بلوچستان کا 215 ارب کا بجٹ پیش‘ امن و امان کیلئے 17 ارب 25 کروڑ مختص

کوئٹہ  (بیورو رپورٹ) وزیراعلیٰ بلوچستان کے مشیر برائے خزانہ میر خالد لانگو نے جمعرات کو صوبائی اسمبلی میں بلوچستان کا مالی سال 2014-15کیلئے 215.713 ارب روپے کا بجٹ پیش کردیا۔ بجٹ میں پی ایس ڈی پی کیلئے 50.742 بلین روپے مختص کئے گئے ہیں جس میں بیرونی تعاون کا حصہ 2.723 بلین روپے جبکہ غیر ترقیاتی بجٹ 164.97 ایک بلین ہوگا ریونیو اخراجات کا تخمینہ 135.050 فیصد، صوبے کی اپنے وسائل سے آمدن کا تخمینہ 8.970 بلین روپے جبکہ وفاق سے حاصل ہونیوالی آمدنی میں سے قابل تقسیم پول سے 141.213 بلین براہ راست منتقلی 16.858 بلین دیگر 10.000 بلین جبکہ کیپٹل محصولات 23.279 بلین ہوگا آمدن کا کل تخمینہ 200.051 بلین ہے جبکہ بجٹ خسارہ 15.662 بلین روپے ہوگا۔ مشیر خزانہ خالد لانگو نے کہا کہ مالی سال 2014-15ء کے بجٹ میں امن و امان کیلئے غیر ترقیاتی بجٹ میں 17251.118 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں جو موجودہ مالی سال کے مقابلے میں 200 فیصد زیادہ ہے۔ ہائی ویز پر سفر کو پر امن بنانے کیلئے 2000.000 ملین روپے پولیس اور لیویز فورس کو دیئے جائیں گے جبکہ 243.980 ملین روپے کی خطیر رقم سے جدید اور معیاری اصلاح کا بندوبست کیا جائیگا ضروری آلات کیلئے 140.085 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں بجٹ میں تعلیم کو اہمیت دی گئی ہے 5 ارب روپے سے بلوچستان انڈومنٹ فنڈ کے تحت بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ کمپنی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ سکولوں اور کالجوں میں سہولیات کی فراہمی کیلئے 324.884 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں سکولوں میں فرنیچر سائنسی آلات اور دیگر کی کمی دور کرنے کیلئے 400.00 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں سکولوں کی مرمت کیلئے 750.00 ملین روپے رکھے گئے ہیں 500 ملین کا وزیراعلیٰ انڈومنٹ فنڈ قائم کیا گیا ہے ترقیاتی اور غیر ترقیاتی اخراجات کی مد میں بجٹ میں 28987.226 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں جو گذشتہ سال سے 16 فیصد زیادہ ہیں 200 پرائمری سکولوں کو مڈل کا درجہ دیا جائیگا جس کیلئے 750.00 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں 50 مڈل سکولوں کو ہائی کا درجہ دینے کیلئے 425.00 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ ضلع آواران اور کیچ کے زلزلے سے متاثر ہونیوالے 160 میں سے 23 سکولوں کی دوبارہ تعمیر ہورہی ہے 80 سکولوں کی مرمت اور تعمیر دوبارہ کرائی جائیگی جس کیلئے 200 ملین مختص کئے گئے ہیں چمن میں نیا کیڈٹ کالج قائم کرنے کا پروگرام ہے جس پر ایک ارب روپے کی لاگت آئیگی کیڈٹ کالج پشین اور کوہلو کی تعمیر جاری ہے جن کو فعال کرنے کیلئے 4 ارب روپے کا تخمینہ ہے۔ قلعہ عبداللہ اور سبی میں ریذیڈنشنل کالجز بنائے جائینگے جن پر 2 ارب روپے کے اخراجات آئینگے صوبے کے 3 انٹر کالجز مستونگ پشین اور سیٹلائٹ ٹائون کوئٹہ کو ڈگری کا درجہ دیدیا گیا ہے صوبے کے 23 بوائز اور گرلز کالجز کو بسیں فراہم کی گئی ہیں آئندہ مالی سال کے دوران تمام گرلز کالجز کو بسیں فراہم کی جائیں گی مزید 14 انٹر کالجز قائم کئے جائینگے بوائز اور گرلز کالجز میں فرنیچر کی فراہمی کیلئے 10 کروڑ روپے فراہم کئے گئے ہیں۔ خضدار اور کوئٹہ میں بلوچستان یونیورسٹی کا ایک سب کیمپس قائم کیا جارہا ہے کوئٹہ میں زرعی یونیورسٹی جبکہ سبی میں ایک یونیورسٹی اور گوادر میں کام سیٹ یونیورسٹی قائم کی جارہی ہے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں صحت کیلئے غیر ترقیاتی بجٹ میں 14.148 بلین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ آئندہ مالی سال میں 1.214 بلین روپے کی مفت ادویات دی جائیں گی صحت مند بلوچستان منصوبے کے تحت 500 دل کے مریضوں کو مفت علاج فراہم کیا جائیگا۔ سول سیکرٹریٹ کوئٹہ میں پارکنگ کمپلیکس کیلئے 80.00 ملین روپے جبکہ جناح روڈ پر میوزیم اور صوبائی لائبریری کی تعمیر کیلئے 95 ملین اور زیارت میں قائداعظم کی ریذیڈنسی کی تعمیر و مرمت کیلئے 50 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں بجٹ میں توانائی کیلئے 3235.775 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ ایک ارب روپے کی لاگت سے شمسی توانائی کا پروجیکٹ شروع کیا جائیگا۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ کے دوران کھیلوں کیلئے 1814.013 ملین مختص کئے گئے ہیں جو موجودہ مالی سال کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ ہیں آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بے روز گاری پر قابو پانے کیلئے 3925 آسامیاں پیدا کی جائیں گی سرکاری ملازمین کیلئے بھی بجٹ میں مراعات کا اعلان کیا گیا ہے تمام ضلعی اور صوبائی کوچز کو گریڈ 15 سے 16 میں اپ گریڈ کردیا گیا ہے پولیس کے ڈیپارٹمنٹ کے سپیشل الائونس کو 2008ء کی بجائے 2011ء کے پے سکیل پر جاری کیا گیا ہے جس کی زیادہ سے زیادہ حد 6 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ محکمہ صحت کی سٹاف نرسز کا ڈریس الائونس 3 روپے سے بڑھا کر 3100 روپے جبکہ میس الائونس 500 سے بڑھا کر 8 ہزار روپے کردیا گیا کم سے کم اجرت 9 ہزار سے بڑھا کر 10 ہزار روپے کردی گئی ہے آئندہ سال کے مالی بجٹ میں قانون نافذ کرنیوالی فورسز اور دیگر صوبائی ملازمین کے شہداء کے لواحقین کیلئے معاوضہ 20 سے بڑھا کر 40 لاکھ اور زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ کروڑ روپے تک کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ لگژری گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے پبلک اکائونٹس کمیٹی فوری طور پر تشکیل دی جائیگی حکومتی خرچے پر بیرون ملک علاج معالجے سیمیناروں کانفرنسوں ورکشاپس میں شرکت پر پابندی پر سختی سے عمل کیا جائیگا حکومتی خرچے پر ہوٹلوں میں میٹنگز اور تقریبات کے انعقاد ظہرانہ و دیگر طعام پر پابندی ہوگی۔
بلوچستان بجٹ