سیالکوٹ: نرس کو زیادتی کے بعد قتل کرکے نعش پارک میں پھینک دی، ورثا، نرسوں کا احتجاج

سیالکوٹ (نامہ نگار) گورنمنٹ علامہ اقبال میموریل نرسنگ سکول کی بیس سالہ نرس کو اغوا اور زیادتی کے بعد قتل کرکے نعش قریبی پارک میں پھینک دی۔ نرسوں اور ورثاء نے نعش سڑک پر رکھ کر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ پولیس کے وائرلیس آپریٹر حنیف کی بیٹی مدیحہ حنیف نرسنگ سکول میں فورتھ ائر کے طالبہ تھی اور محمدپورہ میں دیگر طالبات کے ہمراہ رہائش پذیر تھی۔اتوار کی رات کو ساڑھے چھ بجے کے قریب نامعلوم ملزمان نے اسے اغوا کے بعد زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا جس کی نعش خواجہ صفدر روڈ پر واقع پارک کے قریب پھینک کر فرار ہو گئے۔ نرس کی ہلاکت کے واقعہ کے خلاف گورنمنٹ علامہ اقبال ہسپتال کی نرسوں نے ہڑتال کر دی اور اس کی نعش کمشنر روڈ پر رکھ کر احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ مظاہرہ میں مقتولہ کے ورثاء بھی شامل تھے۔ ڈی ایس پی سٹی مقصود لون کے مطابق گائوں رتہ جٹھول کی نرس مدیحہ گورنمنٹ علامہ اقبال ہسپتال میں تعینات تھی جبکہ قتل ہونے والی نرس کے کمرہ میں مقیم تین نرسیں بھی لاپتہ ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔  احتجاج کرنے والی نرسوں نے الزام عائد کیا خواجہ صفدر میڈیکل کالج کی بلڈنگ کی تعمیر کی وجہ سے نرسنگ ہاسٹل بھی مسمار کیا جا چکا ہے جس کی وجہ سے نرسیں کرائے کے مکانوں میں رہائش پذیر ہیں اور اگر نرسنگ ہاسٹل ہوتا تو یہ واقعہ رونما نہ ہوتا۔ نرسوں کے مطابق  ملزمان کی گرفتاریوں تک احتجاجی جاری رہے گا۔