آج شب رحمت کے تین سو در کھل جائیں گے

علامہ منیر احمد یوسفی
اِس ماہِ مبارک یعنی ”شعبان المعظم“ کی فضیلت میں ”شعبان المعظم کے باب“ میں حضرت غوث اعظمؒ لکھتے ہیں۔ شعبان کے پانچ حروف ہیں ”ش ۔ ع ۔ ب ۔ ا ۔ ن“ آپ فرماتے ہیں۔ ”ش“ سے شرف کی طرف اشارہ ہے ”ع“ سے علو یعنی بلندی مراد ہے۔ ”ب“ سے بر یعنی نیکی مراد ہے۔ ”ا“ سے اُلفت یعنی محبت مراد ہے اور ”ن“ سے نُور یعنی روشنی مراد ہے۔
آپ فرماتے ہیں، یہ وہ نعمتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ اِس مہینہ میں اپنے بندوں کو عطا فرماتا ہے اور یہ وہ مہینہ ہے جس میں نیکیوں کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے اور برکتیں نازل ہوتی ہیں۔ خطائیں معاف ہوتی ہیں۔ گناہوں کو مٹایا جاتا ہے اور حضرت محمد جو سب مخلوقات سے بہتر مخلوق ہیں، پر کثرت سے دُرود شریف بھیجا جاتا ہے۔ ( غنیة الطالبین عربی، اردو ص 356 ، چھاپہ مکتبہ تعمیر انسانیت لاہور)
شعبان المعظم شریف کے بارے میں احادیث مبارکہ میں تفصیل ملتی ہے۔ اگر ہمیں صحیح صحیح معلومات حاصل ہوں ، تو ہم بھی اُن لوگوں کی طرح ، جو اِس ماہ مبارک کے فضائل سے آگاہ ہیں، فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔
حضرت علامہ بدر الدین عینیؒ فرماتے ہیں ”شعبان شعب سے مشتق ہے اور یہ اجتماع کے معنیٰ میں ہے چونکہ اِس مہینے میں رمضان المبارک کی طرح خیر کثیر کا اجتماع ہوتا ہے۔ لہٰذا اِسے شعبان (المعظم) کہا جاتا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ لوگ اِدھر اُدھر متفرق ہو جانے کے بعد اِس مہینے میں جمع ہوتے تھے۔ بنا بریں یہ مہینہ شعبان کہلاتا ہے۔ حضرت ابنِ دُریدؒ کا کہنا ہے کہ لوگ اِس مہینے میں پانی کی طلب میں اِدھر اُدھر پھیل جاتے تھے‘ اِس لئے اِس مہینے کو شعبان کہا جاتا ہے۔ “ ( عمدة القاری شرح بخاری جلد 6 جز11 ص 82)
”اور محکم میں ہے ”شعبان“ میں لوگ غاروں میں بٹ جاتے تھے لہٰذا یہ مہینہ شعبان کہلانے لگا۔ ثعلب اور کچھ لوگوں کے خیال میں رمضان المبارک اور رجب المرجب کے درمیان ظاہر ہونے کی بنیاد پر یہ ”شعبان“ کہلاتا ہے۔ ثعلب کے نزدیک اِس مہینے کو اِس لئے شعبان کہتے ہیں کہ اِس میں مختلف قبائل بادشاہوں وغیرہ سے عطیات حاصل کرنے کے لئے زمین پر پھیل جاتے تھے۔ “
”اور وہ یہ مہینہ ہے جس میں نیکیوں کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے اور برکتیں نازل ہوتی ہیں اور خطائیں معاف کی جاتی ہیں اور گناہوں کا کفارہ کیا جاتا ہے۔ حضرت محمد پر کثرت سے دُرود شریف بھیجا جاتا ہے جو تمام مخلوقات میں سے بہترین ہیں۔ یہ مہینہ نبی کریم جوکہ برگزیدہ ہیں‘ پر دُرود شریف بھیجنے کے واسطے مخصوص ہے۔ پس ہر عقل مند مسلمان کو چاہیے کہ اِس مہینے میں غافل نہ ہو بلکہ اِس مہینے میں واسطے ماہِ رمضان المبارک کے استقبال کے مستعد و آمادہ ہو جائے اور اپنے گناہوں سے توبہ اور تلافی کی فکر کرے اور ماہِ شعبان المعظم میں درگاہِ باری تعالیٰ میں الحاح و زاری کرے اور صدقِ دل سے رجوع لائے اور بطفیلِ صاحبِ ماہ کہ حضرت محمد ہیں۔ خداوند تعالیٰ سے طلبِ رحمت کرے تاکہ خداوند تعالیٰ اُس کے دل کا فساد دور فرما دے اور اُس کے باطن کے مرض کی دوا کرے اور اُن کاموں کو کل پر نہ اُٹھا رکھے۔“ (غنیة الطالبین ص 356)
