اسامہ کی تلاش میں امریکہ کی مدد کرنے پر شکیل آفریدی کو سزا نہیں ہو سکتی: وکیل

کوئٹہ (بی بی سی اردو) پاکستان میں اسامہ بن لادن کی تلاش میں امریکہ کی مدد کے الزام میں گرفتار سی آئی اے کے ایجنٹ ڈاکٹر شکیل آفریدی کے وکیل سمیع اللہ آفریدی نے کہا ہے کہ امریکی میڈیا میں ان کے موکل کے حوالے سے شائع شدہ رپورٹیں اگر سچ بھی ثابت ہوتی ہیں تو تب بھی اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا اور نہ ہی اس بنیاد پر شکیل آفریدی کو سزا ہو سکتی ہے۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں ایک دوسرے کے اتحادی رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی میڈیا میں ایبٹ آباد کمشن کی رپورٹ کا حوالہ دیا گیا ہے جو پاکستان میں ابھی تک منظر عام پر نہیں آسکی۔ اس لئے ان اطلاعات پر زیادہ اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ 8 مہینے پہلے ان کی شکیل آفریدی سے جیل میں ملاقات ہوئی تھی اور تب سے وہ جیل حکام کو درخواستیں دے رہے ہیں لیکن ابھی تک ان کو ملنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ ان کے مطابق ان کے موکل کے رشتہ داروں کو بھی ملزم سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ خیال رہے کہ خیبر ایجنسی کی انتظامیہ نے گزشتہ سال مئی میں ڈاکٹر شکیل آفریدی کوشدت پسندوں کی معاونت کرنے اور سکیورٹی فورسز کے خلاف سازباز کرنے کے الزام میں ایف سی کے قانون کے تحت 33 سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔ ملزم نے اس سزا کے خلاف کمشنر پشاور کی عدالت میں ایک درخواست دائر کر رکھی ہے جس میں وکلاءکے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ اگلے ماہ 13 جون کو محفوظ کر لیا گیا ہے۔