سکیورٹی اور آزادی میں توازن تک جمہوریت نہیں چل سکتی: چیف جسٹس

سکیورٹی اور آزادی میں توازن تک جمہوریت نہیں چل سکتی: چیف جسٹس

کراچی (نوائے وقت رپورٹ) چیف جسٹس تصدیق حسین جیلانی نے کہا ہے کہ قانون کی حکمرانی آزاد عدلیہ کے بغیر ممکن نہیں، آزاد عدلیہ جمہوریت کا ستون ہے۔ سندھ ہائیکورٹ  بار عشائیے میں چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ سمیت ہائیکورٹ بار کونسل کے عہدے دار اور وکلا نے شرکت کی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ میں قائداعظمؒ کے اصولوں اور قدروں کو سلام پیش کرتا ہوں، قائداعظمؒ کے اصولوں پر عمل نہیں کیا جا رہا، مصنف ہونا پیشہ نہیں طرز زندگی ہے۔ آئین میں اقلیتوں کے لئے جو کچھ کہا گیا ہے اس کو اُجاگر کرنے کی کوشش کی ہے، آئین میں اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی دی گئی ہے، قانون اور آئین سازی میں وکلا کا کردار اہم ہوتا ہے، جمہوریت جب تک نہیں چل سکتی جب تک سکیورٹی اور آزادی میں توازن نہ ہو جو قوم اداروں کا احترام نہیں کرتی وہ ختم ہو جاتی ہیں، آئین اور قانون رنگ و نسل سے بالاتر ہے۔ سپریم کورٹ بنیادی حقوق کی فراہمی کا ذریعہ ہے۔ امید انسان کو ہمیشہ کامیابی کی طرف بڑھاتی ہے، عدالتی نظام میں تاخیر سے لوگ پریشان ہوتے ہیں۔ انصاف کی ایک گھڑی ہزار راتوں کی عبادت سے افضل ہے۔ ہم نے قائداعظمؒ کے افکار کو ان کے ساتھ ہی دفن کر دیا۔ وکلا عدالتوں اور عوام کا اعتماد بحال کریں، آئین اور قانون رنگ و نسل سے بالاتر ہے۔