سیکرٹری دفاع اور جی ایچ کیو حکام لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کریں: پشاور ہائیکورٹ

پشاور(این این آئی+نوائے وقت رپورٹ) پشاور ہائیکورٹ نے لاپتہ افراد کیس میں وزارت دفاع کو جی ایچ کیو سے رابطے اور حراستی سنٹرز میں رکھے گئے افراد کی فہرست عدالت میں پیش کرنے کے احکامات جاری کردئیے ہیں۔ عدالت عالیہ کے چیف جسٹس دوست محمد خان اور جسٹس نثار حسین پر مشتمل دو رکنی بنچ نے لاپتہ افراد کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر لاپتہ افراد کے سینکڑوں رشتہ دار عدالت عالیہ میں موجود تھے۔ ڈپٹی ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ 7 افراد کو ریلیز کیا گیا ہے، تین افراد کو مختلف سنٹرز میں بھیج دیا گیا۔ عدالت عالیہ کو بتایا کہ ذاکر اللہ نامی شخص کی نعش مل گئی ہیں اس موقع پر عدالت عالیہ میں مختلف تھانوں کے ایس ایچ اوز بھی پیش ہوئے جن پر لوگوں کو اٹھانے کے الزامات تھے، عدالت عالیہ نے ایس ایچ اوز کو ہدایت کی کہ اس سے قبل بھی ایجنسیوں کیساتھ غیر قانونی چھاپوں سے روکنے کیلئے چیف سیکرٹری نے باقاعدہ ہدایات جاری کی تھی اور اب اگر ایسا ہوا تو سخت ایکشن لیا جائیگا۔ چیف جسٹس نے اس حوالے سے دوبارہ نوٹیفکیشن جاری کرنے کیلئے چیف سیکرٹری کو ہدایات جاری کردی۔ عدالت عالیہ نے کیس کی سماعت کے موقع پر وزارت دفاع سے میجر علی اور فرنٹیئر کور سے میجر ایاز پیش ہوئے، جنہوں نے مختلف علاقوں سے لاپتہ ہونیوالے افراد سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس نے اس سلسلے میں وزارت دفاع کو جی ایچ کیو سے رابطے کی ہدایت کی اور کہا کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیاجائے۔ حراستی سنٹرز میں رکھے گئے افراد کو چیک کرنے کیلئے بورڈ قائم کیا جائے اور عدالت کو بتایا جائے کہ کتنے لوگ حراستی سنٹرز میں موجود ہیں جس کی رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی جائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ اس معاملے میں مزید رعایت نہیں دی جائیگی۔یہ انسانی حقوق کا معاملہ ہے اور بنیادی انسانی حقوق کو تحفظ فراہم کرنا عدالتوں کا کام ہے عدالت عالیہ نے کیس کی سماعت 31 اکتوبر تک متلوی کردی۔ ڈپٹی ایڈووکیٹ خیبر پی کے نے کہا کہ 7 لاپتہ افرادکو رہا کر دیا 3 لاپتہ افراد کو حراستی مراکز منتقل کیا گیا ہے۔ ایک لاپتہ شخص کی نعش ملی ہے۔ چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ دوست محمد خان نے کہا کہ تمام اس ایچ اوز غیر قانونی چھاپے بند کریں ورنہ متعلقہ ایس ایچ اوز کے خلاف کارروائی ہو گی۔ تمام ایس ایچ اوز کو آخری وارننگ دے رہے ہیں۔ ایس ایچ اوز عدالتی احکامات کے بغیر چھاپے نہ مارنے کو یقینی بنائیں۔ سیکرٹری دفاع اور جی ایچ کیو حکام لاپتہ افراد کی بازیابی کے مسئلے کو حل کریں۔