احتجاج بجا مگر نادانستہ غلطی سے احتیاط!

فرخ سعید خواجہ
اسمبلیوں کی مدت ختم ہونے میں کچھ ہی روز باقی ہیں، مرکز میں نگران حکومت کے لیے مشاورت شروع ہونے کو ہے، صوبوں میں نگران حکومتوں کے قیام سے پہلے سیاسی چالوں کا آغاز ہو چکا ہے ۔ سیاست کی اس گہما گہمی میں مسلم لیگ (ن) نے مرکزی سیکرٹریٹ 180/H ماڈل ٹاﺅن میں انوشہ رحمن ایڈووکیٹ کی سربراہی میں عام انتخابات کے لیے پارٹی ٹکٹوں کے درخواست فارم تقسیم کرنے کا کام شروع کردیا ہے۔ درخواست گزاروں کوقومی اسمبلی کے لئے 50ہزار روپے اور صوبائی کی درخواست کے ساتھ 30ہزار روپے کا پے آرڈر یا ڈیمانڈ ڈرافت جمع کروانا ہوگا، جبکہ مخصوص نشستوں کے لیے قومی اسمبلی کی درخواست کے ساتھ ایک لاکھ روپے اور صوبائی اسمبلی کی درخواست کےلئے 75ہزار روپے فیس رکھی گئی ہے۔لاہور میں بلاول ہاﺅس بھی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بن چکا ہے جہاں آصف علی زرداری، بلاول اور فریال تالپور میں سے کوئی نہ کوئی یہاں موجود رہتا ہے۔ ایک طرف یہ صورت حال ہے اور دوسری ہزارہ کمیونٹی کے سانحات کے اثرات ملک بھر کی طرح لاہور میں بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ احتجاج، دھرنے حالات کو کسی بھی وقت خراب کر سکتے ہیں۔ ملک کے مختلف حصوں میں اہل تشیع بچوں بوڑھوں اور خواتین سمیت احتجاج، اور دھرنوں میں شریک ہونے پر مجبور کر دئے گئے۔ جبکہ محب وطن لوگوں نے بھی بلا امتیاز مذہب و فرقہ اظہار یک جہتی کے لیے بھائی چارے کا عملی ثبوت دیااور ان کے احتجاج میں برابر شریک رہے۔ جہاں جہاں یہ احتجاج ہو ا ہے وہاں سکیورٹی کا بندوست اس لیے نہ ہونے کے برابررہا کہ کہیں احتجاج کرنے والے مشتعل ہوکر حفاظت پر مامور عملے پر حملہ نہ کردیں۔ اس صورت حال میں احتجاج کرنے والوں کو خدانخواستہ کسی ”حادثے“ کا سامنا ہو سکتا تھا، بفضل تعالی خیریت رہی۔ رنج وغم کے ان ایام میں اگر کوئی نا خوشگوار واقعہ ہو جائے تو عام انتخابات کا راستہ کھوٹا ہو جانے سے ان عناصر کو فائدہ پہنچے گا جو نہیں چاہتے کہ پاکستان میں عام انتخابات ہوں اور ووٹ کے ذریعے حکومت کی تبدیلی سے پاکستان میں سیاسی استحکام آئے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ بلوچستان، خیبر پی کے، کراچی کے بعد اب لاہور کو بھی ٹارگٹ کررہے ہیں۔ اللہ خیر کرے۔
کس سانحہ پر احتجاج کیا جانا فطری عمل ہے مگر اُس احتجاج کی آڑ میں نظام زندگی معطل کر دینے والے اقدامات سے اُن مٹھی بھر لوگوں کے مقاصد پورے ہوتے ہیں جوکہ احتجاج کرنے والوں کی بھیڑ میں شامل ہو کر اس کو بد نظمی کا شکار کرنے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچستان کوفوج کے حوالے کیے جانے کا بلند آہنگ مطالبہ اور اُس کے ساتھ ہی ملک بھر میں حالات خراب کرکے فوج کو موقع مہیا کرنا ”کسی خاص ایجنڈے “کا سلسلہ معلوم ہوتا ہے۔ قومی قیادت کو چاہیے کہ اس سازش کو بے نقاب کرے اور اِس سلسلے میں غیرملکی اور ملکی سازشیوں کے چہروں سے نقاب اتار پھینکے۔ پیپلزپارٹی اگر اس سازش کو اچھا نہیں سمجھتی تو مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے ساتھ مل کر مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے مشترکہ اقدامات سامنے لائے جائیں جن سے ”خطرات“ کم ہوسکیں۔ اس ضمن میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہو گا تاکہ وہ کسی غیرسیاسی حرکت سے حالات خراب کرنے والوں کے نادانستگی میں معاون نہ بن جائیں۔دینی سیاسی جماعتوں کو اِس نازک موڑ پر دانش مندی کے ساتھ فرقہ ورانہ کشیدگی رکوانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ملی یکجہتی کونسل کا پلیٹ فارم اِس سلسلے میں موثر ثابت ہو سکتا ہے۔ علامہ سید ساجد نقوی قدآور رہنما میں اُن کے کندھوں پر بھاری ذمہ داری آن پڑی ہے انہیں چاہیے کہ غیرملکی سازش کو ناکام بنانے کے لیے میدان میں نکلیں۔ دوسروں کو اُن کا ساتھ بٹھانا چاہیے تاکہ اصلاح احوال کی صورت پیدا ہو سکے۔اُدھر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ق) کے درمیان معاملات بگڑتے سنورتے آہستہ آہستہ طے ہوتے جارہے ہیں۔ لگتا یہی ہے کہ اِن دونوں جماعتوں نے سمجھ لیا ہے کہ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) سے سیاسی مقابلہ کرنا ہے تو ہمیں مل کر چلنا ہو گا ۔ جس کیلئے دونوں جماعتوں میں معاملات طے پاتے جارہے ہیں۔
مسلم لیگی دھڑوں کے سندھ میں اتحاد سمیت قوم پرست و دینی جماعتوں کے اتحاد نے جہاں سندھ میں پیپلزپارٹی سے مقابلے کی فضا پیدا کردی ہے وہاں پنجاب میں بھی مسلم لیگی دھڑے اپنی اپنی سیاسی پوزیشن انفرادی طور پر بھی مضبوط کرنے کیلئے کوششیں کررہے ہیں۔ بلاشبہ ملک بھر میں مسلم لیگ (ن) پنجاب میں سب سے زیادہ مضبوط پوزیشن ہے۔ اب مسلم لیگ فنکشنل بھی پنجاب میں ملک غلام مصطفےٰ کھر کوی قیادت میں منظم ہو رہی ہے ۔انہیں پنجاب کا صدر بناکر پیرپگارہ نے اہم سیاسی قدم اٹھایا اور اب عمران ریاض نارگ جیسے روشن دماغ نوجوان کو پنجاب کا جنرل سیکرٹری بنایا گیا ہے۔ اِس طرح آنے والے دنوں میں مسلم لیگ فنکشنل پنجاب میں نچلی سطح پر بھی منظم ہو سکے گی۔
مسلم لیگ ہم خیال کے چیئرمین حامد ناصر چٹھہ اور سیکرٹری جنرل ہمایوں اختر خان پہلے ہی میاں عطا مانیکا، کشمالہ طارق، میاں آصف، اقبال ڈار، ناصر محمود ایڈووکیٹ، شیخ رضوان اور عمران احمد خان جیسے ساتھی پنجاب میں رکھتے ہیں جن کے ذریعے مسلم لیگ ہم خیال پنجاب میں اپنی پہچان بنائے ہوئے ہے۔
مسلم لیگ (ن) پنجاب صدر محمد شہباز شریف نے مظفرگڑھ، خانیوال، چیچہ وطنی سمیت وسطی پنجاب سے پیپلزپارٹی کے 9ممبران پنجاب اسمبلی اور قومی اسمبلی کے مسلم لیگ (ق) کے 2ممبران اسمبلی کو مسلم لیگ (ن) میں شامل کروا کر اپنی سیاسی مقبولیت کو بھی ثابت کیا ہے۔ بلاشبہ شہباز شریف اب ایک کامیاب لیڈر بن چکے ہیں۔ انہیں خطابت کا ملکہ حاصل ہو گیا ہے اور لوگوں سے میل جول میں بھی اُن کے اندر خوئے دلنوازی آگئی ہے جوکہ اُن کے لیڈر اور بھائی نواز شریف میں ہمیشہ سے موجود تھی۔ اگر شہباز شریف اپنے لیڈر کے چھوٹے بھائی نہ ہوتے تو یقینا مسلم لیگ (ن) میں دوسرے اہم ترین لیڈر وہی ہوتے۔ جنوبی پنجاب میں شہباز شریف کی بڑھتی ہوئی مقبولیت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ لاہور میں گزشتہ دنوں میں دھرنا تھا وہ راجن پور کے شہر جام پور میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے۔ آنے والے الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کی جیت ہوتی ہے تو اس میں جہاں نواز شریف کی مقبولیت کا عمل دخل ہوگا وہاں شہباز شریف کی انتھک محنت، جانفشانی سے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے کام کرنے کا بھی حصہ شامل ہوگا۔