”آل پارٹیز کانفرنس“ کنٹرول لائن پر فائرنگ کی مذمت

 سلیم پروانہ
تہاڑ جیل میں افضل گورو کو تختہ دار پر چڑھانے، سانحہ بلوچستان سیز فائر لائن پر پاک فوج کے جوان کی شہادت اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج اور دیگر اداروں کے مظالم کے خلاف دنیا بھر میں مقیم کشمیری رنجیدہ دل کے ساتھ سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں اور دلیل کی قوت کے ساتھ اپنے جذبات کی ترجمانی کر رہے ہیں۔ افضل گورو کی شہادت پر تین روزہ سوگ منایا گیا۔ یومِ عزم جہدِ مسلسل کے موقع پر حکومت، اپوزیشن، دینی جماعتوں اور معاشرہ کے دیگر طبقات کی اکثریت نے کندھے سے کندھا ملا کر جو پیغام دیا ہے اس کی گونج بھی دنیا میں سنائی دی گئی ہے۔ اس موقع پر جلسہ سے صدر سردار محمد یعقوب خان، وزیراعظم چودھری عبدالمجید، قائد حزب اختلاف راجہ فاروق حیدر خان، یاسین ملک، سابق وزیراعظم و صدر مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان، جموں و کشمیر پیپلزپارٹی کے صدر سردار خالد ابراہیم خان، جماعت اسلامی کے امیر عبدالرشید ترابی اور دیگر مقررین نے کہا کہ افضل گورو کو تختہ دار پر لٹکا کر بھارت نے آئین، جمہوریت اور عدالتی انصاف کا قتل کیا ہے جس پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں، اقوام متحدہ اور عالمی شہرت یافتہ ماہرین قانون کو اپنا کردار ادا کرتے ہوئے آواز بلند کرنی چاہئے۔ بھارت کا مکروہ چہرہ اس کی اپنی پالیسیوں، ظلم، جبر کے باعث طویل عرصہ سے بے نقاب ہو چکا ہے۔ بھارتی حکومت کے ظلم کا ہاتھ روکنا اور ہٹ دھرمی پر مبنی پالیسیوں کا نوٹس لینا خطہ میں قیامِ امن کی بنیاد مسئلہ کشمیر سے مشروط کیا جانا ضروری ہے۔ وزیراعظم چودھری عبدالمجید نے آل پارٹیز کانفرنس کا دارالحکومت میں انعقاد کیا۔ وزیراعظم کی صدارت میں منعقدہ کانفرنس میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین یاسین ملک، سردار محمد یعقوب خان، صدر آزاد کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان، پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر راجہ فاروق حیدر خان، سابق صدر میجر جنرل (ر) سردار محمد انور خان، جماعت اسلامی کے امیر عبدالرشید ترابی، جے کے پی پی کے سردار خالد ابراہیم خان، زاہد اکرم خان، کنوینئر کل جماعتی حریت کانفرنس محمود ساغر، غلام محمد مصفی، ڈپٹی سپیکر محترمہ مہرالنسائ، وزراءکرام مطلوب انقلابی، سید اظہر گیلانی و مشیر مرتضیٰ درانی ہمت مقدد اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ مقررین نے افضل گورو کے عدالتی قتل کی مذمت کی ۔ افضل گورو اور مقبول بٹ شہید کے جسدِ خاکی ورثا کے حوالہ کرانے کےلئے عالمی دبا¶ بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا اور مسئلہ کشمیر کو کشمیری لیڈر شپ کے ذریعے بھی عالمی سطح پر اُجاگر کرنے کےلئے تجاویز کو زیرِ غور لایا گیا اور کئی زیرک سیاسی رہنما¶ں نے وزیراعظم آزاد کشمیر کو مشورہ دیا کہ وہ صدر پاکستان کو اس مقصد کےلئے اعتماد میں لے کر اگلی بات پھر کریں۔
آزاد کشمیر کے عوام نے سیز فائر لائن پر بھارتی فوج کی جانب سے بلاجواز اچانک کئی سیکٹرز پر فائرنگ کی مذمت کی ہے جس کے نتیجہ میں کئی جوان شہید ہو چکے ہیں۔ تازہ واقعہ میں غلطی سے لائن آف کنٹرول عبور کرنے والے فوجی جوان کو شہید کرنے کے اقدام کو غیر انسانی اور تمام قوانین کے منافی قرار دیا ہے۔ بہادر افواج پاکستان نے بھارت کے بڑھتے قدموں کو روک کر حسب سابق اپنی بہترین پیشہ ورانہ صلاحیت کا ثبوت دیا ہے اور قوم نے بھی پیغام دیا کہ وہ دفاع وطن کےلئے اپنی افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔ سانحہ بلوچستان کے خلاف جعفریہ سپریم کونسل آزاد جموں و کشمیر، وحدت المسلمین کے تحت احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جن میں کئی دینی جماعتوں کے اکابرین، سول سوسائٹی کے ارکان نے شرکت کر کے اس سانحہ کو غیر انسانی فعل قرار دیا ہے۔
آزاد کشمیر میں حکمران جماعت کے اندرونی اختلافات اور معاشرہ کے دیگر طبقات کی طرح کارکنوں سے امتیازی سلوک کی پالیسیوں نے حکمران ٹیم کے مدِمقابل اپنی ہی جماعت کے رہنما¶ں و کارکنوں کو دوبارہ کھڑا کر دیا ہے۔ سابق وزیراعظم بیرسٹر سلطان محمود چودھری کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں پیپلزپارٹی کے درجنوں فعال رہنما¶ں، کارکنوں نے اعلان کیا ہے کہ موجودہ وزیراعظم و صدر پیپلزپارٹی کو ان کے عہدوں سے الگ کرانے کےلئے تحریک شروع کریں گے۔ بیرسٹر سلطان کا کہنا تھا کہ کارکنوں و عوام کی نہ تو عزت نفس مجروح کرنے دی جائے گی اور نہ ہی کرپشن، بدعنوانی کو برداشت کیا جائے گا۔ اصلاح احوال کے کسی موقع سے حکمران ٹیم نے فائدہ نہیں اٹھایا۔ سیاسی حلقوں میں یہ سوال بڑی اہمیت اختیار کر چکا ہے کہ حکومت لوڈشیڈنگ، مہنگائی کے عذاب اور انتظامیہ پر حکومت کی کمزور ہوتی ہوئی گرفت بالآخر کیا رنگ لائے گی؟ پارٹی کی پالیسیوں سے ناراض ارکان احتجاجی پروگراموں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس مقصد کے لئے نئی صف بندی بھی جاری ہے۔ یہ دبا¶ کس حد تک کارگر ثابت ہوتا ہے آئندہ ہفتوں میں معلوم ہو جائے گا۔