خیبرپی کے اسمبلی: ہزارہ صوبہ بنانے اور موجودہ صوبے کا نام تبدیل کرنیکی قرادادیں منظور

پشاور (بیورو رپورٹ+ نوائے وقت+ ایجنسیاں) خیبر پی کے اسمبلی نے کثرت رائے سے 2 قراردادوںکی منظوری دیدی جبکہ عوامی نیشنل پارٹی ، پیپلز پارٹی اور قومی وطن پارٹی نے ان قراردادں کی مخالفت کی مسلم لیگ(ن)کے رکن اسمبلی ارباب اکبر حیات نے بھی قراردادوںکی مخالفت کی، اس طرح جمعیت علماء اسلام کے بعض اراکین نے قراردادوںکی حمایت کی اوربعض نے اس کی مخالفت کی جبکہ حکومت میں مخلوط جماعتیں بھی بعض مواقع پر مخمصے کاشکاررہی۔ پہلی قرارداد تحریک انصاف کے رکن اسمبلی سردار ادریس نے پیش کی جس میں وفاق سے مطالبہ کیاگیاکہ انتظامی بنیادوںپرنئے صوبوںکے قیام کی ضرورت کے مطابق قومی اتفاق رائے سے نئے انتظامی یونٹس بشمول صوبہ ہزارہ کے قیام کیلئے وفاقی حکومت آئین پاکستان میں ترمیم کابل قومی اسمبلی میں پیش کرے اور جلد از جلدکمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے۔ دوسری قرارداد تحریک انصاف ہی کے رکن اسمبلی شوکت یوسفزئی نے پیش کی جس میں صوبائی اسمبلی نے وفاق سے سفارش کی ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا کا نام تبدیل کر کے ہزارہ پختونخوا رکھا جائے۔ اسمبلی نے چھ بل متفقہ طور پر منظور کرلئے جن میں سے فنانس بل، دریائوں کے تحفظ ،غیرقانونی اسلحہ کی حوالگی،ہوٹلوں کی سکیورٹی سے متعلق ،ہائوسنگ اتھارٹی اور لوکل باڈی سے متعلق ترمیمی بل شامل ہیں۔ ہوٹلوں کی سکیورٹی ،فنانس ،دریائوں کے تحفظ اور غیرقانونی اسلحے کے حوالگی سے متعلق بل پارلیمانی سیکرٹری عارف یوسف نے پیش کئے جبکہ معاون خصوصی امجدآفریدی نے ہائوسنگ سے متعلق اور وزیربلدیات عنایت اللہ نے لوکل باڈی سے متعلق ترمیمی بل پیش کئے تمام بل ایوان نے متفقہ طور پر منظور کر لئے۔ علاوہ ازیں خیبر پی کے اسمبلی نے فنانس بل 2014ء اتفاق رائے سے منظور کر لیا۔ اسمبلی میں آرمز پروٹیکشن بل بھی منظور کر لیا گیا۔ علاوہ ازیں خیبر پی کے اسمبلی کے اراکین کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کی نظرثانی رپورٹ منظور کر لی۔ نجی ٹی وی کے مطابق ایم پی اے کی تنخواہ اور مراعات 37 ہزار سے بڑھ کر ایک لاکھ دو ہزار روپے ہو گئی۔ دریں اثناء ایک وفد سے ملاقات میں وزیراعلیٰ خیبر پی کے نے بشام کو تحصیل کا درجہ دینے کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے بشام میں نئے ڈگری کالج کے قیام کا اعلان کیا۔ پرویز خٹک نے کہا کہ بشام میں سوات یونیورسٹی کا کیمپس بھی قائم کیا جائیگا۔