رحیم یار خان، اہلکاروں کی بھرتی کے موقع پر پولیس کے ساتھ تصادم، سابق چیئرمین پنجاب بار سمیت وکلا پر تشدد

رحیم یار خان (کرائم رپورٹر) پولیس اہلکاروں کی بھرتی کے موقع پر پولیس کی جانب سے کچہری روڈ کے اطراف کی سڑکوں کو بیریر لگا کر بند کئے جانے پر وکلاءاور پولیس میں تصادم اور ہاتھا پائی ہوگئی۔ پولیس نے سابق وائس چیئر مین پنجاب بار کونسل سمیت وکلاءپر تشدد، وکلاءسراپا احتجاج بن گئے اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے دفتر کے باہراحتجاجی دھرنا دیا۔ تفصیل کے مطابق گزشتہ روز پولیس اہلکاروں کی بھرتی کے موقع پر پولیس کی جانب سے احاطہ عدالت کے اطراف کی تمام سڑکوں کو بیریر لگا کر بند کر دیا گیا تھا۔ اسی دوران رئیس ممتاز مصطفیٰ ایڈووکیٹ کی جانب سے احاطہ عدالت میں کھڑی گاڑی کو نکالنے پر پولیس اہلکاروں اور سابق وائس چیئر مین پنجاب بار کونسل کے درمیان تو تکرار ہو گئی اور نوبت ہاتھا پائی تک پہنچ گئی اسی دوران پولیس اہلکاروں نے سابق وائس چیئر مین پنجاب بار کونسل کا تشدد کا نشانہ بنایا جس کی اطلاع پر درجنوں وکلاءموقع پر پہنچ گئے اور پولیس اور وکلاءمیں تصادم ہوگیا۔ اسی دوران پولیس اہلکاروں نے محمد مدنی کھوکھر ایڈووکیٹ کو بیہمانہ تشدد کا نشانہ بھی بنایا اس موقع پر وکلاءکی بڑی تعداد نے پولیس اہلکار سے اس کا سرکاری پسٹل اور پولو سٹک چھین لی۔ دریں اثناء ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج رحیم یار خان نے وکلاءکی جانب سے دائر کی جانے والے رٹ کا فیصلہ کرتے ہوئے ڈی پی او اور ایس ایچ او تھانہ سٹی اے ڈویژن سمیت دیگر اہلکاروں کے خلاف دہشت گردی کی دفعات سمیت مقدمہ درج کرنے کے احکامات جاری کردئیے۔ پولیس کی طرف سے عدالتی حکم ماننے سے انکار کرنے پر ڈی ایس پی سٹی سرکل اور ایس ایچ او تھانہ سٹی اے ڈویژن کیخلاف توہین عدالت کے نوٹس بھی جاری کر دئیے گئے۔ دریں اثناءسابق وائس چیئرمین پنجاب بار کونسل پر مبینہ پولیس تشدد کیخلاف آج پنجاب بار کونسل کی اپیل پر وکلا نے آج پنجاب بھر میں عدالتوں کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