مناسک حج بیت اللہ و عمرہ

ڈاکٹر فرید احمد پراچہ

٭۔مناسک عمرہ :
احرام سے پہلے
oغیر ضروری بالوں کی صفائی۔ ناخن تراشنا
oغسل یا وضوo احرام کی نیت
٭۔احرام کا لباس :۔
oمردوں کے لیے دو سفید ان سلی چادریں
oپاو¿ں میں ہوائی چپل
oعورتوں کے لیے ان کا اپنا لباس۔ سر مکمل ڈھکا ہوا
٭۔احرام کاطریقہ :۔
oمرد ایک چادر تہ بند کی طرح باندھ لیں گے اور دوسری چادر اوپر اوڑھ لیں گے
٭۔احرام کب باندھا جائے؟
oاپنے گھر سے یا ہوائی اڈہ پر باندھا جاسکتا ہے
oمیقات سے پہلے جہاز میں بھی باندھ سکتے ہیں۔ ہوائی جہاز میں پانی کی قلت۔ قبلہ کی نشاندہی۔ نوافل کے لیے جگہ کی کمی جیسے مسائل ہیں اس لیے پہلے ہی     احرام باندھنا موزوں ہے۔
٭۔احرام کیسے؟
oغسل یا وضو کرنے اور احرام کا لباس پہننے کے بعد دو رکعت ادا کریں۔ پھر عمرہ کی نیت کریں۔ دل کی نیت ہی کافی ہے۔ بہتر ہے کہ زبان سے بھی اللھم     لبیک عمرہ کہہ کر تلبیہ پڑھیں
 حرم شریف میں داخل ہونے کے بعد :۔
oبیت اللہ شریف پر نظر پڑے تو کھڑے ہو کر دعائیں کریں
٭۔طواف :۔
oحجر اسود کے مقابل آکر طواف شروع کریں گے
oحجر اسود کا بوسہ لے کر یا حجر اسود کی طرف ہاتھ سے استلام کرکے بسم اللہ اللہ اکبر وللہ الحمد پڑھیں
oطواف کے سات چکر ہیں۔ ہر چکر کا آغاز استلام سے کریں۔
٭۔سعی کا طریقہ :۔
oسعی کے آغاز میں صفا کی ذرا بلندی سے خانہ کعبہ کی طرف رخ کرکے اللہ اکبراللہ اکبر وللہ الحمد کہیں۔
oصفا سے مروہ تک ایک چکر اور مروہ سے صفا تک دوسرا چکر، یوں سات چکر پورے کریں۔
oصفا اور مروہ کے درمیان پڑھنے کے لیے کوئی مخصوص دعائیں نہیں۔ آپ کو جو دعائیں یاد ہیں وہ پوری توجہ سے پڑھتے رہیں اورکثرت سے اللہ کا ذکر کریں۔
oصفا اور مروہ کی سعی کے دوران سبز ٹیوبوں والے حصہ میں ہلکی رفتار سے دوڑ کرچلیں (عورتوں کے لیے دوڑنے کی پابندی نہیں)
oسعی کے ساتویں چکر کا اختتام مروہ پر ہوگا۔
٭۔سر کے بال کاٹنے کا حکم :۔
oسعی سے فارغ ہو کر مرد سر پر استرا پھروا لیں یا حجامت کی طرح بال چھوٹے کروالیں۔ (سر منڈوانے کو حلق اور بال چھوٹے کرانے کوقصر کہتے ہیں۔ حلق کا     اجر زیادہ ہے۔) خواتین کے سر سے انگلی کی پور کے برابر بال کاٹے جائیں گے یہ محرم یا کوئی دوسری خاتون کاٹے۔
oاب عمرہ مکمل ہوگیا۔ اب آپ حالت احرام سے باہر ہیں۔
٭۔عمرہ کے بعد حج تک کیا کرنا ہے؟ :۔
oحرم شریف میں نماز باجماعت کی پابندی۔ قرآن پاک کی کثرت سے تلاوت۔ نوافل کی ادائیگی۔ دینی کتب خصوصاً سیرت پاک کامطالعہ۔
