پیپلزپارٹی میں اسٹیبلشمنٹ سیکرٹری جنرل بھی بول اٹھے

 احمد کمال نظامی
    فیصل آباد قومی اسمبلی کی گیارہ اور صوبائی اسمبلی میں 22 نشستیں رکھنے کی وجہ سے پنجاب کا دوسرا بڑا سیاسی مرکز ہے۔ گذشتہ دنوں اس مرکز میں بھرپور سیاسی سرگرمی رہی اور سیاست کی تینوں بڑی جماعتوں میں سے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور پیپلزپارٹی کے سیکرٹری جنرل سینیٹر جہانگیر بدر نے مختلف عوامی اجتماعات سے خطاب کیا اور اپنی کامیابی کے دعوے کئے۔ جہانگیر بدر نے ایک بالکل نئی بات کہی کہ پارٹی میں موجود اسٹیبلشمنٹ نے ہمیشہ مفاد پرستوں کو نمایاں کیا ہے لیکن اب پارٹی کے اندر جو عناصر اسٹیبلشمنٹ کا کردار ادا کر رہے ہیں ان کی حوصلہ شکنی کی جائے گی اور پارٹی کو قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کے وژن پر استوار کرنے کی پالیسی پر ہی عمل ہو گیا اور پیپلزپارٹی اییک مرتبہ پھر 1970ءکے انتخابات کی تاریخ دہراتے ہوئے کلین سویپ کر لے گی اور پنجاب میں پیپلزپارٹی واحد اکثریتی جماعت کے طور پر اپنی حکومت قائم کرے گی۔ پیپلزپارٹی کی تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ پارٹی میں اختلاف کرنےوالوں کو عوام نے ایسی سیاسی موت مارا ہے کہ پھر سیاست سے ان کا نام ہی غائب ہو گیا۔ جہانگیر بدر چونکہ بنیادی طور پر ایک ایسے ورکر ہیں اور جذبات میں بہہ کر وہ پیپلزپارٹی اسٹیبلشمنٹ کی نشاندہی کر گئے اور اشارة یہ بات بھی کہہ گئے کہ پیپلزپارٹی پر اس وقت پارٹی اسٹیبلشمنٹ کی اجارہ داری ہے اور وہی سیاہ و سفید کی مالک ہے یہ پارٹی اسٹیبلشمنٹ کون ہے؟ یہی بات تو پیپلزپارٹی کا باغی گروپ ناہید خاں اور صفدر عباسی کہتا ہے کہ پیپلزپارٹی کے نام پر زرداری کچن کابینہ حکومت کر رہی ہے۔ فریال تالپور اور ملک ریاض بھی خود کو پارٹی قرار دیتے ہیں۔ اورانہی کے فیصلوں کو پارٹی فیصلے کہا جاتا ہے۔ گویا اب پیپلزپارٹی زرداری لیگ بن چکی ہے۔ جہانگیر بدر نے پارٹی ٹکٹ کے ان امیدواروں پر یہ کہہ کر اوس ڈال دی کہ انتخابی اخراجات اس قدر زیادہ ہوتے ہیں کہ پارٹی کارکنوں کی اکثریت الیکشن لڑنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتی گویا پیپلزپارٹی میرٹ کی بجائے دولت کی بنیاد پر ٹکٹ جاری کرنے پر مجبور ہے۔
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کارکنوں کو انتخابات کی تیاری کی ہدایت کی اور صدر زرداری سے مطالبہ کیا کہ وہ بلاتاخیر الیکشن شیڈول کا اعلان کریں۔ عمران خان نے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کو جونکیں قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں پارٹیاں مک مکا کے تحت گذشتہ پچیس برسوں سے قوم اور ملک کا خون چوس رہی ہیں اور قومی وجود پر چمٹی ہوئی ہیں اور یہ الزام بھی عائد کیا کہ عدالت عظمیٰ کے ایئرمارشل اصغر خاں کیس کے فیصلہ پر نوازشریف اور دیگر افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہونے سے ن لیگ کے میاں برادران اور پیپلزپارٹی کے زرداری گینگ کا گٹھ جوڑ بے نقاب ہو گیا ہے اور پاکستان کو ترقی خوشحالی استحکام اور مستحکم کرنے کا روڈمیپ تحریک انصاف کے پاس ہے ان دونوں لٹیروں کو اپنی شکست صاف نظر آ رہی ہے۔ تحریک انصاف کی سونامی نے یہ دونوں بہہ جائیں گے اور جن نشستوں کو یہ اپنی اجارہ داری قرار دیتے ہیں انہی پر ان کو شکست ہو گی۔ تحریک انصاف میاں برادران اور زرداری گینگ کے برج اپنی عوامی طاقت اور یوتھ کے جذبہ سے الٹ دے گی اور پاکستان میں اگر انتخابات میںدھاندلی نہ ہوئی تو جمہوریت کا نیا سورج طلوع ہو گا جو عوام کو خوشحالی سے ہمکنار کرے گا۔ عمران خان نے دعویٰ کیا کہ انتخابات سے قبل ہی مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کے ایسے افراد جن کے دامن آلودگی سے پاک ہیں وہ تحریک انصاف کے قافلہ میں شامل ہو جائیں گے۔ فیصل آباد ڈویژن میں انتخابی معرکے بہت سخت ہوں گے اور اگر یوتھ میدان میں نکل آئی تو آپ سیٹ کے زیادہ امکانات ہیں اگر فیصل آباد کی قومی اسمبلی کی گیارہ اور صوبائی اسمبلی کی بائیس نشستوں میں سے دو قومی اسمبلی کی نشست پر تحریک انصاف کو کامیابی نصیب ہو جاتی ہے تو یہ پاکستان کی سیاست میں انقلاب برپا ہونے کی دلیل ہو گی۔
 جب تحریک منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے گوجرانوالہ کے بعد آٹھ بازاروں کے شہر فیصل آباد میں انقلاب ریلی کی قیادت کی اور جلسہ عام سے خطاب کیا۔ عوام کی شرکت کے حوالہ سے تو ڈاکٹر طاہرالقادری کا جلسہ کامیاب قرار دیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کی بات کرنے سے قبل برصغیر پاک و ہند کی سیاست کے حوالہ سے یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ شعلہ بیان خطابت کے حوالہ سے امیرشریعت سید عطاءاللہ شاہ بخاری اور آغا شورش کاشمیری کی خطابت کا ایک زمانہ قائل تھا اور ان کے جلسوں میں جس بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوتے اور اپنے جوش و خروش کا مظاہرہ کرتے تو ایسے ہی محسوس ہوتا کہ تاج اچھلنے والا ہے اور تخت چند روز کا مہمان ہے لیکن عملی طور پر رات گئی بات گئی والا منظر ہی نظر آتا رہا اور کامیاب شعلہ بیاں مقرر ہونے کے باوجود وہ سپریم کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کر کے سترہ جنوری کو اتنے ہی حزن و ملال کے ساتھ لوتے ہیں کہ اب انقلاب ریلی اور انقلاب انقلاب کے نعرے بلند کرتے ہوئے پھرتے ہیں۔ ان کے جلسوں میں جانےوالوں کیلئے اس وقت ڈاکٹر طاہرالقادری کے غبارہ میں جو تھوڑی بہت ہوا تھی نکل گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے ان کی پٹیشن کو سن کر قانونی بنیادوں پر مسترد کر دیا ہوتا تو بہتر تھا تاکہ یہ تاثر قائم نہ ہوتا کہ فیصلہ سیاسی بنیادوں پر ہوا ہے۔ اب ڈاکٹر طاہرالقادری کو اکھاڑہ میںرہنے کا جواز فراہم ہو گیا لہٰذا انتخابات کے خلاف سازش کا ایک مہرہ تو پٹ گیا۔ وہ سرگرم بھی رہے اور کوئی نیا ڈرامہ بھی تخلیق نہ کر سکیں گے۔