اُم المومنین سیّدہ عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے، فرماتی ہیں، میں نے رسولِ کریم کو فرماتے ہوئے سُنا : اللہ (تعالیٰ) چار راتوں میں نیکیوں کے دروازے کھول دیتا ہے -1 شب (عید) الاضحی -2 شب (عید) الفطر -3 شب عرفہ اور -4 شب وسطِ شعبان (المعظم) کہ اس میں اللہ تعالیٰ لوگوں کی عمریں اور رزق لکھتا ہے اور اِس رات میں حاجیانِ خانہ کعبہ کا شمار لکھتا ہے۔ (یعنی جن کی عمریں اور رزق ختم ہو رہا ہے اور جو حج کے لئے جائیں گے، سب کے نام لکھے جاتے ہیں)۔ (غنیة الطالبین مترجم ص 263‘ درمنثور جلد 7 ص 402)
اُم المومنین سیّدہ عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے، فرماتی ہیں ، رسولِ کریم میرے حجرہ¿ مبارک میں کملی اوڑھے آرام فرما رہے تھے شعبان المعظم کی پندرہویں شب تھی آپ کملی سے باہر تشریف لائے۔ (آپ فرماتی ہیں) وہ کملی ابریشم قنزو کتان ، خز اور سوت کے کپڑے سے نہ تھی یہ سب عمدہ ریشمی کپڑوںکی قسمیں ہیں، آپ فرماتی ہیں، وہ بکری کے بال کی تھی اور اونٹ کے بال بھی اِس میں ملے ہوئے تھے۔ پچھلی رات رسولِ کریم کو بستر پر نہ پا کر میں پریشان ہوئی میں نے آپ کو سجدہ میں پایا۔ میرا ہاتھ رسولِ کریم کے پاﺅں مبارک کو لگ گیا۔ اُس وقت سجدہ میں تھے اور دُعا فرما رہے تھے۔ میں نے یہ دُعا حفظ کر لی۔ آپ نے نہایت شانِ عبدیت کے ساتھ بارگاہِ صمدیت میں عرض کیا ”سجدہ کیا تیرے حضور میری آنکھوں کی سیاہی اور میرے خیال نے اور میرا دل تیرے ساتھ اِیمان لایا۔ تیری نعمتوں کو قبول کیا (اپنے رب کے حضور اِنتہائی اِظہار تواضع کرتے ہوئے عرض کیا) میں تیرے عذاب سے تیری معافی کی پناہ ڈھونڈتا ہوں اور تیرے غضب سے تیری رضا مندی کی پناہ تلاش کرتا ہوں۔ میں تیری حمد و ثناءکو شمار نہیں کر سکتا۔ جیسے تو نے خود اپنی ثناءکی ہے “۔(مجمع الزوائد جلد 2 ص 178)
(یہ دُعا آپ نے اپنے رب کے حضور اظہارِ بندگی بجا لاتے ہوئے کی اور دراصل یہ اُمّت کو تعلیم ہے کیونکہ آپ تو معصوم عن الخطاءہیں، ہر قسم کے جرم و عصیاں سے پاک ہیں)۔
”حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم نے فرمایا کہ حضرت جبرائیلؑ شعبان (المعظم) کی پندرہویں رات کو میرے پاس حاضر ہوئے اور مجھے عرض کیا: یا محمد آسمان کی طرف اپنا سر اُٹھائیں۔ آپ فرماتے ہیں‘ میں نے حضرت جبرائیلؑ سے کہا یہ کیسی رات ہے؟ عرض کیا یہ ایک رات ہے جس میں اللہ (تعالیٰ) رحمت کے تین سو دروازے کھول دیتا ہے۔ اللہ (تعالیٰ) اُن تمام لوگوں کی بخشش فرما دیتا ہے جو اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے مگر ”ساحر، کاہن، شراب خور، سود خور اور زانی“ کو نہیں بخشتا جب تک کہ وہ توبہ نہ کریں۔
پھر جب رات کا چوتھائی حصہ گزرا تو (حضرت) جبرائیلؑ پھر نازل ہوئے اور عرض کیا یا محمد اپنا سرِ آسمان کی طرف اُٹھائیے، آپ نے اپنا سرِ اُٹھایا۔ آپ دیکھتے ہیں کہ جنت کے دروازے کھول دئیے گئے ہیں۔
پہلے دروازے پر ایک فرشتہ آواز دیتا ہے، خوشخبری ہے اُس کے لئے جو آج کی شب رکوع میں ہے۔
دوسرے دروازے پر ایک فرشتہ آواز دیتا ہے، خوشخبری ہے اُس کے لئے جو آج کی رات سجدہ کرتا ہے۔
تیسرے دروازے پر ایک فرشتہ آواز دیتا ہے، خوشخبری ہے اُس کے لئے جو آج کی رات دُعا کرتا ہے۔
چوتھے دروازے پر ایک فرشتہ آواز دیتا ہے، خوشخبری ہے ان کے لئے جو آج کی رات ذکر کرنے والے ہیں۔
