قربانی اور اِس کے مسائل

علامہ منیر احمد یوسفی
لفظ ”قربان“ عربی لُغت کے اعتبار سے ہر اُس چیز کو کہا جاتا ہے جس کو کسی کے قرب کا ذریعہ بنایا جائے اور اِصطلاح شرع میں اس ذبیحہ وغیرہ کو کہا جاتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لیے کیا جائے۔
زمانہ¿ قدیم میں قربانی کے قبول ہونے کی علامت یہ ہوتی تھی کہ سفید رنگ کی غیبی آگ آسمان سے آتی اور قربانی کی چیز کو جلا دیتی اور اگر قربانی قبول نہ ہوتی تو اُس پر نہ آگ آتی اور نہ ہی اُسے جلاتی، وہ چیز وہیں پڑی رہتی تھی۔ جیسا کہ قابیل اور ہابیل کی قربانی کے بارے میں اِرشادِ خداوندی ہے:۔ (ترجمہ) ”جب کہ دونوں (قابیل اور ہابیل) نے قربانی دی پس اُن دونوں میں سے ایک سے قبول کی گئی دوسرے سے قبول نہ کی گئی‘ (المائدة : 27)
اِسی طرح قربانیوں کے گوشت اور مالِ غنیمت بھی بارگاہِ الٰہی میں پیش کئے جاتے تھے اور جھگڑے کی صورت میںاپنی حقانیت اِس طرح پیش کی جاتی کہ جو سچا ہوتا تھا اس کی قربانی کو آگ جلا دیتی تھی۔ جھوٹے کی قربانی ےوں ہی پڑی رہتی تھی۔ قربانیوں کی قبولیت کی بنیاد سچائی اور تقویٰ تھی اورآج بھی ایسے ہی ہے۔
جب قابیل کی قربانی مردود ہو گئی تو اُس نے حضرت ہابیل سے کہا میں تمہیں قتل کر دوں گا تو اُس کے جواب میں حضرت ہابیل نے کہا : (ترجمہ) ”بولا کہ اللہ (تعالیٰ) کا دستور ہے کہ وہ قربانی اور عمل پرہیزگاروں کا ہی قبول فرماتاہے۔“ (المائدة :27)۔ اس سلسلہ میں سورة الحج کی آےت نمبر 37 میں اِرشادِ ربّانی ہے : (ترجمہ)”اللہ (تعالیٰ) کو ہرگز اُن (قربانی کے جانوروں ) کے نہ تو گوشت پہنچتے ہیں اور نہ ہی خون، ہاں تمہاری پرہیزگاری بارےاب ہوتی ہے۔“
قربانی وہ عمل ہے جس میں عہدِ نبوت سے لے کر آج تک متواتر اِتفاق چلا آ رہا ہے۔ قربانی ایک ایسی عبادت ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہاں بہت پسندیدہ اور مقبول ہے۔ اِس میں صرف رضا ئے الٰہی کو مدِنظر رکھنا چاہئے اور ہر قسم کے تکبر، ریا، شہرت اور فخر سے بچنا چاہئے۔ اِس لئے کہ قربانی کا مقصد نہ تو صرف گوشت کھانا ہے اور نہ ہی شہرت و فخر بلکہ تقویٰ اور رضائے خداوندی ہے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے پیارے نبی کریم کو اِرشاد فرمایا: (ترجمہ) ”پس اپنے پروردگار کے لئے (اے محبوب) نمازپڑھو اور قربانی کرو۔“ (الکوثر : 2) اِس آےتِ مبارک میںاگرچہ خطاب نبی کریم سے ہے‘ مگر حکم بالعموم ساری اُمتِ مسلمہ کے لئے ہ۔ چنانچہ تمام مسلمان اس حکم خداوند ی کے قائل اور فاعل ہیں اور انشاءاﷲ رہیں گے ۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے‘ فرماتے ہیں‘ رسول کریم نے فرمایا: ”دنیا کے سب دنوں سے زیادہ بزرگ دن ذی الحجہ کا پہلا عشرہ ہے (یعنی دس دن ہیں)۔ فرمایا گیا کہ اِن کے برابر جہاد فی سبیل اﷲ بھی نہیں مگر وہ کہ جس نے اپنا منہ مٹی میں آلودہ کیا“ (یعنی جامِ شہادت نوش کیا)۔“ (مجمع الزوائد‘ الترغیب و الترہیب‘ مسند بزار)
”حضرت اُم سلمہؓ سے رواےت ہے‘ فرماتی ہیں‘ نبی کریم نے اِرشاد فرمایا: ”جو شخص قربانی کی نےت رکھتا ہو، وہ ذی الحجہ کا چاند نظر آنے پر نہ تو اپنے سر اور مونچھوں وغیرہ کے بال تراشے اور نہ ہی ناخن کاٹے، یہاں تک کہ قربانی کر لے۔“ (مسلم جلد 2 ص 60 )۔ یعنی قربانی کرنے کے بعدمذکورہ بالا کام کرے اور جس کو پہلے دن قربانی نہ کرنی ہو وہ چاہے تو عید الاضحی کی نماز ادا کرنے کے بعد حجامت وغیرہ بنا لے تو کوئی حرج نہیں۔
حضرت عبداللہ بن عمر وؓ سے رواےت ہے‘ فرماتے ہیں‘ رسولِ کریم نے ایک شخص سے فرمایا:
”مجھے ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو عید کرنے کا حکم ہوا ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے اِس اُمّت کے لئے اِس دن کو عید کیا ہے تو اُس شخص نے عرض کیا‘ اگر میرے پاس کچھ نہ ہو مگر اُونٹنی یا بکری تو کیا میں اِس کی قربانی کروں؟ تو آپ نے اِرشاد فرمایا: نہیں! (کیونکہ ایک ہی جانور ہے اِس کو بھی ذبح کردے گا تو کام کاج میں تکلیف ہو گی لہٰذا) اپنے سر کے بال کٹوا کر، ناخن تراش کر اور مونچھوں کے اور زیر ناف بال تراش (مونڈ) لیں‘ اﷲ کے نزدیک تیری یہی قربانی ہے۔“ (تم مکمل قربانی کا ثواب حاصل کر سکتے ہو)۔ یعنی جو شخص جانور کی قربانی کی طاقت نہ رکھتا ہو، وہ بھی ذی الحجہ کا چاند طلو ع ہونے کے بعد نہ تو حجامت بنوائے نہ ہی ناخن کاٹے اور نہ ہی غیر ضروری بال تراشے بلکہ عید کی نماز اد اکرنے کے بعد حجامت وغیرہ بنوائے، مونچھیں تراشے اور ناخن کاٹے تو اُس کو بھی قربانی کا ثواب حاصل ہو جائے گا۔