وزارت پٹرولیم نے کوئی کام نہیں کرنا تو اسے بند کرا دیتے ہیں: ہائیکورٹ

وزارت پٹرولیم نے کوئی کام نہیں کرنا تو اسے بند کرا دیتے ہیں: ہائیکورٹ

لاہور (وقائع نگار خصوصی) ہائیکورٹ نے پٹرول بحران کے ذمہ داروں کے تعین کے لئے وزیراعظم کی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ اور دسمبر میں ہونے والے آئل ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس کی تفصیلات پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے سماعت 6 فروری تک ملتوی کرتے ہوئے ریمارکس میں کہا ہے کہ اگر وزارت پٹرولیم ذمہ داری پوری نہیں کر سکتی تو اسے بند کر دیتے ہیں۔ پٹرولیم بحران بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ سب سے بڑا کام اس بات کا تعین ہے کہ اس بحران کے ذمہ دار کون تھے؟ اس وقت ذمہ داروں کو چھپانے کی نہیں بلکہ منظرعام پر لانے کی ضرورت ہے کیونکہ اس وقت کسی کو تو سوچنا ہے کہ اس بحران سے کیسے نمٹا جائے۔ عدالت نے کہا کہ یہاں صرف بیان دیئے جاتے ہیں عملی اقدام نہیں کیا جاتا۔ جسٹس سید منصور علی شاہ نے پٹرولیم بحران کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کی۔ اوگرا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اوگرا آئل کمپنیوں کو لائسنس جاری کر کے انکی مانیٹرنگ کرتی ہے۔ اوگرا کے فارمولے کے تحت کمپنیاں قیمتوں کا تعین خود کرتی ہیں، ملکی تاریخ میں پہلی بار سردیوں کے موسم میں قیمتیں زیادہ ہونے کی بجائے کم ہوئیں، طلب اور رسد کے معاملات دیکھنا وزارت پٹرولیم کا اختیار ہے۔ وزارت پٹرولیم کے ڈائریکٹر لیگل نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعظم نے سیکرٹری پٹرولیم، جوائنٹ سیکرٹری اور ڈی جی آئل کو معطل کر رکھا ہے جسکی وجہ سے وہ عدالت پیش نہیں ہو سکے۔ وزارت پٹرولیم کے افسر نے بتایا کہ گذشتہ پانچ ماہ میں پٹرول کی قیمت میں اٹھائیس روپے کی کمی ہوئی۔ طلب اور رسد کے درمیان فرق کو دیکھنے کے لئے دسمبر میں ڈی جی آئل کی سربراہی میں آئل ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا۔ اجلاس کی تفصیلات پیش نہ کرنے پر عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ اگر طلب اور رسد کے فرق کو دیکھا گیا تھا تو اسکی تفصیلات عدالت میں کیوں پیش نہیں کی جا رہیں۔ اگر وزارت پٹرولیم نے کوئی کام نہیں کرنا تو اسے بند کرا دیتے ہیں۔ عوام سوال کر رہے ہیں کہ وزارت میں طلب اور رسد کے فرق کو دیکھنے والا کوئی افسر موجود بھی ہے یا نہیں۔ وفاقی حکومت کے وکیل کی طرف سے استدعا کی گئی کہ وزیر اعظم کے حکم پر بنائی گئی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ پیش کرنے کیلئے ایک ماہ کی مہلت دی جائے جس پر عدالت نے قرار دیا کہ یہ تو کوئی بڑا کام نہیں۔ ایک ہفتے میں بھی انکوائری مکمل ہو سکتی ہے۔ اوگرا کی طرف سے مزید بتایا گیا کہ حقیقت میں کوئی بحران پیدا نہیں ہوا جس پر عدالت نے قرار دیا کہ جب تیل کی قیمتیں کم ہوئیں تو اس سلسلے میں اوگرا نے کیا کام کیا۔