پانچویں دروازے پر ایک فرشتہ آواز دیتا ہے، خوشخبری ہے اُس شخص کے لئے جو آج کی رات خوفِ خدا سے روتا ہے ۔
چھٹے دروازے پر ایک فرشتہ آواز دیتا ہے، خوشخبری ہے ہر مسلمان کو آج کی رات ۔
ساتویں دروازے پر ایک فرشتہ ندا کرتا ہے۔ آیا ہے کوئی کہ سوال کرے اور اُس کا سوال پورا کیا جائے۔
آٹھویں دروازے پر ایک فرشتہ ندا کرتا ہے۔ آیا ہے کوئی بخشش طلب کرنے والا کہ وہ بخشا جائے؟
آپ فرماتے ہیں، میں نے جبرائیلؑ سے پوچھا یہ دروازے کب تک کھلے رہیں گے؟ تو جبرائیلؑ نے عرض کیا: اوّل شب سے صبح کے طلوع ہونے تک اور پھر عرض کیا یا محمد اِس رات اللہ (تعالیٰ) دوزخ کی آگ سے بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کے برابر اپنے بندوں کو آزادی عطا فرماتا ہے۔ (غنیة الطالبین ص 364)
” اُم المومنین سیّدہ عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے، رسولِ کریم میرے ہاں تشریف فرما ہوئے آپ کے لئے بستر بچھایا گیا۔ مگر آپ نے بستر پر آرام نہ فرمایا۔ آپ میرے حجرہ سے نکلے۔ میں بھی آپ کے پیچھے نکلی مگر میں نے آپ کو (جنت) البقیع میں پایا۔ وہاں آپ مومن مردوں اور مومنہ عورتوں اور شہداءکی بخشش کے لئے استغفار فرما رہے تھے۔ رسولِ کریم نے فرمایا: میرے پاس (حضرت) جبرائیلؑ حاضر ہوئے اور عرض کیا یہ شعبان (المعظم) کی پندرھویں رات ہے (ابن ماجہ ص 100) اِس رات اللہ (تعالیٰ) بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد کے برابر جہنم سے لوگوں کو آزادی عطا فرماتا ہے۔ مگر اِس رات اللہ (تعالیٰ) مشرک ، کینہ پرور ، قاطع رحم ، پاجامہ ٹخنوں سے نیچے رکھنے والے‘ ماں باپ کو ستانے والے اور ہمیشہ شراب پینے والے کی طرف نگاہِ کرم نہیں فرماتا۔ اے عائشہؓ تم اجازت دو تاکہ میں آج کی رات قیام کروں۔ میں نے عرض کیا (کیوں نہیں! یا رسول اللہ ) میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ پھر آپ (نماز کے لئے) کھڑے ہوئے، (بعد ازیں) طویل سجدہ فرمایا، جس سے مجھے اندیشہ ہوا شاید آپ کی روح پرواز کر گئی ہے تو میں نے آپ کے (نورانی) پاﺅں (مبارک) کے تلوے (مبارک) کو ہاتھ لگایا تو آپ نے اُسے ہلایا اور مجھے بہت فرحت حاصل ہوئی۔ پھر میں نے آپ کو سجدہ میں دُعا کرتے سُنا۔
اُم المومنین سیّدہ عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں پھر صبح ہوئی تو میں نے اِن دُعائیہ کلمات کا آپ سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: کیا تُو نے اِن کلمات کو سیکھ لیا۔ عرض کیا جی ہاں ! یا رسول اللہ ۔ فرمایا! تم خود بھی سیکھ لو اور اوروں کو بھی سکھلا دو۔ کیونکہ جبرائیلؑ نے (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) مجھے یہ کلمات بتائے اور عرض کیا کہ میں اِن کلمات کو سجدہ میں پڑھوں۔“ (الترغیب والترہیب جلد 3 ص 460)
