مفکراسلام حضرت مولانا مفتی محمود

مولانا محمد امجد خان
 مولانا مفتی محمود کی پےدائش پٹےالہ ڈےرہ اسماعےل خان مےں 1919 میں ہوئی۔ حضرت خلےفہ محمد صدےق کے ہاں پےدا ہونے والے فرزند کا نام محمود رکھا گےا ہے ۔ جنہوں نے بعد مےں مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمود کے نام سے شہرت پائی۔بحیثےت عالم دےن اور سےاست دان حضرت مولانا مفتی محمود صاحب نہاےت عظےم انسان تھے آپ کی ہمہ جہت شخصےت ہرکسی پر عےاں اور طشت ازبام ہے ۔آپ کی گہری سوچ، سنجےدگی، اولوالعزمی ، بے لوث سےاست اور علمےت کی روشنی دور دور تک پھےلی ہوئی تھےں ہر عالم دےن اور سےاست دان آپ سے متاثر تھا ےہاں تک کہ بھٹو مرحوم نے بھی آپ کی سےاست کی عظمت کی گواہی دی۔ اپرےل 1992 کا زمانہ تھا اس مےں فےلڈ مارشل محمد اےوب خان مرحوم نے بی ڈی سسٹم کے تحت قومی اسمبلی کے پہلے انتخابات کا اعلان کےا مفتی صاحب جمعےت کی جانب سے انتخابی مےدان مےں کھڑے ہوگئے اس کے بعد مخالفت کا آغاز ہوا نتےجہ کا اعلان ہوا تو آپ کو بڑی اکثرےت سے کامےابی ملی، اکثر مخالفےن کی ضمانتےں ضبط ہوگئےں۔
جب مولانا مفتی محمود وزےراعلیٰ سرحد بنے تو چےف سےکرٹری صاحب نے رہائش کے لئے گےسٹ ہاو¿س منتخب کےا اور مفتی محمود سے گزارش کی انگرےزوں کے دورکا سامان اور فرنےچر ہے اسے تبدےل کرانے کی کوشش کرےں گے لےکن مفتی صاحب نے فرماےا کہ اللہ کے بندے ےہ تم کس چکر مےں پڑگئے ےہ فرنےچر ٹھےک ہے اس کے بدلنے کی ضرورت نہےں مےرے اپنے گھر عبدالخےل مےں تو کوئی ٹوٹا پھوٹا صوفہ بھی نہےں۔مفتی صاحب نے انتظامےہ کی پہلی مےٹنگ کال کی کےونکہ آ پ حالات کا اندازہ لگانا چاہتے تھے سوٹ ،بوٹ اور چمکتے لباس مےں جب افسران آئے تو سب حضرت مفتی صاحب کی ذات میں سادگی دےکھ کر حےران ہوگئے لےکن مےٹنگ کے دوران رفتہ رفتہ ان پر اس دروےش صفت ہستی کے اسرار کھل گئے۔ حضرت مولانا مفتی محمود مرحوم نے جب وزارت اعلیٰ کاحلف اٹھانے کے فوراً بعد صوبے میںچند اقدامات کئے جس مےں سرفہرست امتناع شراب کا حکم تھا۔ اس حکم کی رو سے صوبے مےں شراب بنانے، رکھنے اور بےچنے پر پابندی عائد کردی گئی ۔ مےٹنگ کے دوران ےہ معاملہ بھی زےربحث آےا کہ سالانہ شراب کی فروخت پر جو اےکسائز کی ڈےوٹی لگتی ہے اس سے اےک کثےررقم ہاتھ مےں آتی ہے لےکن آپ نے فرماےا کہ اس حکم کی واپسی ناممکن ہے۔ آخرت مےں مجھے جواب دےنا ہوگا مےرے دور مےں جتنی شراب پی جائےگی اس کا حساب کل قےامت کے دن مجھ سے لےا جائے گا غےر ملکی مہمانوں کے لئے جب مرکز نے اجازت چاہی تب بھی آپ نے انکار فرماےا اس کے علاوہ صوبہ سرحد کا سرکاری لباس شلوار قمےض قرار پاےا اس کے بعد ےہ منظر سامنے آےا کہ بڑے چھوٹے تمام افسران اس لباس مےں ملبوس نظرآئے سرکاری دفاتر کا ماحول بھی بدل گےا اب جس افسر سے عام آدمی کی ملاقات ہوتی تووہ ےہ سمجھتا کہ مےں اےک انسان سے مل رہا ہوں۔ وزےراعلی ٰ ہونے کے باوجود حضرت مولانا مفتی محمود ؒ نے دور فاروقی ؓ اور خلفائے راشدےنؓ کی ےاد تازہ کردی۔
