پروفیسر حیدر علی کے قتل کے خلاف پنجاب بھر کے ہسپتالوں میں سوگ، تعزیتی ریفرنس

لاہور (سپیشل رپورٹر+نامہ نگار) پروفیسر حیدر علی کے قتل پر پنجاب بھر کے ہسپتالوں میں یوم سوگ منایا گیا۔ مختلف ڈاکٹر تنظیموں کے زیر اہتمام تعزیتی ریفرنسوں میں مرحوم کی خدمات کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا گیا حکومت سے قاتلوں کی فوری گرفتاری اور قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ اس ضمن میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں تعزیتی ریفرنس کی تقریب اولڈ آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی جس میں پروفیسر علی حیدر کے والد پروفیسر سید ظفر حیدر، کنگ ایڈورڈ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر فیصل مسعود، پروفیسر اسد اسلم، ڈاکٹر طارق میاں، انجم حبیب وہرہ، پروفیسر عطیہ مبارک، پروفیسر خالد مسعود گوندل، پروفیسر محمود شوکت اور دیگر ڈاکٹروں نے شرکت کی۔ مرحوم کے والد پروفیسر ظفر حیدر تقریب میں اپنے خطاب میں کہا کہ میرے بیٹے نے ہمیشہ مریضوں کی خدمت کے لئے دن رات ایک کی اس کا سب سے بڑا شوق علم کو عام کرنا تھا ۔ پرنسپل پی جی ایم آئی و ایل جی ایچ پروفیسر انجم حبیب وہرہ کو ڈاکٹر علی حیدر کی المناک موت کے حوالے سے اندرون و بیرون ملک سے سوگواروں کے تعزیتی پیغام موصول ہوتے رہے۔ رسم قل امام بارگاہ جامع مسجد محمدی حالی روڈ گلبرگ میں ادا کی گئی۔ علاوہ ازیں آمنہ عنایت میڈیکل کالج (سگیاں پل) میں اساتذہ اور طلبہ و طالبات کا اجتماع ہوا جس میں مقتولین کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔ پرنسپل ڈاکٹر ظفر علی چودھری نے حکومت سے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ۔ علاوہ ازیںگلبرگ کے علاقہ میں پےر کے روز قتل ہونے والے آئی سرجن پروفیسر ڈاکٹر سید علی حیدر اور ان کے بیٹے مرتضیٰ حےدر کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق دونوں باپ بیٹے کو انتہائی قریب سے فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا جبکہ دونوں باپ بیٹے کی موت سر میں گولیاں لگنے سے واقع ہوئی ہے۔ ڈاکٹر علی حیدر کے سر میں پانچ جبکہ مرتضی حےدر کے سر مےں دو گولیاں لگیں۔