خیبر پی کے اسمبلی: بجٹ کے بجائے شمالی وزیرستان آپریشن، سانحہ لاہور پر بحث

پشاور(این این آئی)خیبر پی کے اسمبلی میں بجٹ سیشن کے دوران بجٹ پر بحث کی بجائے شمالی وزیرستان آپریشن اور لاہور میں ہونیوالے واقعہ پرزیادہ بحث ہوئی، اپوزیشن ارکان نے صوبائی حکومت کو شمالی وزیراستان آپریشن کے حوالے سے انجان بننے اور تحریک انصاف کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب سے استعفیٰ مانگنے پر شدید تنقید کی جبکہ حکومت نے واضح کیا کہ شمالی وزیرستان آپریشن کا پتہ میڈیا سے چلا، اگر خیبر پی کے پولیس سانحہ لاہور جیسی غلطی کرے تو ہماری حکومت کرنے کا اخلاقی جواز نہیں بنتا، بجٹ میں انصاف کے تمام تقاضے پورے کئے گئے ہیں۔ پی پی پی کی نگہت یاسمین اورکزئی نے کہاکہ وزیر خزانہ سراج الحق زہر کی مٹھی گولیا ں دیتے ہیں جو بندے کو ختم کرتی ہیں یہ بجٹ محکمہ خزانہ نے نہیں بلکہ کسی این جی او نے تیار کیا ہے جس میں خواتین اور اقلیت کو یکسر نظر انداز کیا گیا ہے، خواتین کی ترقی کیلئے صرف و صرف 1ارب 51کروڑ روپے رکھے گئے ہیں جو 51فیصد خواتین کی حق تلفی ہے انہوں نے اعلیٰ تعلیم میں ترقیاتی منصوبوں کو سراہا اور کہاکہ بم ڈسپوزل یونٹ کو بھی جدید آلات دینے کی ضرورت ہے جس پر حکومت عمل درآمد کرے۔ جمہوریت کے خلاف کسی بھی سازش کا حصہ نہیں بنیں گے، ان کا کہنا تھا کہ ہمارے صوبے میں بھی گلو بٹ جیسے لوگ موجود ہیںافغانستان کے مہاجرین کو تو پناہ دی جاتی ہے لیکن قبائل کو اس مشکل وقت میں نہیں اپنایا جا رہا ہے اور حکومت کہتی ہے کہ یہ وفاق کا مسئلہ ہے، جے یو آئی کے مفتی جانان نے کہاکہ بجٹ کی تیاری میں کام نہیں کیا گیا، اے ڈی پی میں 4اضلاع کوشامل کیا گیا ہے سوات، دیر، صوابی اور نوشہرہ کیلئے 5158 ملین روپے رکھے گئے ہیں جبکہ صوبے کو بڑی رائلٹی دینے والے جنوبی اضلاع کیلئے کوئی ترقیاتی فنڈز نہیں۔ صوبائی وزیراعلیٰ تعلیم مشتاق غنی نے کہا بجٹ عوام دوست ہے جس میں ہر طبقے کا خیال رکھا گیا ہے۔ وفاق نے یقین دہانی کروائی ہے کہ تمام بقایا جات جلد سے جلد ادا کئے جائیں گے پی پی پی کے سلیم خان نے کہاکہ صوبے کی ایک ضلع کا  29ارب جبکہ دوسرے ضلع کو صرف 5کروڑ یہ کہاں کا انصاف ہے؟ مسلم لیگ ن کے راجہ فیصل زمان نے کہا کہ ایک طرف تو حکومت نقل و حرکت محدود کرنے کی باتیں کررہی ہے کہ سیکیورٹی خدشات ہیں تو دوسری طرف موجودہ سکیورٹی اہلکاروں کو بھی واپس لیا جارہا ہے۔ صوبائی وزیر اطلاعات شاہ فرمان نے کہاکہ پارٹی لیڈورں پر تنقید بلا جواز ہے پنجاب میں گورنر کا قتل، وزیراعظم و گورنر کے بیٹے کا اغواء اور بڑے بڑے وقعات ہوئے اور لاہور میں پولیس نے جو کارنامہ انجام دیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی اگر ہمارے صوبے کی پولیس ایسا کرتے تو ہم سے بھی استعفوں کا مطالبہ جائز ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ آئی ڈی پیز کے لئے 35کروڈ روپے رکھے ہیں شمالی وزیراستان آپریشن سے بے خبر رکھا گیا وقت پر بتایا جاتا تو بہتر ہوتا۔ ہمارے حکمران اتحاد میں کسی بھی جماعت کے پاس گلو بٹ نہیں ہے۔ اپوزیشن رکن سید مفتی جانان، سلیم خان، سردار اورنگزیب نا لوٹھہ اور دیگر ارکان نے صوبائی بجٹ کو غیر متوازن اور فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم قرار دیا۔ آپوزیشن اراکین نے کہا کہ اس بجٹ میں بھی عوام کو مایوس کیا گیا ہے۔ بجٹ کا دفاع کرتے ہوئے ہائر ایجوکیشن کے صوبائی وزیر مشتاق غنی نے کہا کہ جن حالات میں صوبائی بجٹ بنایا گیا اس کی تعریف وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بھی کی۔ اپوزیشن کی جانب سے تعمیری تنقید کا انتظار کررہے ہیں، سپیکر نے اسمبلی کی کارروائی کل بروز جمعہ دن دس بجے تک کے لئے ملتوی کردی۔
خیبر پی کے اسمبلی