oعام کپڑوں میں طواف۔ طواف کی عبادت صرف حرم کعبہ میں ہی ہوسکتی ہے۔ اس کی سعادت حاصل کرتے رہیں۔ وہی سات     پھیرے۔     ہرپھیرے پر استلام۔ آخری پھیرے کے بعد بھی استلام پھر دو رکعت واجب طواف
مناسک حج کا آغاز 8ذوالحجہ کو ہوگا :۔
٭۔8ذوالحجہ کے اعمال
oاپنی قیام گاہ سے ہی غسل یا وضو کرکے احرام باندھ لیں۔ دو رکعت ادا کریں اور اللھم لبیک حجا کہہ کر حج کی نیت کرلیں اورتلبیہ لبیک اللھم         لبیک پڑھیں ۔ تلبیہ پڑھتے ہوئے اپنی قیام گاہ سے منیٰ روانہ ہوں۔
منیٰ میں 8ذوالحجہ کو ظہر۔ عصر۔ مغرب اور عشاءکی نمازیں مسجد میں یا اپنی قیام گاہ پر باجماعت ادا کریں۔ تلبیہ پڑھتے رہیں اورکثرت سے اللہ کا ذکر کریں۔
٭۔9ذوالحجہ حج کا دن :۔
oنماز فجر منیٰ میں ادا کرکے معلم کے پروگرام کے مطابق عرفات روانہ ہوجائیں۔ عرفات کی حاضری فرض اور حج کا اہم ترین رکن ہے اس کے بغیر حج نہیں ہوتا۔
٭۔مزدلفہ روانگی :۔
oسورج غروب ہونے سے پہلے عرفات سے نہ نکلیں جیسے ہی سورج غروب ہونے کے اعلان کے طور پر توپ کا گولہ چلے عرفات سے مزدلفہ جانے کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔
٭۔10ذوالحجہ :۔
oآج قربانی (دم شکرانہ) کا دن ہے۔ آج زیادہ مصروفیت کا دن ہے۔
oمنیٰ پہنچ کر بڑے شیطان کو کنکریاں ماریں۔ شیطان کے قریب پہنچ کر تلبیہ بند کردیں اور اللہ اکبر کہہ کر شیطان کو ایک ایک کرکے سات کنکریاں ماریں۔     کوشش کریں یہ دیوار پر لگیں۔ حوض میں بھی گر جائیں تو کوئی ہرج نہیں۔
oدس تاریخ کو فجر سے لے کر غروب آفتاب تک کسی وقت بھی کنکریاں مارسکتے ہیں۔ بلکہ اب سعودی علماءنے غروب آفتاب کے     بعد کی بھی گنجائش دے دی     ہے۔
oکنکریاں مارنے کے لیے جو طریقہ طے کیا گیا ہے اس کی پابندی کریں۔
٭۔قربانی (دم شکرانہ) :۔
oکنکریاں مارنے کے بعد قربانی دی جائے گی یہ واجب ہے۔
oقربان گاہ میں جا کر خود جانور خرید کر بھی قربانی دے سکتے ہیں اور سعودی بنکوں، کمپنیوں کو رقم جمع کراکے بھی قربانی ہوسکتی ہے۔
٭۔حلق یا قصر :۔
oاحرام سے نکلنے کے لیے مرد سر کے بال استرے سے صاف کرائیں یا چھوٹے کرالیں۔ عورت کے انگلی کے پور کے برابر کاٹے جائیں گے۔ اب احرام کھول کر عام لباس پہن سکتے ہیں۔
طواف زیارت :۔
o    10ذوالحجہ سے لے کر 12ذوالحجہ تک کسی بھی دن کسی بھی وقت مکہ مکرمہ آکر طواف زیارت کریں۔
oیہ طواف فرض اور حج کا اہم رکن ہے۔
oطواف اسی طرح سات پھیرے اور سعی سات پھیرے ہوگی۔
oطواف و سعی عام لباس میں ہوں گے۔
٭۔ 11-12ذوالحجہ کو کیا کریں گے؟
oان دو دنوں میں زوال کے بعد تینوں شیطانوں کو ایک ایک کرکے سات سات کنکریاں ماریں گے۔
