سابق افغان حکومت نے توجہ نہیں دی، مہاجرین کی واپسی کیلئے مربوط پالیسی بنائی جائیگی: یو این ہائی کمشنر

سابق افغان حکومت نے توجہ نہیں دی، مہاجرین کی واپسی کیلئے مربوط پالیسی بنائی جائیگی: یو این ہائی کمشنر

پشاور+ لاہور+ نیویارک (آن لائن+ نیوز رپورٹر+ اے ایف آئی) اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین انتونیو گیوتیرے نے کہا ہے کہ سابق افغان حکومت نے افغان مہاجرین کی واپسی پر توجہ نہیں دی۔ افغان مہاجرین کیلئے کم امداد ملنے کے باوجود پاکستان انہیں سہولیات دے رہا ہے، افغا ن مہاجرین کی بحالی کے لئے پاکستان کی کوشش قابل تعریف ہے۔ اکتوبر میں افغان مہاجرین کے حوالے سے کانفرنس ہوگی جس میں دنیا بھر کے سربراہان شرکت کرینگے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روزیو این ایچ سی آر کے چمکنی میں افغان مہاجرین کے رضا کارانہ واپسی کے سنٹر کے دورہ کے موقع پرمیڈیا سے بات چیت کرتے ہو ئے کہی۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ وفاقی وزیر سیفران عبدالقادر بلوچ، کمشنر افغان مہاجرین بھی موجود تھے۔ عبدالقادر بلوچ نے کہاکہ افغان مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ وفاقی کابینہ کریگی۔ اقوام متحدہ ہائی کمشنر برائے مہاجرین انتونیوگیرتیرے نے گزشتہ روز شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال پشاور میں نئے ایمرجنسی اسیسمنٹ یونٹ کا افتتاح کیا۔ اس یونٹ سے ہر سال تقریباً 9500مریض مستفید ہونگے جس میں 25فیصد تعداد افغان مہاجرین کی ہو گی۔ اس موقع پر خیبر پی کے کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک، فرنٹیئر ریجن کے وفاقی وزیر لیفٹیننٹ جنرل عبدالقادر بلوچ، پاکستان میں یو این ایچ سی آر کے نمائندے اندریکا رتوتے و دیگر تھے۔ یہ ایمرجنسی اسیسمنٹ یونٹ یو این ایچ سی آر اور کمشنریٹ فار افغان رفیوجیز کو امریکی عوام کی طرف سے فراہم کئے گئے فنڈ کی مدد سے تعمیر کیا گیا ہے جس میں اقوام متحدہ کے ادارے آر اے ایچ اے تعاون شامل ہے۔ اس پراجیکٹ پر ساڑھے 3کروڑ روپے بشمول 45لاکھ روپے مالیت کے طبی آلات خرچ ہوئے۔ انتونیوگیوتیرے نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اقوام متحدہ کا ادارہ دنیا کی سب سے طویل عرصہ پر محیط پناہ گزین کی آبادی جو 35سال سے یہاں آباد ہے، کی میزبانی کا بوجھ اٹھانے کیلئے پاکستان کی حکومت کے ساتھ اپنا اشتراک جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا دنیا کو ان لاکھوں افغان مہاجرین کو نہیں بھولنا چاہئے جو جنگ کی وجہ سے ہجرت کرکے طویل عرصہ سے پاکستان میں رہ رہے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت مہاجرین کی دوسری بڑی تعداد موجود ہے۔ انہوں نے کہاکہ عالمی برادری کی توجہ یمن، عراق اور شام کے بحرانوں کے باعث مشرق وسطیٰ کی جانب منتقل ہو گئی ہے مگر یاد رہے کہ افغان اس وقت بھی دنیا کا دوسرا بڑا مہاجر گروپ ہے۔ دریں اثناء یو این او ہائی کمشنر برائے مہاجرین انتونیو گیرتیرے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگست تک افغان مہاجرین کی وطن واپسی کی، مربوط پالیسی کا اعلان کیا جائے گا۔ افغانستان پاکستان، یو این ایچ سی آر مل کر پالیسی کا اعلان کریں گے۔ یو این ایچ سی آر کو پاکستان میں افغان مہاجرین، متاثرین آپریشن کے فنڈز کی کمی کا سامنا ہے۔ یو این ایچ سی آر مزید اضافی اخراجات برداشت نہیں کر سکتا۔ مزید برآں انہوں نے بحیرہ روم میں لوگوں کی سمگلرز کیخلاف آپریشن کی منصوبہ بندی پر پوری یونین کو خبردار کرتے ہوئے کہا اس آپریشن کے دوران ہجرت کرنے والوں کا تحفظ ضروری ہے۔