اُم المومنین سیّدہ عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے‘ فرماتی ہیں: رسولِ کریم نے نماز کا مختصر قیام فرمایا (جس میں ایک مرتبہ سورة الحمد شریف اور آیات کے لحاظ سے مختصر سورت پڑھی، پڑھنے کے بعد رکوع کیا) اور سجدے میں چلے گئے۔ اتنا لمبا سجدہ فرمایا کے میں نے گمان کیا شاید آپ کی روح پرواز کر گئی ہے تو میں نے آپ کے پاﺅں مبارک کو ہاتھ لگایا تو آپ نے حرکت دی۔ پھر دوسری رکعت میں‘ پہلی رکعت کی طرح قیام اور قرا¿ت فرمائی اور لمبے وقت تک سجدہ میں پڑے رہے اور سجدوں میں یہ دُعا پڑھی:۔ اَعُو±ذُ بِعَفُوِّکَ مِن± عَقَابِکَ وَاَعُو±ذُ بِرَضَاکَ مِن± سَخ±طِکَ وَاَعُو±ذُ بِکَ مِن±کَ اِلَی±کَ لَا اَح±صٰی ثَنَآئُ عَلَی±کَ اَن±تَ کَمَا اث±نَی±تُ عَلٰی نَف±سِکَ”اے بارِ خدا یا تیرے عفو کی پناہ ڈھونڈتا ہوں تیرے عذاب سے اور تیری رضا کی پناہ ڈھونڈتا ہوں۔ تیرے قہر سے اور تیرے ساتھ تجھ ہی سے پناہ ڈھونڈتا ہوں۔ تیری ذات بزرگ ہے۔ میں تیری صفت و ثناءبیان نہیں کر سکتا جیسی تو نے خود اپنی صفت وثناءبیان فرمائی۔“ (درمنثور جلد 7 ص 403)
”پھر آپ نے اپنے سر انور کو سجدہ سے اُٹھایا اور نماز سے فارغ ہوئے اور فرمایا: اے عائشہؓ کیا تم جانتی ہو کہ یہ رات کون سی ہے؟ اُم المومنین سیّدہ عائشہ صدیقہؓ نے عرض کیا اللہ (تعالیٰ) اور اُس کے رسول سب سے زیادہ خوب جانتے ہیں تو رسولِ کریم نے فرمایا، یہ شعبان (المعظم) کے نصف کی رات ہے (یعنی پندرہویں شعبان المعظم کی رات)۔ بے شک اللہ (تعالیٰ) اِس رات اپنے بندوں پر خصوصی نگاہ کرم فرماتا ہے۔ رحم چاہنے والوں پر رحم فرماتا ہے اور کینہ پروروں کو اُن کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے۔“ (الترغیب والترہیب جلد 2 ص 119)
حضرت عثمان بن مغیرہ بن اخنسؓ سے روایت ہے‘ فرماتے ہیں‘ رسول اللہ نے فرمایا ہے: ”شعبان (المعظم) میں اگلے شعبان (المعظم) تک کے تمام کام مقرر کر دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ جس کا نکاح ہونا ہے اور اولاد کا اور جس نے مرنا ہو اُس کا نام (زندوں سے) مرنے والوں میں علیٰحدہ کیا جاتا ہے۔“ (درمنثور جلد 7 ص 401) درمنثور میں یہی روایت اِنہی الفاظ کے ساتھ حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے:
حضرت معاذ بن جبلؓ سے روایت ہے، فرماتے ہیں، نبی کریم نے فرمایا:”اللہ (تبارک و تعالیٰ) شعبان (المعظم) کی پندرہویں شب مخلوق کی طرف نزول اَجلال فرماتا ہے مشرک اور کینہ پرور کے علاوہ سب کی بخشش فرما دیتا ہے“۔ (الترغیب والترہیب)
حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے، فرماتے ہیں ‘ رسول اللہ نے فرمایا:”اللہ (تعالیٰ) شعبان (المعظم) کی پندرھویں رات مخلوق کی طرف نزولِ اَجلال فرماتا ہے‘ اپنے بندوں میں سے دو کی بخشش نہیں فرماتا (۱) کینہ پرور اور (۲) خودکشی کرنے والے کی۔“ (مسند احمد)
امیر المومنین حضرت سیّدنا ابو بکر صدیقؓ سے روایت ہے‘ فرماتے ہیں:”اللہ (تعالیٰ) ہر مومن کی بخشش فرما دیتا ہے، سوائے والدین کے نافرمان‘ بے ادب اور ذاتی دشمنی رکھنے والے کے ۔“ (الجامع لشعب الایمان للبیہقی)
امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیقؓ سے روایت ہے‘ فرماتے ہیں‘ رسول اللہ نے فرمایا: ”جب شعبان (المعظم) کی نصف (یعنی پندرہویں) رات ہوتی ہے اللہ (تعالیٰ) آسمان دنیا پر نزولِ اَجلال فرماتا ہے۔ پھر اپنے بندوں کی بخشش فرما دیتا ہے۔ سوائے مشرک اور اپنے بھائی سے بغض رکھنے والے کے۔“ (الجامع لشعب الایمان)
حضرت کثیر بن مرةؓ سے روایت ہے، فرماتے ہیں، رسول اللہ نے فرمایا:۔ ”شعبان (المعظم) کی پندرہویں رات اللہ (تعالیٰ) سوائے مشرک اور کینہ پرور کے تمام اہلِ زمین (مراد اہلِ ایمان) کی بخشش فرما دیتا ہے۔“ (الترغیب والترہیب)