بجلی بحران سنگین، 22 گھنٹے تک لوڈ شیڈنگ، پانی بھی غائب، عوام پریشان

لاہور+شیخوپورہ+ حافظ آباد(نیوز رپورٹر+نامہ نگار خصوصی+نمائندہ نوائے وقت)محکمہ سوئی گیس نے حکومت کی ہدایت کے باوجود بھی پاور یونٹوں کو گیس کی اضافی سپلائی شروع نہیں کی جس کے باعث ملک میں بجلی کی پیداوار میں اضافہ نہیں ہو سکا۔ درجہ حرارت بڑھ جانے کے باعث بجلی کی ڈیمانڈ میں اضافہ ہو گیا، شارٹ فال بڑھ کر سات ہزار میگاواٹ تک پہنچ گیا۔ لوڈ شیڈنگ دورانیہ میں اضافہ کر دیا گیا شہروں میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بڑھا کر 16گھنٹے اور دیہی علاقوں میں 22 گھٹنے تک کر دیا گیا۔ مرمت کے نام پر بھی مختلف فیڈرز چھ سے آٹھ گھنٹے تک کے لئے بند کئے گئے۔ لوڈ شیڈنگ کے خلاف لاہور سمیت مختلف شہروں میں مظاہرے کئے گئے۔ اکثر علاقوں میں پانی کی شدید قلت ہو گئی۔آن لائن کے مطابق حکومتی دعوﺅں کے باوجود بجلی کی پیداوار میں خاطر خواجہ اضافہ نہ ہوسکا۔ تھرمل پاور پلانٹس کو فرنس آئل کی سپلائی یقینی بنانے کے لئے تاحال پی ایس او کو واجبات کی ادائیگیاں نہیں کی جا سکیں۔ وزارت پانی و بجلی نے رواں موسم گرما کے دوران متوقع شدید ترین لوڈشیڈنگ سے نمٹنے کیلئے ملک بھر میں ایئرکنڈیشنرز کے محدود استعمال پر غور شروع کردیا۔ شیخوپورہ سے نامہ نگار خصوصی کے مطابق قیام پور فیڈر پر بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 20 گھنٹے سے بھی تجاوز کر گیا۔ مین بازار، پریس کلب روڈ پر مرکزی انجمن تاجران کے چیئرمین اسلم بلوچ کی قیادت میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ حافظ آباد سے نمائندہ نوائے وقت کے مطابق لوڈشیڈنگ نے کاروبار تباہ کر دیئے۔ جبکہ پاور لومز انڈسٹری پر تالے لگ گئے۔ علاوہ ازیں نگران وفاقی وزیر پانی و بجلی ڈاکپر مصدق ملک نے کہا ہے کہ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کیلئے وزارت خزانہ سے 10 ارب روپے مل گئے ہیں جبکہ وزارت پٹرولیم نے 150 ایم ایم سی ایف ڈی گیس یومیہ فراہمی کی یقین دہانی کرائی ہے جس کے اثرات آئندہ چند روز میں سامنے آئیں گے تاہم بجلی کی لوڈشیڈنگ کے مکمل خاتمہ کیلئے 3 ارب روپے یومیہ درکار ہیں۔