مسٹر بھٹو مرحوم نے صوبہ سرحد اور بلوچستان مےں نےپ اور جمعےت کی مخلوط وزارتوں کو ذہنی طور پر قبول نہےں کےا تھا چنانچہ وہ شروع دن سے ہی ان کے خلاف محاذ بنانے مےں مصروف تھی مرکز کی طرف سے رکاوٹےں ڈالی گئیں مگر آپ ڈٹے رہے۔ مسٹربھٹو نے بلوچستان مےں نےپ اورجمعیت کی مخلوط وزارت توڑ دی اور صوبہ کے گورنر ارباب سکندر خان خلےل کو برطرف کردےا ےہ اقدام اصولوں کے خلاف تھا۔
آپ کو سےاسی تارےخ پر خوب عبور تھا انہےں معلومات مےں خداداد بصےرت حاصل تھی انہےں سےاسی مجالس ےا مےٹنگز مےں شرکت کےلئے کسی تےاری وغےرہ کی ضرورت نہ ہوتی سےاسی الجھنوں کو بڑی بصےرت سے حل فرماتے پاکستان قومی اتحاد نے بھٹو حکومت کے ساتھ مذاکرات کےلئے جوٹےم مقرر کی تھی اسکی قےادت بھی آپ ہی کے ذمے تھی ملک نہاےت نازک دور سے گزر رہا تھا مفتی صاحب نے اپنی اعلیٰ سےاسی بصےرت اور بے داغ کردار سے مذاکرات کے دوران قوم کی نمائندگی کا صحےح حق ادا کےا نواب زادہ نصراللہ خان مرحوم پروفےسر غفور احمد صاحب کے تاثرات ریکارڈ پرموجودہےں۔
حضرت مولانا مفتی صاحب عالم دےن اور سےاست کے ساتھ ساتھ تصوف کے مےدان کے بھی شہسوار تھے۔ مدےنہ منورہ مےں اےک صاحب نسبت بزرگ نے خواب مےں حضور کرےم کی زےارت کی۔ان کی طرف سے مفتی صاحب کو ان الفاظ مےں پےغام بشارت دےا گےا ، کہ مےری طرف سے سے آپ کو سلام کہیں ہر معاملہ مےں اللہ تعالیٰ سے قوت وطاقت کے طلبگار رہےں ہمےشہ حق بات کہےں اللہ تعالیٰ سچ اور حق لےتا ہے اور وہی صحےح راستہ کی راہنمائی کرتا ہے اس طرح شےح عبدالمحسن عباد جو سعودی عرب کے ممتاز عالم دےن اور مدےنہ ےونےورسٹی کے دورے پر تشرےف لے گئے تو دوران گفتگو شےخ عبدالمحسن عباد نے مفتی صاحب کا شکرےہ ادا کرتے ہوئے فرماےا۔ترجمہ
خدا کی قسم ! مےں مفتی صاحب کا شکرگزار ہوں اور ہر مسلمان کو ان کا شکرگزار ہونا چاہےے ۔مفتی صاحب جب امام مسجد نبوی شےح عبدالعزےز صالح سے ملاقات کےلئے تشرےف لے گئے اورمفتی صاحب نے اٹھنے کی اجازت چاہی تو امام صاحب نے فرماےا:
خدا کی قسم ! اس مجلس سے دل نہےں بھرتا تشنگی باقی رہتی ہے۔
اس طرح عمر محمد کا فلاطہ جو مدےنہ منورہ ےونےورسٹی کے سےکرٹری جنرل تھے انہوں نے دوران ملاقات کہا کہ مےں آپ کو اس لئے خوش ہورہا ہوں کہ آپ ایک بلند فائز ہےں آپ نے سےاست کو اکٹھا کرکے دکھاےا ہے۔
حضرت مولانا مفتی محمود صاحب نڈر بے باک عظےم مجاہد عالم دےن اور سےاست دان تھے آپ قائد جمعےت حضرت مولانا فضل الرحمن اور انکے برادران ہی نہےں بلکہ تلامذہ کی اےک بڑی تعداد مےں صدقہ جارےہ کے طور پر چھوڑ گئے ہےں بطور شےخ الحدےث کے جہاں دےن کے محاذ کے محافظ تےار کئے وہاں لاتعداد فتاوی جاری فرمائے جن سے آج بھی مفتےان کرام استفادہ کرتے ہےں اپنے رفقاءکے ساتھ حضرت مفتی صاحب نے جمعےت کے مشن کو آگے بڑھانے مےں جو کردار ادا کےا ہے وہ تارےخ جمعےت کا لازوال حصہ ہے۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ رب کائنات کارکنان جمعےت کو حضرت مفتی صاحب اور دےگر اکابرےن کے طرز پر اللہ کی رضا کےلئے کام کرنے کی توفےق عطا فرمائے۔ آمین