پودے ریاضی کے ماہر ہوتے ہیں، سائنس دانوں کا دعویٰ

 پودے ریاضی کے ماہر ہوتے ہیں، سائنس دانوں کا دعویٰ

لندن (رائٹرز) سائنسدانوں کی نئی تحقیق کے مطابق پودے یہ بات دیکھنے کیلئے کہ آیا انکے پاس پوری رات گزارنے کا ذخیرہ موجود ہے یا نہیں انتہائی پیچیدہ حسابی عمل کرتے ہیں۔ ایف لائف شوز نامی جریدے میں شائع رپورٹ میں بتایا گیا ہے پودے رات کو اپنی بھوک سے بچنے کیلئے دن کو سٹارچ کو خرچ کرنے کی شرح میں کمی لے آتے ہیں۔ رات کو سورج کی روشنی کی عدم موجودگی کی وجہ سے وہ خوراک حاصل کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔ پودے اپنی خوراک اتنے منظم طریقے سے استعمال کرتے ہیں اس میں کسی دن غیر متوقع طور پر رات کے جلدی آ جانے کا بھی اعتبار کیا گیا ہوتا ہے۔ سنٹر کے ریاضی دان مارٹن ہاورڈ نے کہا کہ یہ کسی بنیادی بائیولوجیکل پروسیس کے دوران وقوع پذیر ہونے والے پیچیدہ حسابی عمل کی پہلی واضح مثال ہے۔ پودوں کے پتوں کے اندر ایک میکنزم ہوتا ہے جو رات سے لیکر صبح تک وقت اور اپنے اندر ذخیرہ شدہ سٹارچ کی مقدار کا حساب لگا لیتا ہے    ۔ اور پھر انتہائی پیچیدہ حسابی عمل کے بعد اس سٹارج کو مناسب طریقے سے استعمال کرتا ہے۔