انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے صوفی شعراءکا پیغام عام کیا جائے: مقررین

لاہور (کلچرل رپورٹر) اکادمی ادیات پاکستان کے چیئر مین عبدالحمید نے کہا ہے کہ صوفی شعرا امن و محبت کے سفیر ہیں۔ انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے صوفی شعراءکے پیغام امن و محبت کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔ اکادمی ادبیات پاکستان صوفی شعراءکے فکر اور تعلیمات کو عام کرنے کے لئے ملک کے کونے کونے میں سیمینار منعقد کرے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اکادمی ادبیات پاکستان پنجاب کے زیر اہتمام خوشحال خاں خٹک، سچل سرمست اور جام ورک کی یاد میں الحمراءہال 3میں منعقدہ سیمینار میں اپنے صدارتی خطاب میں کیا۔ سیمینار میں کیڈٹ کالج لاڑکانہ کے پرنسپل محمد یوسف شیخ، قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے استاد پروفیسر واحد بزدار اور پشاور یونیورسٹی کے اویس قرنی نے مقالے پڑھے۔ اکادمی ادبیات چیئر مین نے مزید کہا کہ ادیب اور شاعر معاشرے کا ضمیر ہوتے ہیں اس لیے ادیب اور شاعر حکام اور عوام کی راہنمائی کریں انہیں نے کہا کہ خوشحال خاں خٹک سچل سرمست ارو جام ورک نے اپنے کلام میں پسے ہوئے مظلوم طبقات کی ترجمانی کی۔ یوسف شیخ نے کہا کہ خوشحال خاں خٹک سچل سرمست اور جام ورک نے ملاازم کو رد کیا۔ واحد بزدار نے کہا کہ جام ورک جیسے صوفی شعرا کا نام مقام، پیغام اور کلام ہمیشہ زندہ رہے گا۔ اکادمی ادبیات کے ریذیڈنٹ ڈائریکٹر نے خطبہ استقبالیہ میں کہا کہ امن پسند صوفی شعراءکے کلام کو اپنا ترانہ بنائیں۔ صوفی شعرا نے انسان کو خود داری اور خود شناسی کا درس دیا ہے۔