نگران حکومت ‘ ایم کیو ایم کی پی پی پی کے ساتھ سازباز؟

 شہزاد چغتائی
متحدہ قومی موومنٹ کی حکومت سے علیحدگی کے بعد اپوزیشن نے سندھ کے متوقع نگراں سیٹ اپ کو مسترد کر دیاہے۔ ایم کیو ایم کے حکومت سے الگ ہونے کے نتیجے میں سب سے زیادہ نقصان فنکشنل مسلم لیگ کو ہوا اور پیر پگارا کے مستقبل کے خواب چکنا چور ہو گئے ہیں۔  فنکشنل مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان سیاسی کشیدگی اور کشمکش عروج پر پہنچ گئی ہے ۔ پیپلز پارٹی کی کامیابی یہ ہے کہ اس نے سندھ کے نگراں سیٹ اپ کو فنکشنل مسلم لیگ اور ان کی اتحادی جماعتوں کی مداخلت سے محفوظ کرلیا ہے ۔دوسری جانب اپوزیشن نے متحدہ قومی موومنٹ کو قبول کرنے کے لیے کڑی شرائط پیش کرد ی ہیں جس کے بعد معاملات الجھ گئے ہیں۔ اپوزیشن نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ لیڈر آف اپوزیشن کا عہدہ فنکشنل مسلم لیگ نصرت سحر عباسی کا استحقاق ہے ۔ گورنر سندھ کے استعفیٰ کے مطالبے کے ساتھ واضح کیا گیا ہے کہ سیاسی گورنرز کی موجودگی میں شفاف الیکشن نہیں ہوسکتے۔ اپوزیشن اس موقف پر بھی ڈٹی ہوئی ہے کہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کی مشاورت سے آنے والے نگراں سیٹ اپ کے بعد آزادانہ، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات خطرہ میں پڑ جائیں گے لہٰذا ان حالات میں 10جماعتیں انتخابات کا بائیکاٹ بھی کرسکتی ہیں۔ اس وقت صدر آصف علی زرداری اور پیر پگارا کے اختلافات بلندیوں کو چھو رہے ہیں اور پیر پگارا بہت غصے میں ہیں۔ بدلے ہوئے حالات میں فنکشنل مسلم لیگ کے بند گلی میں پھنس جانے سے معاملات بہت نازک ہوگئے ہیں۔ سندھ میں اپوزیشن کے لیے حکمت عملی بنانا جوئے شیر لانے کے مترادف بن گیا اگر اپوزیشن نگراں سیٹ اپ کو مسترد کرتی ہے اور اس کے خلاف تحریک کا آپشن استعمال کرتی ہے تو تنازعہ بڑھے گا اور حالات انتخابات کے التواءکی جانب جاسکتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر پیر پگارا اور فنکشنل مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف نے لاہور میں اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ سندھ میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے ساز باز کرکے من پسند نگراں سیٹ اپ لانے کی کوشش کی تو مزاحمت کریں گے۔ ممکن ا پوزیشن کسی نئی حکمت عملی اور پلان کے تحت میدان میں اترے لیکن فی الحال وہ خالی ہاتھ ہے۔ فنکشنل مسلم لیگ اس بات پر مصر ہے کہ نصرت سحر عباسی کو اپوزیشن لیڈر بنایا جائے کیونکہ انہوں نے ڈھائی ماہ قبل درخواست دی تھی ۔ جس کے جواب میں سندھ اسمبلی کے اسپیکر نثار کھوڑو کہتے ہیں کہ اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی کے حوالے سے میں نے تاخیر نہیں کی لیکن اب اپوزیشن لیڈر وہ بنے گا جس کو اپوزیشن کے زیادہ ارکان کی حمایت حاصل ہو گی۔ ادھر ایم کیو ایم کی حکومت سے علیحدگی کے بعد سندھ میں نگراں سیٹ پر چھائی دھند چھٹ گئی اور مطلع صاف ہو گیاہے ۔ قبل ازیں بعض سیاسی پنڈٹ تسلسل کے ساتھ یہ پیش گوئی کر رہے تھے سندھ اور بلوچستان میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نگراں سیٹ اپ پر اتفاق رائے نہیں ہو سکے گا۔ سندھ میں اب نگراں حکومت تین جماعتیں مل کر بنائیں گی جن میں مسلم لیگ (ق) بھی شامل ہے، مسلم لیگ (ق) واحد جماعت ہے جو کہ حکمرانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ ایم کیو ایم کے الگ ہونے کے بعد پیپلز پارٹی اس جماعت کے سہارے کھڑی ہے جس کو صدر آصف علی زرداری قاتل لیگ قرار دیتے تھے ۔ بدلے ہوئے حالات میں حکومت کو گرنے سے بچانے کے لیے ایم کیو ایم آگے بڑھ سکتی ہے اور فرینڈلی اپوزیشن کا کردار بھی ادا کرسکتی ہے۔ جہاں تک مسلم لیگ (ن) کا تعلق ہے تو مسلم لیگ (ن) کھلم کھلم حکومت کے 5سال مکمل ہونے کا کریڈٹ لیتی ہے۔ مسلم لیگ (ق) سندھ کے جنرل سیکرٹری حلیم عادل شیخ کہتے ہیں ہم حکمرانوں کا ساتھ نہیں دیتے تو حکومت کئی ماہ قبل گھر جاچکی ہوتی۔ بعض حلقے ان خدشات کا اظہار کر رہے ہیں کہ الیکشن تو ہو جائیں گے لیکن اصل کھیل الیکشن کے بعد شروع ہو گا اور 1977ءجیسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ کئی جماعتیں نتائج تسلیم نہیں کریں گی۔ الیکشن کمیشن بھی تنازعہ بن جائے گی اور معلق پارلیمنٹ میں کوئی جماعت حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہو گی۔ کراچی میں فنکشنل مسلم لیگ سندھ کے جنرل سیکریٹری امتیاز شیخ نے الیکشن کے بائیکاٹ اور سندھ نگراں سیٹ اپ کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان کر دیا جس کے بعد یہ سوال سامنے آیا ہے کہ اپوزیشن نے سندھ کے نگراں سیٹ اپ سے اتفاق نہیں تو کیا ہو گا۔ سندھ میں فنکشنل مسلم لیگ کے سربراہ پیر پگارو کی قیادت میں 10جماعتی اتحاد اور جماعت اسلامی کی قیادت میں 40 جماعتی اتحاد لوکل گورنمنٹ قانون کو مسترد کرچکے ہے اور اپوزیشن سندھ لوکل گورنمنٹ نظام کے خلاف تحریک چلا رہی ہے۔ نگراں سیٹ اپ پر اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں اپوزیشن میدان میں آسکتی ہے اور نئی صورتحال پیدا ہو سکتی ایم کیو ایم کی حکومت سے علیحدگی کے 12گھنٹے کے بعد امتیاز شیخ نے کہا ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی ساز باز قبول نہیں کریں گے۔ بعض غیر جانبدار سیاسی حلقے کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم مناسب وقت پر حکومت سے نکلی ہے۔ پیپلز پارٹی نے متحدہ کو باندھ کر رکھا ہوا تھا۔ مبصرین کے مطابق ایم کیو ایم چند ماہ قبل الگ ہوتی اور اس کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کی حکومت گر جاتی تو سندھ میں کشیدگی ، غیر یقینی صور تحال اور سندھیوں کی حکومت ختم کرنے کی ایم کیو ایم کو بھاری قیمت چکانا پڑتی ۔27دسمبر 2007ءکا الیکشن ری پلے ہو سکتا تھا جب کراچی کی اینٹ سے بجا دی گئی تھی اس دوران بظاہر متحدہ قومی موومنٹ، پیپلز پا رٹی اور اے این پی کے راستے جدا ہو گئے ہیں اور پیپلز پارٹی تنہا رہ گئی لیکن اندرون خانہ تینوں جماعتوں کے درمیان افہام تفہیم موجود ہے۔ پیر پگارا نے بہت پہلے اس خدشہ کا اظہار کیا تھا کہ متحدہ قومی موومنٹ الیکشن سے پہلے اپوزیشن میں بیٹھ جائے گی انہوں نے 17جنوری کو نواز شریف سے ملاقات کے دوران ان کی توجہ مبذول کرائی تھی جس پر نواز شریف نے اعلان کیا تھا وہ سندھ میں دو جماعتوں کی ساز باز قبول نہیں کریں گے۔
 دوسری جانب کوئٹہ کے بم دھماکے کے بعد کراچی میں حالات کشیدہ ہو گئے کئی دنوں تک مختلف علاقوں میں تشدد کے واقعات ہوئے اور گرومندر کا علاقہ متاثر ہوا اس دوران کراچی میں جگہ جگہ دھرنے دیئے گئے۔ ویسے تو ملک کے تین صوبوں میں امن و امان کی صورتحال بہت زیادہ مخدوش ہے، لیکن دو صوبوں میں سکیوریٹی سوالیہ نشان بن ہوئی ہے۔ تسلسل کے ساتھ فوج کو مداخلت کی دعوت دی جارہی ہے۔ آئے روزبلوچستان دہشت گردی اور سندھ ٹارگٹ کلنگ سے لہولہان ہو رہا ہے۔ سانحہ کوئٹہ کے بعد فرقہ وارانہ دہشت گردی بڑھ گئی ہے۔ کراچی کو فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ بہت پہلے کیا گیا تھا اور اس کے لیے مجلس وحدت المسلمین نے پرانی نمائش پر دھرنا دیا تھا۔ بلوچستان کے خراب حالات کو گورنر سندھ ذوالفقار مگسی اور سابق وزیر اعلیٰ نوا ب اسلم رئیسانی کے درمیان چپقلش کا شاخسانہ قرار دیا جارہا ہے۔ بلوچستان کو فوج کے حوالے کیا گیا تو سندھ کو اس کے اثرات سے محفوظ کرنا مشکل ہو گا۔ وزیر داخلہ رحمان ملک کراچی میں حالات بگڑنے کی پیش گوئی کرچکے ہیں۔ رحمان ملک تو کراچی کے الگ ہونے کے خدشات کا اظہار بھی کرچکے ہیں انہوں نے کہا تھا کہ کراچی اور کوئٹہ کے حالات مزید خراب ہوں گے عوامی مسلم لیگ کے صدر شیخ رشید بار بار کہتے ہیں کہ الیکشن بہت خوف ناک ہوں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ جوں جوں انتخابات نزدیک آرہے ہیں بدامنی بڑھ رہی ہے اور بے یقینی کے بادل منڈلا رہے ہیں۔