oپہلے چھوٹے پھر درمیانے اور آخر میں بڑے شیطانوں کو کنکریاں ماری جائیں گی۔
oباقی وقت میں ذکر اذکار۔ نماز باجماعت کی پابندی اور دنیا بھر سے آئے ہوئے مسلمانوں سے باہمی میل ملاقات کریں۔
o    12ذوالحجہ کو غروب آفتاب سے پہلے منیٰ چھوڑ دیں اور مکہ معظمہ واپس آئیں۔
oالحمد للہ حج کے تمام مناسک پورے ہوگئے اور مکہ چھوڑتے وقت طواف وداع کریں گے۔
٭۔طواف وداع :۔
oمکہ چھوڑنے سے پہلے سہولت کے مطابق طواف وداع کرلیں۔ طواف وداع کے بعد بھی حرم شریف جاسکتے ہیں کوئی پابندی نہیں۔
٭۔سفر مدینہ منورہ :۔
oحج سے پہلے یا حج کے بعد آپ کو مدینہ منورہ کی زیارت کا شرف حاصل ہوگا۔ یہ سفر محبت رسول کی لطافتوں کا سفر ہے اس کے دوران درود شریف کی کثرت رکھیں۔
oمسجد نبوی پہنچ کر پہلے دو رکعت تحیة المسجد ادا کریں۔ جماعت کا وقت ہو تو جماعت میں شامل ہوں۔
oپھر حضور رسالت مآب کو سلام عرض کرنے کے لیے مواجہہ شریف کی طرف بڑھیں اور وقار و سنجیدگی کا دامن نہ چھوڑیں۔ ادب، احترام، خاموشی اور آہستہ خرامی کے ساتھ بڑھیں کہ یہ مقام ادب ہے۔
oپیتل کی جالی میں پہلے دو سوراخ محض سجاوٹ کے لیے ہیں اس سے آگے بڑے سائز کا سوراخ مواجہہ شریف کے عین سامنے ہے۔ یہاں السلام علیک یا رسول اللہ، الصلوة والسلام علیک یا نبی اللہ، السلام علیک یا خیر خلق اللہ، الصلوة والسلام علیک یا حبیب اللہ پڑھتے ہوئے آگے بڑھتے رہیں۔ یہاں چلتی قطار میں کھڑا ہونے کا نہ موقع ہوتا ہے اور نہ ہی نگران اجازت دیتے ہیں۔
oاس سوراخ کے بعد والے سوراخ کے سامنے حضرت ابو بکر صدیق ؓ کو السلام علیک یا خلیفة رسول اللہ ابوبکرالصدیقؓ کہہ کر اور اس سے اگلے سوراخ کے سامنے حضرت عمرؓ کو السلام علیک یا امیرالمومنین عمر بن الخطاب کہہ کر سلام پیش کریں۔
oاس کے بعد قطار سے ہٹ کر پیچھے چلے جائیں اور دوبارہ مواجہہ شریف اور حضرت ابو بکر صدیق ؓ اور حضرت عمر فاروق ؓ کی قبرمبارک کے سامنے آرام سے اور تفصیل سے سلام عرض کریں۔
٭۔دعائیں :۔
oبہتر ہے کہ پہلے سے جو دعائیں یاد ہیں انہیں ہی اکثر دہراتے رہیں۔
oدعا کا ترجمہ معلوم ہونا چاہیے تاکہ علم میں رہے کہ اپنے رب سے کیا مانگ رہے ہیں۔
oدل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت کا خیال، اس سے محبت کا جذبہ، اپنے گناہوں کا احساس اور خدا کی بے پایاں رحمت سے امید بھری طلب کا دھیان ہونا چاہیے۔
oقبولیت دعا کے مقام مثلاً باب ملتزم، حطیم، مقام ابراہیم، صفا و مروہ، میدان عرفات، مشعرالحرام، مسجد نبوی، ریاض الجنة وغیرہ میں گڑگڑا کردعائیں مانگیں۔