خود سوزی کیس، پولیس افسروں، عینی شاہدین کے بیانات قلمبند

مظفر گڑھ+ جتوئی (نامہ نگار+ خبر نگار) آمنہ خود سوزی کیس کی تحقیقات کیلئے ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ پنجاب محمد  عملیشن خان کی سربراہی میں تشکیل دی جانیوالی اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی ٹیم نے مظفر گڑھ میں ڈیرے ڈال لئے۔ ٹیم نے گزشتہ روز پولیس  افسروں، وقوعہ کی عینی شاہدین اور دیگر افراد کے بیانات قلمبند کئے۔ تحقیقاتی ٹیم نے آمنہ کے علاوہ ملزم نادر ان کے رشتہ داروں، جاننے والوں اور صحافیوں کے موبائل فونز کا ڈیٹا بھی حاصل کر لیا ہے۔ تحقیقاتی ٹیم نے گزشتہ روز موضع لنڈی پتافی  کا بھی دورہ کیا اور اس مقام کا معائنہ کیا جہاں مبینہ طور پر نادر اور اس کے ساتھیوں نے آمنہ سے زیادتی کرنے کی کوشش کی تھی۔ ٹیم نے آمنہ کے والدین کے بھی تفصیلی بیانات قلمبند کئے۔ معلوم ہوا ہے تحقیقاتی ٹیم  جامع رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرے گی۔ دریں اثناء کمیٹی کے ارکان بعد ازاں فائنل رپورٹ کیلئے تھانہ میر ہزار سے تھانہ جتوئی پہنچ گئے۔ علاوہ ازیں آمنہ کے ورثاء نے کہا ہے کہ ہمیں پولیس پر اعتماد نہیں ہے اس لئے کسی تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش نہیں ہو نگے، اگر ہمیں انصاف فراہم کر نا ہے تو چیف جسٹس پاکستان عدالتی کمشن تشکیل دیں کیونکہ پولیس اپنے پیٹی بھائیوں کو بچانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار آمنہ مائی کی والدہ نظام مائی، بھائی غلام شبیر اور رحمت اللہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقاتی ٹیم کبھی ہمیں مظفر گڑھ بلاتی ہے کبھی میر ہزار خان پو لیس سٹیشن بلایا جاتا ہے اور پولیس کا روایتی چکر چل رہا ہے۔