ماڈل بازار رائے ونڈ کی تعمیر کے بعد سینکڑوں خوانچہ فروش در بدر

رائے ونڈ (نامہ نگار) صحن غلہ منڈی میں ماڈل بازار کی تعمیر کے بعد یہاں کاروبار کرنے والے سینکڑوں تاجران اور خوانچہ فروش دربدر ہو کر پرسکون انداز میں کاروبار سے محروم ہو چکے ہیں اور سینکڑوں خوانچہ فروش اس وقت شہر کے لئے مسئلہ بن چکے ہیں انہیں ابھی تک کاروبار کیلئے کوئی مناسب جگہ نہیں مل رہی۔ اور یہ سینکڑوں افراد گلی محلوں،بازاروں چوکوں اور سڑکوں پر خوانچے لگا کر روزی اکٹھی کرنے پر مجبور ہیں،مذکورہ تین سو سے زائد سبزی فروشوں نے ریلوے حکام سے ساڑھے پانچ لاکھ روپے کے عوض عارضی طور پر چار ماہ کیلئے ریلوے روڈ پرشہر کے وسط میں جگہ حاصل کرلی تھی جو کہ ریلوے انتظامیہ کو مدت پوری ہونے پرآپریشن کرکے واگزار کروانی پڑی جبکہ اس موقع پر احتجاج کرنے والے پانچ تاجر نمائندے چھ روز جیل کی ہوا کھانے کے بعد گزشتہ روز واپس لوٹے ہیں سندر روڈ بائی پاس پر محکمہ کی منظور شدہ پرائیوئٹ سبزی منڈی کے مالکان حاجی الیاس وغیرہ تمام خوانچہ فروشوں کو پانچ سال کیلئے مفت جگہ دینے کو تیار ہیں اور بہت سے تاجران وہاں کاروبار بھی کررہے ہیں،پرائیوئٹ سبزی منڈی میں جانے سے انکاری سبزی فروش تاجر نمائندے مقامی اہم سیاسی شخصیت پر بھی پرائیوئٹ سبزی منڈی مالکان سے ملی بھگت کا الزام لگاتے ہیں،گزشتہ دنوں مذکورہ گروپ کے سبزی فروشوں نے نواز شریف فارم کے سامنے بھی احتجاج ریکارڈ کروایا چونکہ در بدر ہونے والے خوانچہ فروش تجاوزات کی مد میں ٹریفک کے مسائل کا سبب بھی بن رہے ہیں اور سرکاری سبزی منڈی بنانے کی کارروائی ا بھی نامکمل ہے۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ محکمہ زراعت نے ڈی سی او لاہور کو تجویز بھجوائی ہے کہ وہ در بدر ہونے والے خوانچہ فروشوں کوسرکاری سبزی منڈی کے قیام تک پرائیوئٹ سبزی منڈی میں منتقل ہونے کا حکم صادر کریں۔