو بتائیں کہ ایٹمی توانائی کے شعبوں اور کلیدی آسامیوں پر کتنی تعداد میں ملک دشمن قادیانی تعینات ہیں۔ قوم کو بتایا جائے کہ حرمین شریفین میں قادیانیوں کا داخلہ روکنے کیلئے وزارت مذہبی امور نے کیا اقدامات کئے ہیں، رابطہ عالم اسلامی کے فیصلے کے مطابق قادیانیوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ جبکہ حکومت نے قادیانیوں کو حج ٹریول ایجنسیاں دے رکھی ہیں۔ قادیانیوں کا حرمین شریفین میں داخلہ روکنے کے لئے ضروری ہے کہ کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کا اضافہ کیا جائے۔ سامراجی طاقتوں کا مقابلہ کرنے کیلئے ہمیں اپنی صفوں میں نظم و نسق اور اتحاد پیدا کرنا ہو گا۔ کانفرنس کی مختلف نشستوں کی صدارت مولانا عبدالمجید لدھیانوی، مولانا مفتی شہاب الدین، مولانا عبدالغفور، مولانا جاوید حسین شاہ نے کی، جبکہ کانفرنس سے مولانا محمد امجد خان، مولانا عبدالرؤف فاروقی، مولانا عزیز الرحمان جالندھری، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا صاحبزادہ ابوالخیر زبیر، مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، مولانا زبیر احمد ظہیر، مولانا محمد الیاس گھمن، مولانا عبدالخبیر آزاد، مولانا اعجاز مصطفی، مفتی شہاب الدین پوپلزئی، مولانا مفتی راشد مدنی، مولانا عتیق الرحمان ، قاری محمد عثمان مالکی، سید سلمان گیلانی سمیت متعدد مذہبی رہنماؤں نے خطاب کیا۔ مولانا عبدالمجید لدھیانوی نے کہا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوانا مجاہدین ختم نبوت اور ارکان پارلیمنٹ کا تاریخی کارنامہ ہے ملکی سلامتی و استحکام کے لئے ضروری ہے کہ دوہری شہریت اور گرین کارڈ کے حامل قادیانی افراد پر کڑی نظر رکھی جائے۔ مولانا عزیزالرحمان جالندھری نے کہا کہ پوری دنیا میں پاکستان کو بدنام کرنے کے عوض قادیانیوں کو ڈالر اور پونڈ ملتے ہیں۔ مولانا امجد خان نے کہا خیبر پی کے کی حکومت نے تعلیمی نصاب سے خلفاء راشدین کے مضامین حذف کر کے قادیانی اور سامراجی ایجنڈے کی تکمیل کی ہے ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ خلفاء راشدین کے ایام پر سرکاری تعطیل کا اعلان کیا جائے۔ صاحبزادہ ابوالخیر زبیر نے کہا کہ قادیانی گروہ سازش کے تحت ۱۹۷۴ء اور ۱۹۸۴ کی آئینی ترامیم کو ختم کرنے کے لئے نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں کو مہرے کے طور پر استعمال کر رہا ہے قادیانی دین اسلام اور پاکستان کے خلاف مسلسل سازشوں میں مصروف ہیں۔ انہیں فوج کے تمام عہدوں سے نکالا جائے۔ مولانا عبدالخبیر آزادنے کہا کہ سامراجی طاقتوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں اپنی صفوں میں نظم و نسق اور اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔ مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری نے کہا کہ ملک کا پورا نظام قادیانی اقلیت اور چند فیصد باقی اقلیتوںکے ہاتھوں یرغمال بن چکا ہے اقلیتوں کے تحفظ کے حقوق کے نام پر مسلمان اکثریت سے سنگین مذاق ہے مولانا زبیر احمد ظہیر نے کہا کہ اقلیتی استحصالی اور جاگیرداری کے بدبودار نظام نے ملکی استحکام کو خطرے میں ڈالا ہوا ہے گستاخی رسول کے واقعات کا بروقت نوٹس لیا جاتا تو غازی ممتاز قادری جیسے لوگ عشق رسالت میں اشتعال پذیر نہ ہوتے۔ مولانا عبد الرؤف چشتی نے کہا کہ قادیانی میڈیا صیاد عالمی سطح پر ویزوں کے حصول کے لئے اسلام اور پاکستان کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا کر رہا ہے۔ مولانا اعجاز مصطفی نے کہا کہ ختم نبوت اور اعمال صالحہ ایسے چراغ ہیں کہ جن کی بدولت قیامت تک اسلام کی شان و شوکت باقی رہے گی۔ مولانا مفتی محمد راشد مدنی نے کہا کہ مرزا قادیانی کا مسیح موعود ہونے کا دعوی جھوٹ کا پلندہ اور دروغ گوئی پر مبنی ہے۔ مفتی شہاب الدین پوپلرئی نے کہا کہ عقیدہ توحید کا تحفظ بھی عقیدہ ختم نبوت میں مضمر ہے۔ مولانا قاضی احسان احمد نے کہا کہ مرزا قادیانی کی کتابیں کذب بیانی اور تضادات سے بھری پڑی ہیں۔ مولانا محمد الیاس گھمن نے بھی خطاب کیا۔ قبل ازیں کانفرنس کی مختلف نشستوں سے مولانا عبدالحمید وٹو، مولانا عبدالرؤف چشتی، مولانا غلام رسول دین پوری، مولانامحمد انس شاہین، مولانا توصیف احمد، مولانا یونس آزاد، مولانا محمد وسیم اسلم، مفتی محمد خالد میر ، مولانا قاضی عبدالخالق، مولانا محمد عارف شامی، مولانا نور محمد ہزاروی، محمد شہباز عالم، مولانا راشد مدنی ٹنڈوآدم، مولانا احمد علی ثانی، حافظ مبشر محمود طارق، مولانا عبد الواحد قریشی، ڈاکٹر صولت نواز، قاری جمیل الرحمان اختر، مولانا علیم الدین شاکر، صاحبزادہ مولانا عتیق الرحمان، مولانا عبدالشکور حقانی، مولانا عبداللہ شاہ، مولانا افضال کھٹانہ، مولانا ریاض وٹو، مولانا عبدالجبار عباسی، مولانا عظمت اللہ بنوی، مولانا عبدالرشید غازی، مولانا عبدالستار گورمانی، مولانا محمد حمزہ لقمان، مولانا محمد خالد عابد، مولانا محمد عابد کمال، مولانا محمد قاسم سیوطی، مولانا خالد گنگوہی، حافظ محمد شعیب ، صاحبزادہ محمد طارق حفیظ جالندھری، مولانا محمود الحسن، قاری احسان اللہ، مفتی شفاء اللہ اور سابق قادیانی جناب شمس الدین نے خطاب کرتے ہوئے کہا حکومت پاکستان کا ڈومور کے جواب نومور کا موقف پاکستانی عوام کے دلوں کی آواز ہے اسلام کے تحفظ کے ساتھ ملک کے دفاع کا فریضہ بھی ہر مسلمان پر عائد ہوتا ہے۔ ہمیں ہر حال میں اسلام کا علم اور پاکستان کا پرچم بلند رکھنا ہوگا۔ مولانا عبدالواحد قریشی نے کہا کہ قادیانی گروہ اپنے اکھنڈ بھارت کے الہامی عقیدہ پر قائم ہے۔ مولانا محمد راشد مدنی نے کہا کہ قادیانی تعلیمی اداروں میں مرزا قادیانی کے نہ ماننے والوں کو قتل کرنے کی تعلیم دیتے ہیں۔ مولانا عبداللہ چار سدہ پشاور نے کہا کہ قادیانی پوری دنیا میں اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کے تمام ستونوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔ مولانا خالد گنگوہی نے کہا کہ اکابرین ختم نبوت کی دینی و ملی جدوجہد تاریخ کا درخشدہ باب ہے۔ مفتی خالد میر نے کہا کہ آزاد کشمیر سمیت ملک کے سرحدی علاقہ جات میں قادیانی سادہ لوح مسلمانوں کو روشن مستقبل اور بیرون ملک جانے کے سبز باغات دکھا کر اسلام سے برگشتہ کر رہے ہیں مولانا عبدالحمید وٹو نے کہا کہ قادیانی اپنی لئے قانونی حیثیت تسلیم کر لیں اور قانون سے بغاوت کا رویہ ترک کر دیں۔ مولانا عبدالشکور حقانی نے کہا کلیدی آسامیوں پر براجمان سکہ بند قادیانی قومی خزانہ سے قادیانیت کو شیلٹر مہیا کر رہے ہیں ہمیں اتحاد واتفاق سے ناموس رسالت کی جدوجہد کو پروان چڑھانا ہوگا۔ مولانا عبدالرشید غازی نے کہاکہ مغربی ممالک افریقی ریاستوں میں قادیانی گروہ کی کفریہ سرگرمیوں کو روکنے کے لیے ایک وسیع اور مضبوط پلیٹ فارم اور متحرک اور باصلاحیت رجال کار تیار کرنا ہوں گے۔ مولانا احمد علی ثانی نے کہا کہ قادیانیوں کو آئین اور قانون کا پابند بنایا جائے۔ مولانا نور محمد ہزاروی، مولانا علیم الدین شاکر، مولانا قاری جمیل الرحمان اختر، صاحبزادہ مبشر محمود طارق نے بھی خطاب کیا۔ مولاناخالد گنگوہی نے کہا کہ قادیانی طبقہ نے جس دجل وفریب کے اسلام کے افکار ونظریات اور نجات دہندہ تعلیمات کو اپنی ہوس اور ارتدادی خیالات سے مسخ کیا مسلیمہ کذاب کے دور میں بھی اس کی مثال نہیں ملتی۔ مولانا مولانا افضل کھٹانہ نے کہا کہ قادیانیوں کو پاکستان کی تمام عدالتیں اور پارلیمنٹ غیرمسلم اقلیت قرار دے چکی ہیں اور قادیانی عفریت ان فیصلوں کا کھلے عام مذاق اڑا رہا ہے۔ علاوہ ازیں کانفرنس میں قراردادوں میں مطالبہ کیا گیا کہ مولانا فضل الرحمٰن پر قاتلانہ حملہ کرنے والوں کا سراغ لگا کر کڑی سزا دی جائے۔ قادیانی اپنے مغربی آقاؤں کے ذریعے ملکی قوانین کے خاتمہ کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔ حکمرانوں کو ملکی قوانین کے تحفظ کا برملا اعلان کرنا چاہیے تاکہ آئندہ کسء کو ایسی جرأت و ہمت نہ ہوسکے۔  گستاخان رسول سے متعلق عدالتوں کے فیصلوں پر فوری عملدرآمد کیا جائے۔ حکومتی ادارہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کے مطابق ارتداد کی شرعی سزا نافذ کی جائے۔ ملک میں ہونے والی قتل و غارت گری اور دہشت گردی میں قادیانی عنصر کو فراموش نہ کیا جائے۔ چناب نگر کے باسیوں کو مالکانہ حقوق دئیے جائیں۔