سانحہ¿ بابا فرید الدین گنج شکر

پیر امداد حسین
اولیاءاللہ کی در گا ہیں مر جع خا ص و عا م ہیں ان در گا ہوں پر دلی مرادوں کے حصول کے لئے دن رات عقےدت مندوں کا ہجوم رہتا ہے لو گوں کی تہذیب و تمدن اور فکری سوچ پر اولیا ءاللہ کے افکار اور نظر یا ت کی گہری چھاپ نظر آتی ہے ۔ لیکن کچھ عرصہ سے عالمی سطح پر ہونے والی تبدےلیوں کے نتےجہ مےں امن وآشتی اور رشد و ہداےت کا گہوارہ رہنے والی اولیاءاللہ در گا ہیں ۔ مسا جد ۔امام با ر گا ہیں ۔اور دیگر مذہبی مقا ما ت آج دہشت گر دوں کا ہدف بن چکے ہےں ۔سا نحہ دربار حضرت عبداللہ شا ہ غازیؒ ہو یا سا نحہ دربار حضرت سخی سرورؒ ہو یا سا نحہ دربار علی ہجوےریؒ دا تاگنج بخش ہو یا سا نحہ دربار بابا فر یدالدےن مسعودؒ ان تما م سا نحا ت میں غیر ملکی ہا تھ ملو ث ہو نے کے امکا ن کوقطعی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے ۔غےر ملکی قوتےں اےک بار پھر ملک مےں فرقہ وارےت کا زہر پھیلانے کے لےے نئی منصوبہ بندی سے فتنہ انگےزی کرر ہی ہےں ۔ اس با ت کو مزےدتقو یت اس دلیل سے بھی ملتی ہے کہ امر یکی جا سو س ریمنڈ ڈیوس کو جب گر فتا کیا گیا توذرائع کے مطابق اسکے قبضہ سے سیکور ٹی فورسز نے اہم مقا مات کے نقشے اور مزارات کی تصا ویر برآمد کیں ۔ مگر ہما رے محب وطن حکمرا نوں نے امر یکی دبا و پر گھٹنے ٹیکتے ہو ئے امر یکی جا سو س ریمنڈ ڈیوس کو با عزت امر یکہ رو ا نہ کر دیا ۔۔
 مزارات پر بم دھماکوں کے ذرےعے فرقہ وارےت کی آگ بھڑکانے کے سلسلہ مےںدو سال قبل پاکپتن مےں عظیم صوفی بزرگ حضرت بابا فرےد الدےن مسعود گنج شکرؒ کے مزار مبارک کے باہر شرقی دروازہ پر 25 اکتوبر 2010ءمےںبم دھماکہ کیا گےا جس مےں چار افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بےٹھے اور 13 زخمی ہوئے۔لیکن آج تک ان دھماکوں مےں ملوث کوئی مجرم تمام تر دعو¶ں کے باوجود گرفتار نہ ہو سکا ملک مےں ہونے والے بےشتر دھماکوں کو خود کش قرار دےکر قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ دارےوں سے بری الذمہ ہونےکی کوشش مےں کامےاب ہےں ۔ شر قی د روازہ جو گزشتہ سات سوسالوں سے زائرےن کی آمدورفت کے لےے استعمال ہوتا رہا اور جس دروزاہ کوبر صغےر کے غےر مسلم حکمرانوں کے دور مےں بھی بند نہےں کیا گےااسے انتظا میہ نے سیکورٹی انتظا ما ت کی آڑ میں بند کر کے در با ر کے اوقات مقر کر دئیے فجر سے عشاءکی نماز تک دربار زا ئر ین کے لئے کھلا رہے گا بعد نماز عشاءپولیس دربار کو زئر ین کی آمد ورفعت کے لئے بند کر دیتی ہے ۔ ایک عقیدت مند کی رٹ پر ہا ئی کو رٹ کے حکم پر پولیس نے دربا کو جمعرات اور جمعہ کو زائر ین کے لئے چو بیس گھنٹے اوپن کردیا ہے ۔دربار کے اوقات مقر ہو نے کی وجہ سے پا کپتن میں شعبہ ٹرانسپورٹ کو بھی بری طرح دھچکا لگا ہے۔ دروازہ کی بندش سے درگاہ بازار مےں قائم دکانوں کا کاروبار بری طرح متاثر ہوا اور بے روزگاری کا شکار ان سےنکڑوں لوگوں کی فرےاد پر نہ توضلعی انتظامےہ اورنہ ہی پنجاب حکومت نے کوئی کان دھرے اور سےکےورٹی کے نام پر ان افراد کو بے روزگاری کا شکار بنا کربے ےارومددگار چھوڑ دےا گےا ہے۔ اسی طرح دربار کے جنوبی راستہ کو جسے زائرےن کی آمد و رفت کے لےے کھلا رکھاگےا اس کے ساتھ ملحقہ بازار کو بھی اےک دےوار کے ذرےعے علیحدہ کر دےا گےا پولیس کی طرف سے سیکورٹی نا م پر کئے گئے اقدام سے پھول ، تبرکات،مذہبی کتابےں اور چادرےں فروخت کرنے والے بے شمار افراد بری طرح متاثر ہوئے ۔تاہم موجودہ آئی جی پنجاب حاجی حبےب الرحمن نے خصوصی دلچسپی لے کر اس اہم مسئلہ کے حل پر توجہ دی اور بالآخر انہوں نے قدےمی شرقی دروازہ کو کھلوانے مےں کامےابی حاصل کی شرقی درواز کو دوبار ہ زا ئر ین کے لئے کھو لتے وقت حا جی حبیب الر حمان نے بابا جی ؒ کے عقیدت مندو ں سے وعدہ کیا تھا کہ سیکو رٹی انتظا ما ت کو بہتر بنا کر دربار شریف کو زا ئر ین کے لئے چو بیس گھنٹے کھول دیا جا ئے عقیدت مند حا جی حبیب الر حمان سے اس وعدہ پر عمل درامد کے منتظر ہیں اس دروازہ کے کھلنے سے لوگوں کے روزگار کا سلسلہ شروع ہو گےا ۔دربار پر سےکورٹی کے حوالہ سے انتطامات کو خاصا بہتر کیا گےا ہے اور محکمہ اوقاف کی طرف سے اندرون دربارجدےد ترےن سےکےورٹی کیمرے نصب کر دےئے گئے ہےں جن کی مدد سے دربار کے اندر دن اور رات کے وقت ان کیمروں کی مدد سے مانےٹرنگ کا عمل جاری ہے جبکہ جد ید آلات کی مدد سے پولیس بھی جامہ تلاشی کے عمل کو جاری رکھے ہوئے ہے۔
مر کز ی صدر تحر یک فیضا ن او لیا پا کستا ن دیوان عظمت سید محمد چشتی نے سا نحہ بابا فر ید کی کے دوسال مکمل ہو نے پر اپنے خیا لا ت کا اظہار کر تے ہو ئے کہا کہ دہشت گردو ں نے او لیا کرا م کی در گا ہو ں کو نشا نہ بنا کر یہ ثا بت کر دیا ہے کہ انکا دین اسلام سے کو ئی تعلق نہیں ہے انہو ں نے کہا کہ اسلا م امن و آشتی کا مذ ہب ہے اور حضر ت با با فرید نے پیا ر اور محبت کا درس دیکر لا کھو ں لو گو ں کو مسلما ن کیا انکی در گا ہ پر ہزارو ں بے آسرا افراد کو رہنے کے لئے رہا ئش پیٹ بھر نے کے لئے کھا نہ اور تن ڈ ھا پنے کے لئے کپڑا میسر تھا مگر ظا لمو ں نے دہشت گر دی کی آڑ میں انکا آخر ی سہا را تک چھین لیا ہے سیکو رٹی انتظا ما ت کی آڑ میں در گا ہو ں کو رات کو بند کر نا قا بل افسو س امر ہے ۔انہو ں نے وزیراعلیٰ پنجا ب میاں شہبا ز شر یف سے مطا لبہ کیا کہ سیکو رٹی انتظا ما ت کے نا م پر زا ئر ین کی تذلیل کا سلسلہ فوری بند کیا جا ئے ۔
دربارسید محمود علی شاہ کے سجادہ نشین پیر حماد علی شاہ رضا بخاری کے ملزمان کی عدم گرفتار ی کو سخت تنقید کا نشا نہ بنا تے ہو ئے اسے سیکو رٹی ادارو ں کی کمز رو ی قرار دیا انہو ں نے کہا کہ سیورٹی اہلکارو ں نے دربا ر شر یف پر دہشت گردی کے وا قع کے بعد دہشت گر دو ں کو گرفتار کر نے کی بجا ئے ۔دربا ر پر آنے وا لے زا ئر ین کو سیکورٹی کے نام پر تنگ کر رکھا ہے ۔