ضمنی انتخابات کے بڑے اپ سیٹ رہنماوں کے غلط فیصلوں کا نتیجہ ہیں

فیصل آباد (رپورٹ: احمد جمال نظامی) 22 اگست کے ضمنی انتخابات میں حسب توقع مسلم لیگ (ن) قومی و صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں پر کامیابیوں کے لحاظ سے سرفہرست رہی۔ پورے ملک میں قومی اسمبلی کی صرف 15 نشستوں پر ضمنی الیکشن ہو رہے تھے۔ مسلم لیگ (ن) نے 5، تحریک انصاف نے 4، پیپلز پارٹی نے 3، ایم کیو ایم اور اے این پی نے ایک ایک نشست پر کامیابی حاصل کر لی ہے۔ سب سے بڑا اپ سیٹ یہ ہوا کہ عمران خان کے آبائی حلقہ این اے 71 میانوالی سے مسلم لیگ(ن) کے عبداللہ شادی خیل نے تحریک انصاف کے ملک وحید کو شکست دیکر عمران خان سے تحریک انصاف کا لاڑکانہ چھین لیا ہے۔ عمران خان اس نشست سے الیکشن 2002ءمیں بھی کامیاب ہوئے تھے۔ میانوالی سے کامیابی کے بعد عمران خان کو اپنے آبائی حلقہ کی یہ نشست اپنے پاس رکھنی چاہیے تھی۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے حنیف عباسی کو ضمنی الیکشن میں اترنے سے روکنے کیلئے این اے 56 راولپنڈی کا حلقہ اپنے پاس رکھ کر اس لحاظ سے دانشمندی کا مظاہرہ نہیں کیا تھا کہ اس حلقہ سے وہ پارٹی کے کسی بھی سینئر لیڈر کو ضمنی الیکشن میں اپنا امیدوار بنا سکتے تھے حتیٰ کہ اس حلقہ سے جہانگیر ترین بھی ضمنی الیکشن میں بہت حد تک موزوں امیدوار ہو سکتے تھے۔ جیسا کہ تحریک انصاف نے این اے 48 پر جو پارٹی کے صدر مخدوم جاوید ہاشمی نے 11 مئی کے الیکشن میں جیت کر خود ملتان کی نشست رکھ کر ضمنی الیکشن کے لئے خالی کی تھی۔ اس نشست سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار چودھری محمد اشرف گجر ایڈووکیٹ کو شکست دے کر اس نشست سے اب تحریک انصاف کے جواں سال لیڈر اسد عمر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہو گئے ہیں۔ اسد عمر ملک کے ممتاز ماہر اقتصادیات ہیں اور قومی اسمبلی میں ان کی موجودگی سے موجودہ حکومت بھی فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ این اے 48 سے ان کی کامیابی اس امر کی دلیل ہے کہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں تحریک انصاف ملک کی سب سے مقبول سیاسی جماعت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے۔ مبصرین این اے ون پشاور سے تحریک انصاف کے گل بادشاہ کے مقابلہ میں اے این پی کے مرکزی لیڈر غلام احمد بلور کی کامیابی کو اپ سیٹ قرار دیتی ہے۔ یہ نشست عمران خان نے ضمنی الیکشن کے لئے خالی کی تھی۔ عمران خان مقابلے سے باہر ہوئے تو ان کی پارٹی کے نامزد امیدوار غلام احمد بلور کے مقابلے میں ریت کی دیوار ثابت ہوئے اور انہوں نے اپنی نشست تحریک انصاف سے واپس لے لی۔ غلام احمد بلور کی کامیابی اتنی واضح ہے کہ خود عمران خان نے انہیں مبارکباد دی ہے۔ عمران خان کو بڑے پن کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور این اے 71 کے فاتح عبیداللہ شادی خیل کو بھی اس کی کامیابی پر مبارکباد پیش کر دینی چاہئے۔ جمعیت علمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمن نے بھی 11 مئی کے الیکشن میں ایک سے زیادہ نشستوں سے کامیابی حاصل کی تھی اور اب تحریک انصاف کے ایک عام امیدوار کے ہاتھوں مولانا فضل الرحمن کے بھائی عطاءالرحمن کی شکست بھی ایک اپ سیٹ ہے۔ تحریک انصاف نے جنوبی پنجاب میں وزیر اعلیٰ پنجاب میاں نوازشریف اور مسلم لیگ (ن) کے اہم لیڈر ذوالفقار علی کھوسہ کی جیتی ہوئی نشستیں ضمنی الیکشن میں اپنے نام کر لی ہیں اور اس بات کو بھی ایک بڑا اپ سیٹ کہا جا سکتا ہے اور ان سب سے بھی بڑا انتخابی اپ سیٹ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے پنجاب سے قومی اسمبلی کی ایک نشست جیت کر یہ بات ثابت کر دی ہے کہ اس کی جڑیں ابھی عوام میں موجود ہیں۔ اوکاڑہ سے صوبائی اسمبلی کی ایک نشست مسلم لیگ (ن) کے معین وٹو نے ضمنی الیکشن کے لئے خالی کی تھی۔ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں منظور احمد وٹو پہلے اس نشست سے خود مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کا سامنا کرنا چاہتے تھے۔ ان کے بیٹے خرم جہانگیر وٹو نے 11 مئی کو ہاری ہوئی نشست اس طرح جیتی ہے کہ میاں منظور احمد وٹو نے اس حلقہ انتخاب میں اپنے ناراض گروپوں کے نمائندوں اور اپنے مخالف خاندانوں کے گھروں میں آمدورفت کا سلسلہ جاری رکھا۔ ان سے منت سماجت کر کے انہیں اپنے حلقہ دوستاں میں شامل کرتے رہے اور اس طرح پنجاب میں مسلم لیگ(ن) کی حکومت کے باوجود میاں منظور احمد وٹو نے اپنے بیٹے خرم جہانگیر وٹو کو کامیاب کرا لیا۔ انہوں نے خرم جہانگیر وٹو کو کامیاب کرانے کے بعد یہ بات ثابت کر دی ہے کہ وہ پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر رہ سکتے ہیں۔ ایک انتخابی اپ سیٹ این اے 177 میں بھی دیکھنے کو ملا ہے کہ قومی اسمبلی کے رکن جمشید دستی نے اس نشست پر 11 مئی کے الیکشن میں مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو شکست سے دوچار کیا تھا۔ وہ این اے 176 سے بھی کامیاب ہوئے تھے۔ انہوں نے این اے 177 ضمنی الیکشن کیلئے خالی کر کے ضمنی الیکشن میں اپنے بھائی جاوید دستی کو اس نشست سے امیدوار کھڑا کیا تھا۔ اس مرتبہ بھی غلام نور ربانی کھر نے پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر ان کا مقابلہ کیا اور جاوید دستی کو واضح برتری سے شکست دینے میں کامیاب ہو گئے۔ این اے 68 ضلع سرگودھا سے میاں نوازشریف نے جنرل الیکشن میں جیت کر خالی کی تھی۔ اب مسلم لیگ(ن) کے نامزد امیدوار نے یہ نشست جیت لی ہے۔ این اے 83 فیصل آباد میں 11مئی کو ایک امیدوار میاں امجد ربانی کی وفات کے باعث الیکشن نہیں ہو سکا تھا۔ اس نشست پر تحریک انصاف کے امیدوار پنجاب اسمبلی کے سابق رکن فیض اللہ کموکا اور پیپلز پارٹی کے امیدوار سابق سٹی ناظم فیصل آباد چودھری ممتاز علی چیمہ تھے۔ انہیں ضمنی الیکشن میں بھی برقرار رکھا گیا تھا۔ یہ انتخابی معرکہ بھی مسلم لیگ (ن) کے میاں عبدالمنان نے جیت لیا ہے۔ ضمنی الیکشن سے ایک بات تو یہ ثابت ہو گئی ہے کہ مسلم لیگ (ن) ملک کی سب سے مقبول جماعت ہے اور دوسری بات یہ بھی سامنے آئی ہے کہ تحریک انصاف کے امیدواروں نے چاروں صوبوں میں مختلف جماعتوں کے امیدواروں کے مقابلے میں کانٹے دار مقابلوں سے ثابت کیا ہے کہ تحریک انصاف وفاقی پارٹی بن رہی ہے۔ اس کا فیصلہ خیبر پی کے کی حکومت نے کرنا ہے جو تاحال ناکام ہے۔