حضرت خواجہ نور محمد چشتی مہاروی کھرل

رفیع رضا کھرل

خواجہ نور محمد مہاروی کھرل14 رمضان 1146ھ کو چشتیاں بہاولنگر کی بستی چھوٹھاسہ مہار شریف میں پیدا ہوئے آپ کے والد کا اسم گرامی پھندال خاں کھرل اور و الدہ کا نام عاقل خاتون تھا۔ آپ کا سلسلہ چشتیہ ہے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے گاﺅں مہار شریف سے حاصل کی پھر تعلیم و تربیت اور فکری و روحانی فیض پانے کے لئے ڈیرہ غازی خاں لاہور اور پھر دہلی تشریف لے گئے اور یہاں پر حضرت خواجہ فخرالدین دھلوی کے مرید ہوئے جو نظام الدین اولیا ؒاور بابا فرید شکر گنجؒ پاکپتن والوں کے مرید تھے۔ اس وجہ سے آپ پاکپتن شریف سے بے حد عقیدت رکھتے تھے اور اس طرح آپ کا سلسلہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ سے جا ملتا ہے۔ آپ اکثر جمعة المبارک کیلئے پاکپتن تشریف لے جاتے۔ طبیعت کی ناسازی اور ضعف العمری کی وجہ سے آپ کو شکر گنجؒ کی طرف سے بشارت ہوئی کہ پرانی چشتیاں میں میرے پوتے بابا تاج سرور مدفون ہیں وہاں پر جمعة المبارک کی ادائیگی کیا کرو۔ بعد ازاں آپ نے اس درگاہ مبارکہ پر باقاعدہ حاضری دینا شروع کی اور باقی زندگی یہیں گزار دی۔
آپ کی اولاد مبارکہ میں تین بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔ آپ مادر زاد ولی تھے۔ ایک روایت ہے کہ ایک فقیر نے والدہ محترمہ کو دیکھ کر کہا کہ دختر نیک اختر کے پہلو میں لال چھپا ہے۔ ایک اور بزرگ نے آپ کی والدہ محترمہ کو دیکھ کر فرمایا اور تعزیم کیلئے کھڑے ہو گئے کہ زمانہ قطب اور آفتاب جہاں تمہاری پیشانی میں جلوہ گر ہے۔ آپ کے کشف و روحانیت کا سلسلہ ملک کے گوشہ گوشہ میں پھیلا ہوا ہے۔ آپ کے خلیفہ اول شاہ سلیمان تونسوی تھے۔ جن پر آپ انتہائی محبت اور شفقت فرماتے تھے۔ ایک روایت ہے کہ ایک شخص آپ سے بیعت ہونے کیلئے حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ تم بڑی دیر سے آئے ہو کہ دودھ کی بالائی تو پیر پٹھان کھا گیا۔ یعنی میری فقیری، کشف اور روحانیت کا زیادہ حصہ شاہ سلیمان تونسوی لے گئے ہیں، باقی لسی رہ گئی ہے۔
آپ کے خلفاءمیں حضرت غلام فرید چاچڑاں شریف کوٹ مٹھن والے جن کی کافیاں دل موہ لیتی ہیں۔ نواب آف بہاولپور، محمد بھاول خا ثانی کو بھی آپ سے والہانہ عقیدت تھی جو آپ کی بیعت بھی ہوئے۔ یہ سلسلہ حضرت خواجہ غلام رسول توگیری، خواجہ نور محمد نکی مانیکا حضرت خواجہ عبدالکریم نوری، منڈی صادق گنج اور حضرت خواجہ خدا بخش خیر پور ٹامے والی تک جاتا ہے۔
قبلہ عالم کا وصال 1205ھ میں ہوا اورہر سال یکم تا تین ذوالحج آپ کا عرس مبارک بڑی شان و شوکت سے منایا جاتا ہے۔دربار عالیہ پر تمام رسومات کی سرپرستی حضرت خواجہ غلام معین الدین مہاروی سجادہ نشین کر تے ہیں۔ اس مرتبہ بھی عرس کا آغاز محفل حمد و نعت سے شروع ہوا۔ سلسلہ چشتیہ سے منسلک تمام سجادگان محفل میں شریک ہوئے اور مزار اقدس پر حاضری دی۔ عرس مبارک اپنے روایتی انداز میں جاری و ساری ہے۔ بڑی تعداد میں آپ کے عقیدت مند مزار شریف پر حاضری دیں گے۔ تین ذوالحج کو چراغاں کی رات ہو گی اور آخر میں اجتماعی دعا ہو گی۔