انتخابی امیدواروں کے لئے ٹیکس ادائیگی کی پابندی کی شرط

سید علی بخاری
”الیکشن کمیشن پاکستان“ کا آئینی فریضہ ہے کہ اراکینِ اسمبلی کے لئے آرٹیکل 62، 63 پر عمل درآمد کو یقینی بنائے، غلط گوشوارے جمع کرانے والے ٹیکس چور ، قرض نادہندہ، جعلی ڈگری ہولڈر اور دوہری شہریت رکھنے والے آئین کی روشنی میں نااہل ہیں ایسے اُمیدواروں پر سختی سے پابندی عائد کرے۔ اسی طرح جن افراد نے افواج پاکستان اور عدلیہ کو تضحیک کا نشانہ بنایا ان پر بھی انتخابات میں حصہ لینے کی پابندی لگائی جائے۔ سیاسی جماعتوں کے قائدین پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ کرپٹ، بددیانت امیدواروں کو پارٹی ٹکٹ نہ دیں اس کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی قائدین پہلے خود متعلقہ آئین سے مانوس ہوں اور اس کی روح کو سمجھیں، عوام بھی انتخابات میں ایسے اُمیدواروں کو مسترد کردیں جو نیک نام نہ ہوں۔ ان خیالات کا اظہار گزشتہ دنوں شوریٰ ہمدرد کے اجلاس میں ”پاکستان کے بہتر مستقبل کی ضمانت آئین کی روشنی میں عوامی نمائندوں کا انتخاب“ کے موضوع پر اراکین نے کیا۔ اجلاس میں سینیٹر ایس ایم ظفر، قیوم نظامی، ڈاکٹر ایم اے صوفی، میجر (ر) صدیق ریحان، میجر (ر) خالد نصر، رانا محمد امیر احمد خان، ڈاکٹر عظمت الرحمن، چودھری بشیر احمد، ثمر جمیل خان اور دیگر شامل تھے۔ مقررین نے کہا کہ موجودہ منتخب جمہوری حکومت اپنی آئندہ مدت پوری کررہی ہے لیکن پاکستان کے 18 کروڑ باشندے کے دیرینہ مسائل میں ذرہ برابر کمی آنے کی بجائے اُن میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ اقربا پروری اور قومی اداروں میں کرپشن عوام کے جمہوری اداروں پر اعتماد متزلزل کررہا ہے۔ شوریٰ ہمدرد نے خبردار کیا کہ آئندہ انتخابات میں اگر اشرافیہ نے عوام کی اُمیدوں پر پھر پانی پھیر دیا تو پھر تاریخ کا جبر فیصلہ کرے گا جس کے نتیجے میں کس قسم کی تبدیلی آئے گی اُس کا اندازہ لگایا جانا مشکل ہے۔
فائنل000